@ahmadchadhar911: جو انسان خود کے اندر ٹوٹا ہوا ہو، وہ کسی اور کے لیے سہارا نہیں بن سکتا۔ جو اپنی الجھنوں، خوفوں اور کمیوں سے بھاگ رہا ہو، وہ کسی کو سکون دینے کا دعویٰ کیسے کرے؟ محبت صرف لفظوں یا دعووں کا نام نہیں، یہ ایک ذمہ داری ہے، ایک احساس ہے، ایک مکمل ہونے کا عمل ہے۔ میں نے سمجھ لیا ہے کہ خود کو نظر انداز کر کے کسی اور کے لیے جینا آخر کار خود کو کھو دینا ہوتا ہے۔ اس لیے اب میں پہلے خود کو سنواروں گا، اپنے اندر کے خلا کو بھرنے کی کوشش کروں گا، اپنی خاموشیوں کو سمجھوں گا، اپنے زخموں کو وقت دوں گا، اور اپنی پہچان کو مضبوط بناؤں گا۔ کیونکہ ادھورا انسان محبت نہیں کرتا، وہ صرف سہارا ڈھونڈتا ہے۔ اور سہارا بننے والے اکثر خود ہی ٹوٹ جاتے ہیں۔ میں کسی کی ضرورت بننے سے پہلے اپنی طاقت بنوں گا کسی کی کہانی بننے سے پہلے اپنی پہچان لکھوں گا کسی کا ساتھ دینے سے پہلے خود کے ساتھ کھڑا ہونا سیکھوں گا۔