حدیث: حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ اللہ کے رسول ﷺ ہمارے پاس تشریف لائے اور (لوگوں کو نماز میں ہاتھ اٹھاتے دیکھ کر) فرمایا:
“کیا بات ہے کہ میں تمہیں سرکش گھوڑوں کی دموں کی طرح اپنے ہاتھ اٹھاتے ہوئے دیکھ رہا ہوں؟ نماز میں سکون اختیار کرو۔” -- [صحیح مسلم، حدیث: 430].
وضاحت: ترکِ رفع یدین کے قائل علماء اس حدیث سے یہ ثابت کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے نماز کے دوران بار بار ہاتھ اٹھانے سے منع فرمایا اور نماز کے اندر اعضاء کو پرسکون رکھنے کا حکم دیا۔ (اگرچہ دوسرے مسلک کے محدثین کا کہنا ہے کہ یہ ممانعت تشہد کے وقت سلام پھیرتے ہوئے ہاتھ ہلانے کے بارے میں تھی)
2026-09-02 21:38:37
0
Kaleem :
سنت روایت سے بڑا اور بہت مظبوط عمل ہے رسول اللّه کی پڑھائی گئی نماز کہیں گم نہی ہوئی لاکھوں صحابہ نے رسول اللّه کے پیچھے نماز ادا کی صحابہ سے تابعین اور اس طرح نسل در نسل سنت نماز امت میں منتقل ہوئی روایت اس عمل کی ملیں گی جو کبھی کبھار ادا ہو ہو عدم رفع یدین سنت عمل ہے روایت نہی ہے اور ہو بھی کیوں
2026-09-02 16:10:30
1
HAJI MUMTAZ MUGHAL :
2026-09-04 13:31:05
0
EagaLe StaR :
2026-09-03 17:42:18
0
user5138459142 :
ap kb se zaaef hdees man'ny lg gy
2026-09-02 17:04:10
1
Dr Naeem :
ہم بُخاری شریف کی اِس حدیثِ پر عمل کرتے ہیں
2026-09-03 16:24:29
1
14 so Saal parani jamat zindab :
2026-09-03 15:31:40
0
Ch Huraira Sheikh :
chalo ik challenge mery wallozaeef riwayat hi sahi khud na likhi ho bas riwayat dikha do Qala rasoolAllah se
2026-09-02 15:40:23
1
Md Abdullah :
حدیث: حضرت علقمہ رحمہ اللہ روایت کرتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا:
“کیا میں تمہیں رسول اللہ ﷺ کی نماز پڑھ کر نہ دکھاؤں؟ پھر انہوں نے نماز پڑھی اور انہوں نے صرف پہلی مرتبہ (شروع میں) اپنے ہاتھ اٹھائے (اس کے بعد پوری نماز میں ہاتھ نہیں اٹھائے)۔” -- [جامع ترمذی، حدیث: 257].
سند کی حیثیت: اس حدیث کی سند یہ ہے: امام ترمذی ➔ ہناد ➔ وکیع ➔ سفیان ثوری ➔ عاصم بن کلیب ➔ عبدالرحمن بن اسود ➔ علقمہ ➔ عبداللہ بن مسعود۔ اس حدیث کو امام ترمذی نے "حسن" کہا ہے، جبکہ دورِ حاضر کے معروف محدث شیخ ناصر الدین البانی اور احمد شاکر نے بھی اپنی تحقیق میں اسے "صحیح" قرار دیا ہے۔ [1, 2]
دلیل کا رخ: اس موقف کے علما کا کہنا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے زندگی کے آخری دور میں رکوع کا رفع یدین ترک فرما دیا تھا اور صرف تکبیرِ تحریمہ والا رفع یدین باقی رہ گیا تھا، اسی لیے ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے سکھانے کے لیے بغیر رفع یدین کے نماز پڑھ کر دکھائی
2026-09-02 21:32:44
0
MaharFarooq :
کوئی بھائی مجھے اس حدیث کا حوالہ دے دے جس کا ذکر شیخ صاحب نے اس ویڈیو میں کیا ہے وہ ضعیف حدیث جس کا وہ نام لے رہے ہیں میں وہ حدیث مانگ رہا ہوں اور تمام بھائی اس کام پہ لگے ہیں کہ وہ رفع یدین ثابت کر رہے ہیں میں رفع یدین کی بات نہیں کر رہا میں اس حدیث کا حوالہ پوچھ رہا ہوں
2026-09-03 06:53:29
0
Md Abdullah :
حدیث: حضرت علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں مروی ہے:
“بے شک رسول اللہ ﷺ نماز کی پہلی تکبیر (تکبیرِ تحریمہ) میں اپنے ہاتھ اٹھاتے تھے، پھر اس کے بعد (پوری نماز میں) دوبارہ ہاتھ نہیں اٹھاتے تھے۔” -- [مصنف ابن ابی شیبہ، حدیث: 2439 / سنن دارقطنی].
سند (Chain of Narrators): وکیع ➔ ابوبکر بن عبداللہ بن قطاف النہشلی ➔ عاصم بن کلیب ➔ اپنے والد (کلیب) ➔ حضرت علی (رع)۔
وضاحت: اس روایت سے احناف یہ استدلال کرتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ جو کہ کوفہ کے قاضی اور خلیفہ تھے، وہ خود بھی اسی طریقے پر عمل کرتے تھے اور نبی کریم ﷺ کا یہی طریقہ نقل کرتے تھے
2026-09-02 21:35:32
2
EagaLe StaR :
2026-09-03 17:40:34
0
EagaLe StaR :
2026-09-03 17:41:25
0
Md Abdullah :
اگرچہ ابن عمر رضی اللہ عنہما سے رفع یدین کرنے کی سب سے مشہور حدیث مروی ہے، لیکن احناف کی کتب میں ان کا بعد کا ایک عمل بھی نقل کیا جاتا ہے:
روایت: حضرت مجاہد رحمہ اللہ (جو ابن عمر کے شاگرد ہیں) بیان کرتے ہیں:
“میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما کے پیچھے نماز پڑھی، تو انہوں نے نماز کے شروع کی تکبیر کے علاوہ کسی جگہ بھی اپنے ہاتھ نہیں اٹھائے۔” -- [شرح معانی الآثار للبرحاوی / مصنف ابن ابی شیبہ، حدیث: 2448].
وضاحت: اس سے یہ استدلال کیا جاتا ہے کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اگرچہ پہلے نبی ﷺ کو رفع یدین کرتے دیکھا تھا، لیکن بعد میں جب انہوں نے نبی ﷺ کو اسے ترک کرتے دیکھا تو خود بھی صرف ایک بار ہاتھ اٹھانے پر عمل اختیار کر لیا
2026-09-02 21:40:56
0
Asif Niazi Gaznvi :
قول نبی صلی اللہ علیہ وسلم دکھا دے کوئ
2026-09-03 03:54:57
0
LADLA JUTT 995 :
hhhhhhjhhj
2026-09-03 04:10:20
0
user91922496157 :
ao kre is topic pr baat 😋 Btata ho rafalyeden krna he ya ni😂
2026-09-02 15:50:35
0
@White Writer 002 :
جن کو آپ اہل حدیث کہہ رہے ہو وہ کوئی آج کی طرح فرقہ نہیں تھا
اہل حدیث علماء مجتہدین کا ایک گروہ تھا جو قیاس کم کرتا تھا
اور ان کے علاؤہ اہل رائے ہوتے تھے جو کثیر اجتہاد کرتے تھے
2026-09-03 18:13:58
0
Amir Raja :
2026-09-03 10:22:45
0
SyEd FaIzAn HaShMi :
bhai tou one to one karlu video sy bhar ajao ek dafa he final match ho jae
2026-09-03 13:40:26
0
To see more videos from user @yousufzaipathan_804, please go to the Tikwm
homepage.