@qa.quote.hub: سعادت حسن منٹو کا یہ بے باک طنز ہمارے معاشرے کی مذہبی منافقت، ظاہری غیرت اور عملی خالی پن کی ایک انتہائی ننگی اور تلخ سچائی پیش کرتا ہے۔ اس قول کی سب سے بڑی سچائی یہ ہے کہ ہم بحیثیت معاشرہ عمل سے زیادہ رسموں اور دکھاوے کی پاسداری میں جڑے ہوئے ہیں۔ جب مؤذن نے پہلی بار اذان دی، جو کہ اصل میں فرض کی طرف بلاوا اور اللہ کے سامنے جھکنے کی دعوت تھی، تو کسی ایک شخص کو بھی اپنے مالک کے حضور حاضر ہونے کی توفیق نہ ہوئی۔ لوگ اپنے دنیوی کاموں، سستی اور غفلت میں مست رہے، کیونکہ عمل ان کی ترجیح ہی نہیں تھا۔ لیکن جیسے ہی دوسری اذان دی گئی، جو کہ روایتی طریقہ کار یا معمول سے تھوڑا ہٹ کر تھی، تو آدھا گاؤں غیرت اور غصے کے مارے لڑنے پہنچ گیا۔ یہ رویہ اس بھیانک سچ کو ننگا کرتا ہے کہ لوگوں کو خدا کے حکم اور عبادت کی پروا بالکل نہیں ہے، لیکن جیسے ہی کوئی ان کے بنائے ہوئے ظاہری قواعد، رسم و رواج یا روایتی فہم کو چھیڑتا ہے، تو ان کی خود ساختہ مذہبی غیرت فوراً جاگ جاتی ہے۔ منٹو کا یہ طنز اس بھیانک حقیقت کو بے نقاب کرتا ہے کہ ہم ایک ایسا معاشرہ بن چکے ہیں جو فرائض کو بھول کر صرف نزاعی اور جذباتی باتوں پر لڑنا جانتا ہے۔ ہمیں مسجدیں آباد کرنے سے کوئی غرض نہیں، لیکن مسجد کے نظام اور روایت پر بحث و تکرار کرنے کے لیے ہم ہر وقت ہتھیار اٹھانے کو تیار رہتے ہیں۔ یہ قول ہماری اس اجتماعی منافقت کا ماتم ہے جہاں دین کا روح سے کوئی تعلق نہیں بچا، صرف ظاہری کھول اور بحث رہ گئی ہے۔ #fypppppppppppppppppppppppp #quotes #urdu #foryour #viralvideos