کچھ غلطیاں انسان سے جلدی میں ہو جاتی ہیں مگر اُن کا احساس ساری زندگی ساتھ رہتا ہے
کاش اُس وقت دل کی بات کہنے سے پہلے دل کو سمجھ لیا ہوتا
کافی وقت گزر گیا مگر کچھ یادیں آج بھی وہیں ٹھہری ہیں
پردیس کا غم اور اپنوں کا چہرہ موڑ لینا انسان کو اندر سے خاموش کر دیتا ہے
اب نہ کوئی شکوہ ہے نہ کسی سے گلہ
بس کچھ یادیں ہیں ایک خاموش دل ہے اور اُن کے ساتھ جینا سیکھ لیا ہے