@qm.quote.hub: فریڈرک نطشے کا یہ قول انسان کے ظرف، ذہنی وسعت اور اندرونی طاقت کی ایک بے مثال اور سچی تصویر کشی کرتا ہے۔ اس قول کی سب سے بڑی سچائی یہ ہے کہ ایک عام اور کمزور انسان کسی چھوٹے تالاب یا ندی کی مانند ہوتا ہے۔ تالاب میں اگر تھوڑی سی گندگی یا ناپاکی ڈال دی جائے تو وہ پورا تالاب آلودہ اور بدبودار ہو جاتا ہے۔ اسی طرح کم ظرف انسان ذرا سی منفی بات، برائی، تنقید یا دوسروں کے برے رویے سے فوراً متاثر ہو جاتا ہے، اس کا دل کینہ اور زہر سے بھر جاتا ہے اور وہ خود بھی اسی برائی کا حصہ بن جاتا ہے۔ اس کے برعکس نطشے انسان کو ایک وسیع سمندر بننے کا درس دیتا ہے۔ سمندر کا ظرف اور اس کی گہرائی اتنی بے انتہا ہوتی ہے کہ اس میں گندے نالے اور آلودہ ندیاں آ کر گرتی بھی رہیں، تو بھی وہ اپنی اصل، اپنی وسعت اور اپنی پاکیزگی نہیں کھوتا۔ وہ اس تمام آلودگی کو اپنے اندر جذب کر کے غائب کر دیتا ہے اور خود ناپاک نہیں ہوتا۔ یہ قول ہمیں یہ سچائی سکھاتا ہے کہ انسان کی اصل عظمت اور طاقت یہ نہیں ہے کہ وہ ایک پاکیزہ یا الگ تھلگ ماحول میں اچھائی قائم رکھے، بلکہ اصل طاقت یہ ہے کہ وہ برائی، منافقت اور آلودگی سے بھری دنیا میں رہتے ہوئے بھی اپنے اندر اتنی گہرائی پیدا کرے کہ دوسروں کی برائیاں اس کی اپنی ذات، اخلاق اور سکون کو خراب نہ کر سکیں۔ جب انسان کا ظرف سمندر جیسا بڑا ہو جاتا ہے تو دنیا کی کوئی ناپاکی اسے آلودہ نہیں کر سکتی۔ #foryoupagе #lifelesson #trending #quotes #LearnOnTikTok