@asadi_writes0: اکثر رات بھاری لگتی ہے نہ جب وہ لوگ اچانک یاد آجائیں جنہیں ہم کھونے کا سوچ بھی نہیں سکتے تھے مگر قسمت نے ہمیں ان سے ہمیشہ کیلئے دور کر دیا۔ دن بھر کی بھاگ دوڑ میں انسان اپنے آنسو دنیا سے چھپا لیتا ہے، مگر جیسے ہی رات کی تاریکی گہری ہوتی ہے اور پورا شہر سو جاتا ہے، کھوئے ہوئے اپنوں کی یاد روح کو جھنجھوڑ کر رکھ دیتی ہے۔ وہ کھڑکی کے پاس اکیلا بیٹھ کر دور چاند کو تکتا رہا، دل پر غم کا بوجھ تھا اور آنکھیں ان چہروں کو تلاش کر رہی تھیں جو اب ہمیشہ کے لیے مٹی کے نیچے جا سوئے ہیں۔ والدین کا وہ نرم سایہ، کسی مخلص دوست کی پرخلوص رفاقت، یا وہ قریبی رشتے جن کے بغیر جینے کا کبھی تصور بھی نہیں کیا تھا، اجل نے انہیں ایک پل میں ہم سے جدا کر دیا۔ دل تڑپتا ہے، سینے میں ہوک اٹھتی ہے، مگر تبھی قرآن کی وہ آیت دل کے زخموں پر مرہم رکھ دیتی ہے: "إِنَّا لِلّٰهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ"۔ جب انسان کو یہ یقین آ جاتا ہے کہ وہ سب بھی اللہ کے تھے اور ہم سب کو بھی اسی کے پاس لوٹ کر جانا ہے، تو اضطراب خاموش صبر میں بدل جاتا ہے۔ انسان رات کے آخری پہر ہاتھ اٹھا کر اپنے پیاروں کے لیے مغفرت اور درجات کی بلندی کی دعا مانگتا ہے، اور اپنے رب کی رضا پر سر جھکا دیتا ہے۔ دنیا کی یہ جدائی عارضی ہے، اور مومن کے لیے سب سے بڑا حوصلہ یہی امید ہے کہ جن سے دنیا کی مٹی نے جدا کیا، اللہ کے فضل سے جنت کی ہمیشہ رہنے والی محفلوں میں ان سے دوبارہ ملاقات ہو گی۔