@liu_17_: Membalas @gen2stand_ #superjunior #dance

Liu
Liu
Open In TikTok:
Region: ID
Tuesday 01 September 2026 14:29:46 GMT
342
33
2
0

Music

Download

Comments

muhammadfirdaus14882
Muhammad Firdaus :
awesome 👍👏
2026-09-01 17:01:22
1
renitaar_
r_renitaa :
😁😁😁
2026-09-01 15:04:11
1
To see more videos from user @liu_17_, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

صحرا کی تنہا ملکہ — مائی صاحبہ بیگم جان کا پراسرار مقبرہ قلعہ ڈیراور کے وسیع شاہی قبرستان میں جہاں عباسی خاندان کے نواب اور شاہی افراد آسودۂ خاک ہیں، وہیں ایک مقبرہ ایسا بھی ہے جو اپنی تنہائی، الگ تھلگ حیثیت اور پراسرار خاموشی کے باعث سب سے منفرد دکھائی دیتا ہے۔ یہ مائی صاحبہ بیگم جان کا مقبرہ ہے، جو ریاست بہاولپور کی شاہی تاریخ کا ایک اہم مگر کم معروف باب ہے۔ 📍 مقام یہ مقبرہ قلعہ ڈیراور کے شاہی قبرستان کے جنوب مشرقی حصے میں مرکزی احاطے سے الگ واقع ہے، جو اسے دیگر شاہی مقابر سے ممتاز بناتا ہے۔ 🕰️ دور یہ مقبرہ عباسی ریاست کے آخری دور سے تعلق رکھتا ہے اور بیسویں صدی کے آغاز کی شاہی تعمیرات میں شمار ہوتا ہے۔ 👤 متعلقہ شخصیت مائی صاحبہ بیگم جان، جن کا اصل نام کندن بی بی تھا، عباسی خاندان کی ایک بزرگ اور بااثر خاتون تھیں۔ وہ نواب صادق محمد خان عباسی پنجم کی دادی تھیں اور اپنی دینداری، سخاوت اور غریب پروری کے باعث عوام میں بے حد احترام رکھتی تھیں۔ 📜 وصال آپ کا انتقال 12 ربیع الاول 1333 ہجری، بمطابق 30 جنوری 1915ء کو صبح کے وقت ہوا، جس کے بعد انہیں اس منفرد مقام پر سپردِ خاک کیا گیا۔ 🏛️ تعمیراتی تفصیل یہ مقبرہ جنوبی پنجاب کے روایتی شاہی طرزِ تعمیر کا ایک حسین نمونہ ہے۔ * نیلی، سفید اور فیروزی ملتانی کاشی کاری * سرخ اینٹوں کی مضبوط اور نفیس تعمیر * بلند گنبد اور خوبصورت محرابی دروازے * اندرونی دیواروں پر قلم کاری اور پھولدار نقوش * سرہانے پر بسم اللہ اور کلمہ طیبہ کندہ ہے اس کی ساخت میں ملتان اور اوچ شریف کے قدیم فنِ تعمیر کی جھلک واضح دکھائی دیتی ہے۔ 📖 مختصر تاریخی پس منظر مائی صاحبہ نہ صرف شاہی خاندان کی بزرگ خاتون تھیں بلکہ انہوں نے کئی رفاہی اور مذہبی کاموں میں حصہ لیا۔ روایت ہے کہ خانپور میں ایک مسجد کے لیے زمین وقف کرنے کا اعزاز بھی انہی سے منسوب ہے۔ 🥀 موجودہ حالت وقت کے اثرات نے اس عظیم یادگار کو شدید متاثر کیا ہے۔ * اصل دروازہ غائب ہو چکا ہے * پلستر جھڑ رہا ہے * گنبد موسمی شدت سے متاثر ہے * اندرونی محرابیں خستہ حال ہو چکی ہیں ❓ تاریخ کا ایک معمہ آج بھی یہ سوال قائم ہے کہ ایک شاہی خاندان کی اتنی اہم خاتون کو مرکزی شاہی قبرستان سے الگ کیوں دفن کیا گیا؟ یہی سوال اس مقبرے کو مزید پراسرار اور تاریخی اعتبار سے اہم بناتا ہے۔ 📖 حوالہ نوٹ: یہ معلومات مقامی روایات، ریاست بہاولپور کے تاریخی ریکارڈ اور چولستانی آثار کی تحقیق کی بنیاد پر مرتب کی گئی ہیں۔ ⚠️ اہم نوٹ: یہ تحریر تاریخی معلومات اور ثقافتی شعور کے فروغ کے لیے پیش کی گئی ہے۔ بیان کردہ مواد کا مقصد صرف تاریخ کو محفوظ کرنا اور عوام تک پہنچانا ہے۔ مختلف تاریخی روایات میں جزوی اختلاف ممکن ہے۔ #PakistanHeritageInfo #DerawarFort #BahawalpurHistory #CholistanHeritage #RoyalTombs@tiktok creators
صحرا کی تنہا ملکہ — مائی صاحبہ بیگم جان کا پراسرار مقبرہ قلعہ ڈیراور کے وسیع شاہی قبرستان میں جہاں عباسی خاندان کے نواب اور شاہی افراد آسودۂ خاک ہیں، وہیں ایک مقبرہ ایسا بھی ہے جو اپنی تنہائی، الگ تھلگ حیثیت اور پراسرار خاموشی کے باعث سب سے منفرد دکھائی دیتا ہے۔ یہ مائی صاحبہ بیگم جان کا مقبرہ ہے، جو ریاست بہاولپور کی شاہی تاریخ کا ایک اہم مگر کم معروف باب ہے۔ 📍 مقام یہ مقبرہ قلعہ ڈیراور کے شاہی قبرستان کے جنوب مشرقی حصے میں مرکزی احاطے سے الگ واقع ہے، جو اسے دیگر شاہی مقابر سے ممتاز بناتا ہے۔ 🕰️ دور یہ مقبرہ عباسی ریاست کے آخری دور سے تعلق رکھتا ہے اور بیسویں صدی کے آغاز کی شاہی تعمیرات میں شمار ہوتا ہے۔ 👤 متعلقہ شخصیت مائی صاحبہ بیگم جان، جن کا اصل نام کندن بی بی تھا، عباسی خاندان کی ایک بزرگ اور بااثر خاتون تھیں۔ وہ نواب صادق محمد خان عباسی پنجم کی دادی تھیں اور اپنی دینداری، سخاوت اور غریب پروری کے باعث عوام میں بے حد احترام رکھتی تھیں۔ 📜 وصال آپ کا انتقال 12 ربیع الاول 1333 ہجری، بمطابق 30 جنوری 1915ء کو صبح کے وقت ہوا، جس کے بعد انہیں اس منفرد مقام پر سپردِ خاک کیا گیا۔ 🏛️ تعمیراتی تفصیل یہ مقبرہ جنوبی پنجاب کے روایتی شاہی طرزِ تعمیر کا ایک حسین نمونہ ہے۔ * نیلی، سفید اور فیروزی ملتانی کاشی کاری * سرخ اینٹوں کی مضبوط اور نفیس تعمیر * بلند گنبد اور خوبصورت محرابی دروازے * اندرونی دیواروں پر قلم کاری اور پھولدار نقوش * سرہانے پر بسم اللہ اور کلمہ طیبہ کندہ ہے اس کی ساخت میں ملتان اور اوچ شریف کے قدیم فنِ تعمیر کی جھلک واضح دکھائی دیتی ہے۔ 📖 مختصر تاریخی پس منظر مائی صاحبہ نہ صرف شاہی خاندان کی بزرگ خاتون تھیں بلکہ انہوں نے کئی رفاہی اور مذہبی کاموں میں حصہ لیا۔ روایت ہے کہ خانپور میں ایک مسجد کے لیے زمین وقف کرنے کا اعزاز بھی انہی سے منسوب ہے۔ 🥀 موجودہ حالت وقت کے اثرات نے اس عظیم یادگار کو شدید متاثر کیا ہے۔ * اصل دروازہ غائب ہو چکا ہے * پلستر جھڑ رہا ہے * گنبد موسمی شدت سے متاثر ہے * اندرونی محرابیں خستہ حال ہو چکی ہیں ❓ تاریخ کا ایک معمہ آج بھی یہ سوال قائم ہے کہ ایک شاہی خاندان کی اتنی اہم خاتون کو مرکزی شاہی قبرستان سے الگ کیوں دفن کیا گیا؟ یہی سوال اس مقبرے کو مزید پراسرار اور تاریخی اعتبار سے اہم بناتا ہے۔ 📖 حوالہ نوٹ: یہ معلومات مقامی روایات، ریاست بہاولپور کے تاریخی ریکارڈ اور چولستانی آثار کی تحقیق کی بنیاد پر مرتب کی گئی ہیں۔ ⚠️ اہم نوٹ: یہ تحریر تاریخی معلومات اور ثقافتی شعور کے فروغ کے لیے پیش کی گئی ہے۔ بیان کردہ مواد کا مقصد صرف تاریخ کو محفوظ کرنا اور عوام تک پہنچانا ہے۔ مختلف تاریخی روایات میں جزوی اختلاف ممکن ہے۔ #PakistanHeritageInfo #DerawarFort #BahawalpurHistory #CholistanHeritage #RoyalTombs@tiktok creators

About