@y_syed: وہ چڑیا بہت دور تک اڑ سکتی تھی، مگر عجیب بات تھی جس کے پاس دل رہ جاتا، وہیں اس کے پر تھک جاتے تھے۔ وہ ہر شام ایک ہی شاخ پر آ بیٹھتی، آسمان کو دیکھتی اور خود سے پوچھتی: کیا ہر وہ شخص جسے ہم دل سے چاہیں، کبھی ہمارا بھی ہو سکتا ہے؟ پھر خاموشی جواب دیتی۔ وہ جواب جو لفظوں میں نہیں ہوتا، مگر دل سمجھ لیتا ہے۔ چڑیا نے بھی محبت کی تھی۔ ایسی محبت جس میں خود سے زیادہ کسی اور کی خوشی عزیز ہوجاتی ہے۔ وہ انتظار کرتی رہی، مگر کبھی یہ نہیں کہا کہ میرا انتظار دیکھو۔ وہ اداس ہوتی رہی، مگر کبھی یہ نہیں کہا کہ میری اداسی سمجھو۔ کیونکہ کچھ لوگ محبت میں اپنی تکلیف بھی چھپا لیتے ہیں، اس خوف سے کہ کہیں ان کی شکایت ہی ان کے محبوب کے لیے بوجھ نہ بن جائے۔ مگر دل بھی آخر کب تک خاموش رہتا؟ ایک شام چڑیا شاخ پر بیٹھی تھی۔ بارش ہونے والی تھی۔ ہوا تیز تھی، بادل سیاہ تھے، اور اس کے چھوٹے سے دل میں سالوں کا تھکا ہوا موسم۔ اس نے اپنے پر سمیٹے اور پہلی بار سوچا شاید مجھے کسی کے پاس رہنے کے لیے اپنے آپ کو اتنا توڑنے کی ضرورت نہیں۔ وہ اڑی۔ بارش شروع ہوگئی۔ اس کے پر بھیگتے رہے، راستہ دھندلا ہوتا رہا، مگر وہ اڑتی رہی۔ کیونکہ کبھی کبھی منزل تک پہنچنے کے لیے نہیں، صرف خود کو بچانے کے لیے بھی اڑنا پڑتا ہے۔ اس رات چڑیا نے ایک بات سیکھی: جو تمہیں کھونے کے خیال سے نہیں ڈرتا، اسے اپنی موجودگی کا یقین دلاتے رہنا تمہاری ذمہ داری نہیں۔ اور شاید محبت کی سب سے خوبصورت شکل یہ ہے کہ تم کسی کو دل سے چاہو، پھر بھی جب وہ تمہاری قدر نہ کرے، تو نفرت کے بجائے خاموشی سے خود کو بچا لو۔ چڑیا آج بھی اڑتی ہے۔ اب وہ کسی ایک شاخ کی محتاج نہیں۔ اب اسے معلوم ہے آسمان بہت بڑا ہے، بس ہمیں ایک ایسی شاخ چھوڑنے کا حوصلہ چاہیے جس پر بیٹھ کر ہم ہر روز خود کو تھوڑا تھوڑا کھوتے رہے۔ اور کچھ لوگ واقعی ہماری زندگی میں رہنے کے لیے نہیں آتے وہ صرف یہ سکھانے آتے ہیں کہ محبت کرتے ہوئے بھی خود کو نہیں کھونا چاہیے۔ #fyp #y_syed #بخت