@rehmanwrites2310: بعض اوقات انسان معافی مانگنے میں اتنی دیر کر دیتا ہے کہ معافی باقی رہ جاتی ہے اور جس سے مانگنی ہوتی ہے وہ نہیں رہتا۔ پھر دل میں ایک عجیب سی ویرانی بس جاتی ہے۔ ایسی ویرانی جسے نہ وقت بھر سکتا ہے، نہ مصروفیت، نہ نئے لوگ۔ بس ایک احساس ساتھ رہ جاتا ہے کہ کچھ لفظ تھے جو وقت پر کہہ دینے چاہیئے تھے۔ کچھ ہاتھ تھے جنہیں وقت پر تھام لینا چاہیئے تھا۔ کچھ رشتے تھے جنہیں انا سے زیادہ اہم سمجھ لینا چاہیئے تھا۔ پھر ایک دن خبر آتی ہے اور سب کچھ ختم ہو جاتا ہے۔ اتنی خاموشی سے کہ یقین ہی نہیں آتا۔ دل بار بار یہی سوچتا رہتا ہے کہ ابھی دروازہ کھلے گا، ابھی فون آئے گا، ابھی بات ہو جائے گی، مگر کچھ دروازے ایک بار بند ہو جائیں تو پھر کبھی نہیں کھلتے۔ اس کے بعد انسان کے پاس صرف یادیں رہ جاتی ہیں اور وہ معذرتیں جو سینے میں دفن رہ گئیں۔ سب سے زیادہ تکلیف جدائی نہیں دیتی، تکلیف وہ باتیں دیتی ہیں جو کہی نہ جا سکیں۔ وہ محبت جو ظاہر نہ ہو سکی۔ وہ افسوس جو دل میں رہ گیا۔ وہ ایک لفظ "معاف کر دو" جو ہونٹوں تک آ کر واپس لوٹ گیا۔ پھر برسوں بعد بھی جب اُس شخص کا خیال آتا ہے تو دل کے کسی کونے میں ایک درد جاگ اٹھتا ہے۔ ایسا درد جو رلاتا نہیں، بس اندر ہی اندر انسان کو کھاتا رہتا ہے۔ میں نے جانا ہے کہ کچھ معذرتیں واقعی میت کے ماتھے پر بوسے کی مانند ہوتی ہیں۔ ان میں محبت بھی ہوتی ہے، ندامت بھی، آنسو بھی اور سچائی بھی... مگر وہ سب کچھ اُس وقت بے معنی ہو جاتا ہے جب سامنے والا انہیں سننے کے لیے موجود نہ ہو۔ پھر انسان اپنی ہی یادوں کے قبرستان میں کھڑا رہ جاتا ہے، ہاتھ میں معافی لیے، آنکھوں میں نمی لیے، اور دل میں ایک ایسا پچھتاوا لیے جو شاید آخری سانس تک ساتھ رہتا ہے
🥺🥺🥺🥺..
ankhein num ho gai hein caption read kr k .
mera bhai rao sarfraz ki yad aa gai ..dill phir se preshan ho gya hy..
bht ahsas or muhabat rakhne wala shaks tha ..jitni muhabat us ne banti or humein di ....us ka ka bta nahi ska k dill ki kuch batein .jo us se dill ki kerni thi wo adhori reh gai hein ..achanak hadsay me chla gya .,
2 mah ho gaye use gaye ..dill aj b nahi manta k wo chlaya gya ...btana chahiye k kitne muhabat kerty hein us se .
ALLAH mere bhai k qabar ko roshan or wasee rakhna ...ameen😭😭😭😭
2026-09-04 13:16:41
5
Ch Shawal Fiaz :
ادھورے سلسلے وقت کے ساتھ مزید اذیت کا سبب بنتے💔
2026-09-04 09:20:37
15
گوندل_صاحب✨🙂 :
Caption please
2026-09-04 07:53:57
2
🤗wakwak ß𝓻𝓸𝓴𝓮𝓷 💔 :
تم نے تو میرے ہونے کی قدر نہ کی ۔
تم میرے نہ ہونے کا غم کیا کرو گے 🥀
2026-09-04 08:56:37
6
asif ali :
وہ مجھے کچھ بھی نہیں کہا کر گئے چپ چاپ چلے گئے
2026-09-03 22:08:11
8
aroushjutt :
caption plz.....
2026-09-02 07:32:46
3
ASGHAR ALI🇸🇦🇸🇦 :
دنیاکابدترین بوسہ
میت کےچہرےپرمعافی کابوسہ ہے
2026-09-05 17:09:05
3
🌙🥀سا جن۔۔نظا می✌️ ۔ :
sand caption bro
2026-09-03 05:18:25
3
Rana Salman 203 ala :
Kya BAAT hai ...kmal
2026-09-04 07:15:41
4
Adil Jan :
bilkol zabrdst bat Kahi g
2026-09-03 08:45:50
3
아르슬란 ᯤ 𓈆↯1% :
بعض اوقات انسان معافی مانگنے میں اتنی دیر کر دیتا ہے کہ معافی باقی رہ جاتی ہے اور جس سے مانگنی ہوتی ہے وہ نہیں رہتا۔ پھر دل میں ایک عجیب سی ویرانی بس جاتی ہے۔ ایسی ویرانی جسے نہ وقت بھر سکتا ہے، نہ مصروفیت، نہ نئے لوگ۔ بس ایک احساس ساتھ رہ جاتا ہے کہ کچھ لفظ تھے جو وقت پر کہہ دینے چاہیئے تھے۔ کچھ ہاتھ تھے جنہیں وقت پر تھام لینا چاہیئے تھا۔ کچھ رشتے تھے جنہیں انا سے زیادہ اہم سمجھ لینا چاہیئے تھا۔
پھر ایک دن خبر آتی ہے اور سب کچھ ختم ہو جاتا ہے۔ اتنی خاموشی سے کہ یقین ہی نہیں آتا۔ دل بار بار یہی سوچتا رہتا ہے کہ ابھی دروازہ کھلے گا، ابھی فون آئے گا، ابھی بات ہو جائے گی، مگر کچھ دروازے ایک بار بند ہو جائیں تو پھر کبھی نہیں کھلتے۔ اس کے بعد انسان کے پاس صرف یادیں رہ جاتی ہیں اور وہ معذرتیں جو سینے میں دفن رہ گئیں۔
سب سے زیادہ تکلیف جدائی نہیں دیتی، تکلیف وہ باتیں دیتی ہیں جو کہی نہ جا سکیں۔ وہ محبت جو ظاہر نہ ہو سکی۔ وہ افسوس جو دل میں رہ گیا۔ وہ ایک لفظ "معاف کر دو" جو ہونٹوں تک آ کر واپس لوٹ گیا۔ پھر برسوں بعد بھی جب اُس شخص کا خیال آتا ہے تو دل کے کسی کونے میں ایک درد جاگ اٹھتا ہے۔ ایسا درد جو رلاتا نہیں، بس اندر ہی اندر انسان کو کھاتا رہتا ہے۔
میں نے جانا ہے کہ کچھ معذرتیں واقعی میت کے ماتھے پر بوسے کی مانند ہوتی ہیں۔ ان میں محبت بھی ہوتی ہے، ندامت بھی، آنسو بھی اور سچائی بھی... مگر وہ سب کچھ اُس وقت بے معنی ہو جاتا ہے جب سامنے والا انہیں سننے کے لیے موجود نہ ہو۔ پھر انسان اپنی ہی یادوں کے قبرستان میں کھڑا رہ جاتا ہے، ہاتھ میں معافی لیے، آنکھوں میں نمی لیے، اور دل میں ایک ایسا پچھتاوا لیے جو شاید آخری سانس تک ساتھ رہتا ہے
2026-09-04 13:39:56
2
alone :
Right 😭😞😔😭
2026-09-19 12:37:51
0
🪽♠️شامی جلالیہ🪽♠️ :
Beshak 💯🥺❤️🩹
2026-09-04 05:45:31
2
KᕼᗩᑎI 🧸🥀 :
caption
2026-09-18 04:58:25
0
️ :
۱۰۰
2026-09-05 06:40:32
2
CH GjjAR💪 :
2026-09-05 12:11:58
0
🇵🇰🇴🇲چوہدری فہیم فخرے(مری)* :
بعض اوقات انسان معافی مانگنے میں اتنی دیر کر دیتا ہے کہ معافی باقی رہ جاتی ہے اور جس سے مانگنی ہوتی ہے وہ نہیں رہتا۔ پھر دل میں ایک عجیب سی ویرانی بس جاتی ہے۔ ایسی ویرانی جسے نہ وقت بھر سکتا ہے، نہ مصروفیت، نہ نئے لوگ۔ بس ایک احساس ساتھ رہ جاتا ہے کہ کچھ لفظ تھے جو وقت پر کہہ دینے چاہیئے تھے۔ کچھ ہاتھ تھے جنہیں وقت پر تھام لینا چاہیئے تھا۔ کچھ رشتے تھے جنہیں انا سے زیادہ اہم سمجھ لینا چاہیئے تھا۔
پھر ایک دن خبر آتی ہے اور سب کچھ ختم ہو جاتا ہے۔ اتنی خاموشی سے کہ یقین ہی نہیں آتا۔ دل بار بار یہی سوچتا رہتا ہے کہ ابھی دروازہ کھلے گا، ابھی فون آئے گا، ابھی بات ہو جائے گی، مگر کچھ دروازے ایک بار بند ہو جائیں تو پھر کبھی نہیں کھلتے۔ اس کے بعد انسان کے پاس صرف یادیں رہ جاتی ہیں اور وہ معذرتیں جو سینے میں دفن رہ گئیں۔
سب سے زیادہ تکلیف جدائی نہیں دیتی، تکلیف وہ باتیں دیتی ہیں جو کہی نہ جا سکیں۔ وہ محبت جو ظاہر نہ ہو سکی۔ وہ افسوس جو دل میں رہ گیا۔ وہ ایک لفظ "معاف کر دو" جو ہونٹوں تک آ کر واپس لوٹ گیا۔ پھر برسوں بعد بھی جب اُس شخص کا خیال آتا ہے تو دل کے کسی کونے میں ایک درد جاگ اٹھتا ہے۔ ایسا درد جو رلاتا نہیں، بس اندر ہی اندر انسان کو کھاتا رہتا ہے۔
میں نے جانا ہے کہ کچھ معذرتیں واقعی میت کے ماتھے پر بوسے کی مانند ہوتی ہیں۔ ان میں محبت بھی ہوتی ہے، ندامت بھی، آنسو بھی اور سچائی بھی... مگر وہ سب کچھ اُس وقت بے معنی ہو جاتا ہے جب سامنے والا انہیں سننے کے لیے موجود نہ ہو۔ پھر انسان اپنی ہی یادوں کے قبرستان میں کھڑا رہ جاتا ہے، ہاتھ میں معافی لیے، آنکھوں میں نمی لیے، اور دل میں ایک ایسا پچھتاوا لیے جو شاید آخری سانس تک ساتھ رہتا hay
2026-10-22 11:32:55
0
♠️..Hasnain..♠️ :
hay oy
2026-09-01 09:27:27
2
Tufail :
Caption
2026-10-01 01:13:09
0
Abid HussaiN :
2026-09-17 09:46:41
0
🇵🇰🇴🇲چوہدری فہیم فخرے(مری)* :
ہے کہ معافی باقی رہ جاتی ہے اور جس سے مانگنی ہوتی ہے وہ نہیں رہتا۔ پھر دل میں ایک عجیب سی ویرانی بس جاتی ہے۔ ایسی ویرانی جسے نہ وقت بھر سکتا ہے، نہ مصروفیت، نہ نئے لوگ۔ بس ایک احساس ساتھ رہ جاتا ہے کہ کچھ لفظ تھے جو وقت پر کہہ دینے چاہیئے تھے۔ کچھ ہاتھ تھے جنہیں وقت پر تھام لینا چاہیئے تھا۔ کچھ رشتے تھے جنہیں انا سے زیادہ اہم سمجھ لینا چاہیئے تھا۔
پھر ایک دن خبر آتی ہے اور سب کچھ ختم ہو جاتا ہے۔ اتنی خاموشی سے کہ یقین ہی نہیں آتا۔ دل بار بار یہی سوچتا رہتا ہے کہ ابھی دروازہ کھلے گا، ابھی فون آئے گا، ابھی بات ہو جائے گی، مگر کچھ دروازے ایک بار بند ہو جائیں تو پھر کبھی نہیں کھلتے۔ اس کے بعد انسان کے پاس صرف یادیں رہ جاتی ہیں اور وہ معذرتیں جو سینے میں دفن رہ گئیں۔
سب سے زیادہ تکلیف جدائی نہیں دیتی، تکلیف وہ باتیں دیتی ہیں جو کہی نہ جا سکیں۔ وہ محبت جو ظاہر نہ ہو سکی۔ وہ افسوس جو دل میں رہ گیا۔ وہ ایک لفظ "معاف کر دو" جو ہونٹوں تک آ کر واپس لوٹ گیا۔ پھر برسوں بعد بھی جب اُس شخص کا خیال آتا ہے تو دل کے کسی کونے میں ایک درد جاگ اٹھتا ہے۔ ایسا درد جو رلاتا نہیں، بس اندر ہی اندر انسان کو کھاتا رہتا ہے۔
میں نے جانا ہے کہ کچھ معذرتیں واقعی میت کے ماتھے پر بوسے کی مانند ہوتی ہیں۔ ان میں محبت بھی ہوتی ہے، ندامت بھی، آنسو بھی اور سچائی بھی... مگر وہ سب کچھ اُس وقت بے معنی ہو جاتا ہے جب سامنے والا انہیں سننے کے لیے موجود نہ ہو۔ پھر انسان اپنی ہی یادوں کے قبرستان میں کھڑا رہ جاتا ہے، ہاتھ میں معافی لیے، آنکھوں میں نمی لیے، اور دل میں ایک ایسا
2026-10-22 11:32:18
0
乙unαᎥr 👑 🦅 :
عض اوقات انسان معافی مانگنے میں اتنی دیر کر دیتا ہے کہ معافی باقی رہ جاتی ہے اور جس سے مانگنی ہوتی ہے وہ نہیں رہتا۔ پھر دل میں ایک عجیب سی ویرانی بس جاتی ہے۔ ایسی ویرانی جسے نہ وقت بھر سکتا ہے، نہ مصروفیت، نہ نئے لوگ۔ بس ایک احساس ساتھ رہ جاتا ہے کہ کچھ لفظ تھے جو وقت پر کہہ دینے چاہیئے تھے۔ کچھ ہاتھ تھے جنہیں وقت پر تھام لینا چاہیئے تھا۔ کچھ رشتے تھے جنہیں انا سے زیادہ اہم سمجھ لینا چاہیئے تھا۔
پھر ایک دن خبر آتی ہے اور سب کچھ ختم ہو جاتا ہے۔ اتنی خاموشی سے کہ یقین ہی نہیں آتا۔ دل بار بار یہی سوچتا رہتا ہے کہ ابھی دروازہ کھلے گا، ابھی فون آئے گا، ابھی بات ہو جائے گی، مگر کچھ دروازے ایک بار بند ہو جائیں تو پھر کبھی نہیں کھلتے۔ اس کے بعد انسان کے پاس صرف یادیں رہ جاتی ہیں اور وہ معذرتیں جو سینے میں دفن رہ گئیں۔
سب سے زیادہ تکلیف جدائی نہیں دیتی، تکلیف وہ باتیں دیتی ہیں جو کہی نہ جا سکیں۔ وہ محبت جو ظاہر نہ ہو سکی۔ وہ افسوس جو دل میں رہ گیا۔ وہ ایک لفظ "معاف کر دو" جو ہونٹوں تک آ کر واپس لوٹ گیا۔ پھر برسوں بعد بھی جب اُس شخص کا خیال آتا ہے تو دل کے کسی کونے میں ایک درد جاگ اٹھتا ہے۔ ایسا درد جو رلاتا نہیں، بس اندر ہی اندر انسان کو کھاتا رہتا ہے۔
میں نے جانا ہے کہ کچھ معذرتیں واقعی میت کے ماتھے پر بوسے کی مانند ہوتی ہیں۔ ان میں محبت بھی ہوتی ہے، ندامت بھی، آنسو بھی اور سچائی بھی... مگر وہ سب کچھ اُس وقت بے معنی ہو جاتا ہے جب سامنے والا انہیں سننے کے لیے موجود نہ ہو۔ پھر انسان اپنی ہی یادوں کے قبرستان میں کھڑا رہ جاتا ہے، ہاتھ میں معافی لیے، آنکھوں میں نمی لیے، اور دل میں ایک ایسا پچھتاوا لیے جو شاید آخری سانس تک ساتھ رہتا ہے
2026-09-09 02:05:26
0
亗 𝐌𝐔𝐇𝐀𝐌𝐌𝐀𝐃 𝐔𝐒𝐌𝐀𝐍 :
check my profile post no 7
2026-09-04 16:27:09
0
tanveer hashmi :
🥺😭🥺
2026-09-03 18:03:09
2
To see more videos from user @rehmanwrites2310, please go to the Tikwm
homepage.