@milagrosrz200124567:

milagros Rz
milagros Rz
Open In TikTok:
Region: AR
Tuesday 01 September 2026 23:56:39 GMT
8587
439
7
0

Music

Download

Comments

angel.medina4012
Angel Medina :
hermosa un saludo para linda 😍
2026-09-08 22:30:52
0
reki2306
reki :
me dedicarías un mentira colgala por ser el primer comentario por favor
2026-09-01 23:58:30
0
yonatanbouchet15
yonatan.bouchet15 :
♥️
2026-09-02 01:11:27
0
alexandervazq450
Alexander Vazq :
🥰🥰
2026-09-02 00:31:22
0
angelromero4760
angelromero4760 :
❤️❤️❤️❤️
2026-09-02 18:48:35
0
To see more videos from user @milagrosrz200124567, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

انسان اکثر یہ سمجھتا ہے کہ علم کی باتیں دلائل اور منطق سے دل بدل جائے گا۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ نفس ایک ایسی سرکش قوت ہے جو زبان کی زد میں نہیں آتی۔ وہ ہر دلیل کا جواب تراش لیتا ہے، ہر نصیحت کو ٹال دیتا ہے، ہر وعدہ کل پر ڈال دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بڑے بڑے واعظ بھی خود اپنے نفس کے ہاتھوں مجبور رہ جاتے ہیں۔ تو پھر تبدیلی کیسے آتی ہے؟ جب دل کے اندر وہ نور جاگتا ہے، معرفت کا نور، یقین کا نور، اللہ کی محبت اور اس کے حضور کا احساس، تو نفس کو کوئی دلیل نہیں دینی پڑتی۔ وہ نور خود ایک ایسی روشنی ہے جس کے سامنے اندھیرا خود بخود پیچھے ہٹ جاتا ہے۔ یہ زبردستی کا معاملہ نہیں، یہ ایک فطری سرنڈر ہے۔ جیسے سورج نکلتے ہی رات کہیں تلاش نہیں کرنی پڑتی، وہ خود چلی جاتی ہے۔ یہ نور کہاں سے آتا ہے؟ یہ ذکر سے آتا ہے، سجدے کی گہرائی سے آتا ہے، راتوں کے اس سناٹے سے آتا ہے جب بندہ اپنے رب کے سامنے بےنقاب ہو کر رو دیتا ہے۔ یہ نور اس وقت جاگتا ہے جب انسان علم کو صرف سننے کی چیز نہیں بلکہ محسوس کرنے کی چیز بنا لیتا ہے۔ جب قرآن صرف پڑھا نہیں جاتا بلکہ دل میں اترتا ہے۔ جب اللہ کا خوف اور اس کی رحمت دونوں ایک ساتھ دل میں بس جائیں۔ کیونکہ ایک وقت ایسا بھی آتا ہے جب انسان گناہ کو صرف گناہ سمجھ کر نہیں چھوڑتا، بلکہ اس لیے چھوڑ دیتا ہے کہ اسے احساس ہوتا ہے کہ میرا رب مجھے دیکھ رہا ہے۔ وہ اکیلا کمرے میں ہوتا ہے، کوئی انسان اسے نہیں دیکھ رہا ہوتا، لیکن دل کے اندر اللہ کی موجودگی کا احساس اسے روک دیتا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں علم عمل بننا شروع ہوتا ہے۔ اسی لیے اصل کام نصیحت کرنا نہیں، نور جگانا ہے۔ پہلے اپنے اندر، پھر دوسروں کے اندر۔ خود کو بدلنے کی کوشش صرف الفاظ سے نہ کریں بلکہ اس تعلق کو مضبوط کریں جو دل میں روشنی پیدا کرتا ہے۔ نماز، ذکر، تلاوت، توبہ، اور اللہ سے مسلسل رجوع، یہی وہ راستے ہیں جن سے وہ نور جاگتا ہے جس کے سامنے نفس خود بخود جھک جاتا ہے۔ اور یاد رکھیں، نور کا مطلب یہ نہیں کہ انسان کے اندر کبھی خواہش پیدا نہیں ہوگی یا وہ دوبارہ کبھی نہیں گرے گا۔ انسان کمزور ہے، نفس بار بار اٹھے گا، شیطان بار بار بہکائے گا۔ لیکن جس دل میں نور زندہ ہو، وہ گناہ کے بعد وہیں نہیں پڑا رہتا۔ وہ شرمندہ ہوتا ہے، واپس پلٹتا ہے، توبہ کرتا ہے اور دوبارہ اپنے رب کا دروازہ کھٹکھٹاتا ہے۔ شاید اسی لیے اصل کامیابی یہ نہیں کہ آپ نے اپنے نفس کو ہمیشہ کے لیے ختم کر دیا، بلکہ یہ ہے کہ جب بھی نفس آپ کو اللہ سے دور کرے، آپ کا دل دوبارہ اللہ کی طرف پلٹ آئے۔ نفس کو مغلوب کرنے کی جنگ زبان سے نہیں، دل کی روشنی سے جیتی جاتی ہے۔ کیونکہ جب دل میں اللہ کی معرفت کا نور جاگ جائے، تو انسان ہر گناہ سے پہلے صرف یہ نہیں سوچتا کہ لوگ مجھے دیکھ رہے ہیں یا نہیں… وہ سوچتا ہے: میرا اللہ مجھے دیکھ رہا ہے۔ #islamic #deenurdustories #taybiivibes #foryoupage #viral
انسان اکثر یہ سمجھتا ہے کہ علم کی باتیں دلائل اور منطق سے دل بدل جائے گا۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ نفس ایک ایسی سرکش قوت ہے جو زبان کی زد میں نہیں آتی۔ وہ ہر دلیل کا جواب تراش لیتا ہے، ہر نصیحت کو ٹال دیتا ہے، ہر وعدہ کل پر ڈال دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بڑے بڑے واعظ بھی خود اپنے نفس کے ہاتھوں مجبور رہ جاتے ہیں۔ تو پھر تبدیلی کیسے آتی ہے؟ جب دل کے اندر وہ نور جاگتا ہے، معرفت کا نور، یقین کا نور، اللہ کی محبت اور اس کے حضور کا احساس، تو نفس کو کوئی دلیل نہیں دینی پڑتی۔ وہ نور خود ایک ایسی روشنی ہے جس کے سامنے اندھیرا خود بخود پیچھے ہٹ جاتا ہے۔ یہ زبردستی کا معاملہ نہیں، یہ ایک فطری سرنڈر ہے۔ جیسے سورج نکلتے ہی رات کہیں تلاش نہیں کرنی پڑتی، وہ خود چلی جاتی ہے۔ یہ نور کہاں سے آتا ہے؟ یہ ذکر سے آتا ہے، سجدے کی گہرائی سے آتا ہے، راتوں کے اس سناٹے سے آتا ہے جب بندہ اپنے رب کے سامنے بےنقاب ہو کر رو دیتا ہے۔ یہ نور اس وقت جاگتا ہے جب انسان علم کو صرف سننے کی چیز نہیں بلکہ محسوس کرنے کی چیز بنا لیتا ہے۔ جب قرآن صرف پڑھا نہیں جاتا بلکہ دل میں اترتا ہے۔ جب اللہ کا خوف اور اس کی رحمت دونوں ایک ساتھ دل میں بس جائیں۔ کیونکہ ایک وقت ایسا بھی آتا ہے جب انسان گناہ کو صرف گناہ سمجھ کر نہیں چھوڑتا، بلکہ اس لیے چھوڑ دیتا ہے کہ اسے احساس ہوتا ہے کہ میرا رب مجھے دیکھ رہا ہے۔ وہ اکیلا کمرے میں ہوتا ہے، کوئی انسان اسے نہیں دیکھ رہا ہوتا، لیکن دل کے اندر اللہ کی موجودگی کا احساس اسے روک دیتا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں علم عمل بننا شروع ہوتا ہے۔ اسی لیے اصل کام نصیحت کرنا نہیں، نور جگانا ہے۔ پہلے اپنے اندر، پھر دوسروں کے اندر۔ خود کو بدلنے کی کوشش صرف الفاظ سے نہ کریں بلکہ اس تعلق کو مضبوط کریں جو دل میں روشنی پیدا کرتا ہے۔ نماز، ذکر، تلاوت، توبہ، اور اللہ سے مسلسل رجوع، یہی وہ راستے ہیں جن سے وہ نور جاگتا ہے جس کے سامنے نفس خود بخود جھک جاتا ہے۔ اور یاد رکھیں، نور کا مطلب یہ نہیں کہ انسان کے اندر کبھی خواہش پیدا نہیں ہوگی یا وہ دوبارہ کبھی نہیں گرے گا۔ انسان کمزور ہے، نفس بار بار اٹھے گا، شیطان بار بار بہکائے گا۔ لیکن جس دل میں نور زندہ ہو، وہ گناہ کے بعد وہیں نہیں پڑا رہتا۔ وہ شرمندہ ہوتا ہے، واپس پلٹتا ہے، توبہ کرتا ہے اور دوبارہ اپنے رب کا دروازہ کھٹکھٹاتا ہے۔ شاید اسی لیے اصل کامیابی یہ نہیں کہ آپ نے اپنے نفس کو ہمیشہ کے لیے ختم کر دیا، بلکہ یہ ہے کہ جب بھی نفس آپ کو اللہ سے دور کرے، آپ کا دل دوبارہ اللہ کی طرف پلٹ آئے۔ نفس کو مغلوب کرنے کی جنگ زبان سے نہیں، دل کی روشنی سے جیتی جاتی ہے۔ کیونکہ جب دل میں اللہ کی معرفت کا نور جاگ جائے، تو انسان ہر گناہ سے پہلے صرف یہ نہیں سوچتا کہ لوگ مجھے دیکھ رہے ہیں یا نہیں… وہ سوچتا ہے: میرا اللہ مجھے دیکھ رہا ہے۔ #islamic #deenurdustories #taybiivibes #foryoupage #viral

About