@saima71977: بے قدری تو ہونی ہی تھی، ہم میسر جو ہر وقت تھے! ہم نے کبھی تمہیں یہ احساس نہیں ہونے دیا کہ تم ہمارے لیے کتنے اہم ہو، کیونکہ ہمارے لیے تمہاری اہمیت بتانے کی نہیں، نبھانے کی چیز تھی۔ تم نے جب بھی پکارا، ہم نے اپنے کام، اپنی مصروفیات، اپنی ناراضگیاں سب ایک طرف رکھ دیں۔ تم خاموش ہوئے تو ہم نے خاموشی پڑھنے کی کوشش کی، تم دور ہوئے تو ہم نے فاصلے کم کرنے کی کوشش کی، اور جب تم نے ہمیں نظرانداز کیا تو بھی ہم نے تمہارے لیے کوئی سخت لفظ نہیں کہا۔ ہمیں لگتا رہا کہ محبت میں حساب نہیں رکھا جاتا، اس لیے ہم نے کبھی یہ نہیں گنا کہ ہم نے کتنی بار تمہیں منایا، کتنی بار خود کو سمجھایا، کتنی بار تمہاری غلطیوں کو معاف کیا اور کتنی بار اپنے دل کو یہ کہہ کر خاموش کروایا کہ شاید اس بار سب ٹھیک ہو جائے گا۔ مگر شاید ہم نے اپنی محبت کچھ زیادہ ہی آسان کر دی تھی۔ تمہیں یقین ہو گیا تھا کہ ہم ہر حال میں رہیں گے، چاہے تم ہمیں وقت دو یا نہ دو، چاہے بات کرو یا نہ کرو، چاہے ہماری قدر کرو یا نہ کرو۔ اور جب کسی کو ہماری موجودگی کا یقین حد سے زیادہ ہو جائے تو وہ ہماری موجودگی کو نعمت نہیں، معمول سمجھنے لگتا ہے۔ ہم بھی عجیب تھے، جس شخص کو ہماری کمی محسوس ہونی چاہیے تھی، ہم اس کے لیے ہر وقت موجود رہے۔ جسے ہمیں کھونے کا ڈر ہونا چاہیے تھا، ہم نے اسے کبھی کھونے کا احساس ہی نہیں ہونے دیا۔ ہم نے اپنی محبت میں اتنی گنجائش رکھ دی کہ سامنے والا ہمیں نظرانداز کر کے بھی مطمئن رہا۔ کبھی کبھی سوچتے ہیں کہ اگر ہم بھی تھوڑا بدل جاتے، ہر وقت دستیاب نہ ہوتے، ہر بات پر فوراً جواب نہ دیتے، ہر ناراضی پر خود نہ جھکتے، ہر بار خود ہی بات شروع نہ کرتے… تو شاید ہماری قدر کچھ اور ہوتی۔ لیکن پھر دل کہتا ہے کہ محبت میں حساب کتاب رکھنے والے ہم کبھی تھے ہی نہیں۔ ہم نے جو کیا، دل سے کیا۔ کسی کو اپنا سمجھا تو پورا سمجھا، کسی کا ساتھ دیا تو آخر تک دینے کی کوشش کی۔ ہماری غلطی صرف اتنی تھی کہ ہم نے اپنی محبت ایسے شخص پر لٹا دی جسے اس کی عادت تو ہو گئی، مگر قدر نہ ہوئی۔ اب اگر کبھی ہم خاموش ہو جائیں، دیر سے جواب دیں، خود کو پیچھے کر لیں یا ہر وقت میسر نہ ہوں تو اسے غرور مت سمجھنا۔ یہ صرف وہ سبق ہے جو وقت نے ہمیں سکھایا ہے کہ اپنی قدر بھی خود کرنی پڑتی ہے۔ کیونکہ ہر وقت میسر رہنے والے کی کمی تب محسوس ہوتی ہے، جب وہ واقعی میسر نہیں رہتا۔ اور کچھ لوگ ہماری قدر اس وقت سمجھتے ہیں جب ہم ان کی زندگی سے نہیں، بس ان کی پہنچ سے دور ہو جاتے ہیں۔ ہمیں تم سے شکایت نہیں، بس ایک افسوس ضرور ہے… کہ جس محبت کو ہم نے اپنی زندگی کی سب سے خوبصورت حقیقت سمجھا، تم نے اسے صرف اپنی سہولت سمجھ لیا۔ اب بھی دل میں تمہارے لیے بددعا نہیں، بس اتنی سی دعا ہے کہ کبھی تمہیں بھی کوئی اتنی ہی سچائی سے چاہے، اور تمہیں احساس ہو کہ کسی کا ہر وقت تمہارے لیے موجود رہنا کتنی بڑی نعمت تھا۔ کیونکہ بے قدری ہماری محبت کی کمی نہیں تھی، بس تمہیں ہماری محبت کی عادت ہو گئی تھی۔ اور عادتیں اکثر تب یاد آتی ہیں، جب وہ اچانک ختم ہو جائیں۔ 🖤 ہی