مجھے اُداس کر گئے ہوخوش رہو! میرے مزاج پڑھ گئے ہو خوش رہو! میرے لیے نہ رُک سکے تو کیا ہوا، جہاں کہیں ٹہر گئے ہو خوش رہو! خوشی ہوئی ہے آج تم کو دیکھ کر، بہت نکھر سنور گئے ہو خوش رہو، اُداس ہو کسی کی بے وفائی پر، وفا کہیں تو کر گئے ہو خوش رہو! گلی میں اور لوگ بھی تھے آشنا، ہمیں سلام کر گئے ہو خوش رہو! تمھیں تو میری دوستی پہ ناز تھا، اسی سے اب مُکر گئے ہو خوش رہو! کسی کی زندگی بنو کہ بندگی، ہمارے لیے تو مر گئے ہو خوش رہو 🥲🥀