@nyenar_: Victor Drive X Sandai Kitetsu w/ VBS63, 29lbs + ps15% #badmintonstringing #victorsandaikitetsu #vbs63 #senarrakettanjungselor #nyenartanjungselor

nyenar tanjung selor
nyenar tanjung selor
Open In TikTok:
Region: ID
Wednesday 02 September 2026 05:02:11 GMT
893720
10853
328
527

Music

Download

Comments

fbrian3333
MAMA🐉🐉 :
kunci inggris 😭😭
2026-09-03 13:27:46
97
zakwan_ibnu
—pr¡ncé zaxx— :
plissssss samaaaa bangettt
2026-09-04 10:10:56
68
kristoffer.eduard4
WH0 ARE YOU?? :
How many fingers did you have i have 10 fingers
2026-09-07 08:18:25
1
mirza.baby8
mirza baby :
[Tears of joy]
2026-09-13 13:30:40
3
user866074915
꧁✰Aᴋ᭄ÃßÌR™ᴮᵒˢˢ✰꧂ :
দাম কত
2026-09-15 06:45:46
0
teebakkkkkk
zyqqq :
curanggg jadi ada 11
2026-09-05 04:17:51
1
wyonzz01
pwepwek :
ini namanya kelebihan apa ke kurangan
2026-09-07 07:50:35
1
_ez4angga
Kyouziu :
ini itungan nya dibuff apa dinerf🗿
2026-09-05 12:21:09
0
rizz8a
Rizz :
serius nanya itu namanya kekurangan atau kelebihan?
2026-09-04 13:44:38
9
ravel2132
Rav :
2026-09-04 07:55:04
9
dafarah16
Dv👾 :
Hrithik Roshan
2026-09-05 11:10:09
3
ffselamanya15
wahyu :
dua jadi satu
2026-09-04 14:32:36
0
refan_adipati.07
★[REFAN](–_★) :
ketapel kok kecil yak😁
2026-09-05 04:14:55
0
geats61
Geats :
bro ada Kel Ihan yg keren 😁👍 gw aja GK ada kelebihan, main game voli doang iya
2026-09-08 13:40:41
1
rskb_14
EL_KNJT :
2026-09-05 19:13:46
2
iamblack7734
I am black :
wkwkwkw pas di petik kek main gitar
2026-09-04 08:45:27
0
zaki.rafael.nadal
kiii :
dua jadi satu
2026-09-13 01:48:17
0
david_mm120
david_mm12 :
q número es esa llave 🔧
2026-09-06 17:35:04
7
hilmanpahmi205
Sam Petet :
naha aya katepel
2026-09-04 12:41:07
2
gunawan.albukhry
mini Gunawan :
jadi ini kekurangan apa kelebihan😳
2026-09-04 13:27:12
0
asad_mughal_0000
Asad Mughal :
bro have god gifted modification in his hands 😄
2026-09-09 14:50:02
2
rafiprabowo499
Rafi ae 🗿 :
dia pas suit menang terus soalnya gajah nya dua 🗿
2026-09-07 10:52:18
0
31aliansari
Ali Ansari :
hyyyyy Allah
2026-09-13 09:43:56
1
trigger.8x
Lùkä :
Hrithik Roshan
2026-09-13 08:29:04
1
To see more videos from user @nyenar_, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

کیا آپ بھی وہی کر رہے ہیں جو بنی اسرائیل نے کیا تھا؟ بنی اسرائیل صدیوں تک مصر میں فرعون کے زیرِ تسلط رہے۔ وہ غلام تھے، ان پر شدید ظلم اور جسمانی تشدد کیا جاتا تھا، انہیں ذلیل کیا جاتا تھا اور ان کی نسلوں کو ختم کرنے کی کوشش کی جاتی تھی۔ یہ صرف غلامی نہیں تھی، بلکہ ان کی اجتماعی زندگی کا ایک بہت گہرا صدمہ تھا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو ان کی رہنمائی اور نجات کے لیے بھیجا۔ انہوں نے اپنی آنکھوں سے سمندر کو پھٹتے دیکھا، تاکہ وہ اس میں سے گزر سکیں۔ انہوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ جس فرعون سے وہ برسوں ڈرتے رہے، وہ انہی کے سامنے غرق ہو گیا۔ وہ مصر سے نکل آئے۔ جسم آزاد ہو گیا۔ غلامی ختم ہو گئی۔ لیکن کہانی یہاں ختم نہیں ہوئی۔ اب وہ ایک ایسے صحرا میں تھے جہاں نہ کھانے کا انتظام تھا، نہ پانی اور نہ کوئی سایہ۔ پھر اللہ نے براہِ راست ان کی مدد فرمائی۔ ان کے لیے بادلوں کا سایہ کیا اور کھانے کے لیے من و سلویٰ عطا فرمایا۔ لیکن کچھ عرصے بعد انہوں نے شکایت شروع کر دی کہ وہ اس کھانے سے اکتا گئے ہیں۔ انہوں نے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے کہا کہ اللہ سے ہمارے لیے وہی کھانے مانگیے جو ہم مصر میں کھایا کرتے تھے، جیسے کھیرے، لہسن، دالیں اور پیاز۔ لیکن ذرا رک کر سوچیں… یہ خواہشیں کہاں سے آئیں؟ یہ ذائقوں کی یادیں کہاں سے بنیں؟ مصر سے۔ تصور کریں، کوئی شخص آخرکار جیل سے آزاد ہو جائے، اور کچھ عرصے بعد کہے:
کیا آپ بھی وہی کر رہے ہیں جو بنی اسرائیل نے کیا تھا؟ بنی اسرائیل صدیوں تک مصر میں فرعون کے زیرِ تسلط رہے۔ وہ غلام تھے، ان پر شدید ظلم اور جسمانی تشدد کیا جاتا تھا، انہیں ذلیل کیا جاتا تھا اور ان کی نسلوں کو ختم کرنے کی کوشش کی جاتی تھی۔ یہ صرف غلامی نہیں تھی، بلکہ ان کی اجتماعی زندگی کا ایک بہت گہرا صدمہ تھا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو ان کی رہنمائی اور نجات کے لیے بھیجا۔ انہوں نے اپنی آنکھوں سے سمندر کو پھٹتے دیکھا، تاکہ وہ اس میں سے گزر سکیں۔ انہوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ جس فرعون سے وہ برسوں ڈرتے رہے، وہ انہی کے سامنے غرق ہو گیا۔ وہ مصر سے نکل آئے۔ جسم آزاد ہو گیا۔ غلامی ختم ہو گئی۔ لیکن کہانی یہاں ختم نہیں ہوئی۔ اب وہ ایک ایسے صحرا میں تھے جہاں نہ کھانے کا انتظام تھا، نہ پانی اور نہ کوئی سایہ۔ پھر اللہ نے براہِ راست ان کی مدد فرمائی۔ ان کے لیے بادلوں کا سایہ کیا اور کھانے کے لیے من و سلویٰ عطا فرمایا۔ لیکن کچھ عرصے بعد انہوں نے شکایت شروع کر دی کہ وہ اس کھانے سے اکتا گئے ہیں۔ انہوں نے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے کہا کہ اللہ سے ہمارے لیے وہی کھانے مانگیے جو ہم مصر میں کھایا کرتے تھے، جیسے کھیرے، لہسن، دالیں اور پیاز۔ لیکن ذرا رک کر سوچیں… یہ خواہشیں کہاں سے آئیں؟ یہ ذائقوں کی یادیں کہاں سے بنیں؟ مصر سے۔ تصور کریں، کوئی شخص آخرکار جیل سے آزاد ہو جائے، اور کچھ عرصے بعد کہے: "سچ کہوں تو مجھے جیل کا کھانا یاد آتا ہے، وہ بہت مزیدار تھا۔" اگر آپ کو جیل کا کھانا یاد آ رہا ہے، تو شاید آپ کو صرف کھانا یاد نہیں آ رہا… آپ کو وہ جگہ یاد آ رہی ہے جس کے آپ عادی ہو چکے تھے۔ یہی کچھ یہاں ہو رہا تھا۔ وہ صرف سبزیوں کا مطالبہ نہیں کر رہے تھے۔ وہ دراصل اُس زندگی کی مانوسیت کو یاد کر رہے تھے جس سے اللہ نے انہیں نکالا تھا۔ وہ کھیرے نہیں مانگ رہے تھے… وہ مانوسیت مانگ رہے تھے۔ انسان صرف جسم کی بھوک سے نہیں جیتا۔ ایک بھوک جسم کی ہوتی ہے، جو مادی بقا سے متعلق ہے، اور ایک بھوک روح کی ہوتی ہے، جسے سکون، مقصد اور آزادی چاہیے۔ فرعون کا نظام بنی اسرائیل کے جسم کو تو کسی نہ کسی طرح چلا رہا تھا، لیکن ان کی روح کو غلام بنا رہا تھا۔ انسان جب کسی حقیقت کا بہت عرصہ عادی ہو جائے تو اس سے باہر نکلنا آسان نہیں ہوتا۔ چاہے وہ حقیقت تکلیف دہ ہی کیوں نہ ہو۔ کیونکہ جو چیز ہمیں طویل عرصے تک معلوم ہو، وہ ہمیں مانوس لگنے لگتی ہے۔ اور جب انسان اس مانوس زندگی سے باہر نکلتا ہے تو ایک خلا پیدا ہوتا ہے۔ بنی اسرائیل کا جسم مصر سے نکل آیا تھا، لیکن ان کا نفس ابھی تک فرعون کے نظام کا عادی تھا۔ اور شاید یہی وہ مقام ہے جہاں یہ واقعہ ہماری اپنی زندگی سے جڑ جاتا ہے۔ہو سکتا ہے آپ بھی کسی شخص، کسی تعلق یا کسی بری عادت کو چھوڑنا چاہتی ہوں۔ آپ جانتی ہیں کہ وہ چیز آپ کے لیے نقصان دہ ہے، لیکن پھر بھی اسے چھوڑنے سے ڈرتی ہیں۔ کیوں؟ کیونکہ شاید مسئلہ صرف وہ شخص یا وہ عادت نہیں۔ مسئلہ وہ خلا ہے جو اس کے جانے کے بعد پیدا ہوگا۔ وہ شخص آپ کو چوبیس گھنٹے مصروف رکھتا ہے۔ کبھی گناہ، پھر گلٹ، پھر مایوسی… اور پھر دوبارہ وہی گناہ۔ یہ تینوں مل کر آپ کو ایک vicious cycle میں قید کر دیتے ہیں۔ آپ سمجھتی ہیں کہ آپ اس شخص کو چھوڑ نہیں پا رہیں، لیکن حقیقت میں شاید آپ اس خلا سے ڈر رہی ہیں جو اس کے جانے کے بعد آپ کی زندگی میں پیدا ہوگا۔ آپ کو لگتا ہے کہ چاہے وہ شخص آپ کو اہمیت نہ دے، لیکن اس کا ساتھ ہونا آپ کو ایک قسم کا سہارا دے رہا ہے۔ آپ کو اپنی زندگی کی مکمل ذمہ داری نہیں لینی پڑ رہی۔ آپ کے پاس اپنی بے سکونی، اپنی کمزوریوں اور اپنی ناکامیوں سے بچنے کے لیے ایک مصروفیت موجود ہے۔ لیکن یہاں ایک بہت اہم بات ہے: آپ اسباب پر بھروسہ کر رہی ہیں، اللہ پر نہیں۔ بنی اسرائیل کے لیے من و سلویٰ صرف کھانا نہیں تھا۔ یہ انہیں ایک نئی حقیقت سکھا رہا تھا کہ اب ان کا رزق فرعون کے ہاتھ میں نہیں۔ انہیں کسی ظالم نظام کے سامنے جھکنے کی ضرورت نہیں۔ ان کا رزق اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ اسی طرح جب اللہ آپ کو کسی شخص، کسی تعلق یا کسی بری عادت سے نکالتا ہے، تو شاید وہ صرف آپ سے ایک چیز نہیں چھین رہا ہوتا۔ شاید وہ آپ کو یہ سکھا رہا ہوتا ہے کہ آپ کی زندگی کا اصل سہارا وہ شخص یا وہ عادت نہیں… اللہ ہے۔ کیونکہ جب تک آپ کسی فرعون، کسی بیرونی نظام، کسی شخص یا کسی عادت کے غلام ہوتے ہیں، آپ اپنی ناکامیوں کا الزام کسی اور پر ڈال سکتے ہیں۔ لیکن جب آپ اللہ کی بندگی میں آتے ہیں اور اپنی زندگی کی ذمہ داری خود اٹھاتے ہیں، تو الزام دینے کے لیے کوئی اور نہیں بچتا۔ اور ذمہ داری ہمیشہ سکون نہیں دیتی۔ ذمہ داری discomfort لاتی ہے۔ اور انسان اکثر اسی discomfort سے بھاگتا ہے۔ #islamic #deenurdustories #taybiivibes #foryoupage #viral

About