@mub1tk: یہ قول پاکستان کے عظیم ادیب مستنصر حسین تارڑ کا ہے اور اس میں دو بہت گہری باتیں کہی گئی ہیں۔ 1. "الفاظ کچرا ہیں، اگر سامنے والا کباڑیا ہو" تارڑ صاحب کہتے ہیں کہ بات کی قیمت سننے والے سے ہوتی ہے۔ آپ کتنی ہی قیمتی، سچی اور دل سے نکلی ہوئی بات کیوں نہ کریں، اگر سامنے والا شخص اس کی قدر نہ کرنا جانتا ہو، اس میں گہرائی کو نہ سمجھتا ہو، تو آپ کے وہ قیمتی الفاظ بھی کچرے کے برابر ہو جاتے ہیں۔ جیسے ایک ہیرا اگر کسی کباڑیے کو دے دیا جائے تو وہ اسے لوہے کے بھاؤ تول دے گا۔ اسی طرح غلط انسان کے سامنے اپنے جذبات، اپنے دکھ اور اپنی محبت کا اظہار کرنا اپنے الفاظ کو ضائع کرنے کے مترادف ہے۔ اس لیے سوچ سمجھ کر انتخاب کریں کہ آپ اپنا دل کس کے سامنے کھولتے ہیں۔ 2. "قلم وہی چلتا ہے جو دل کا درد لکھے"۔ ایسا قلم جو صرف تعریف، بناوٹ یا بازاری باتیں لکھے وہ چل تو رہا ہے لیکن زندہ نہیں ہے۔ زندہ قلم وہ ہے جو دوسروں کے درد کو محسوس کر کے لکھے، جو پڑھنے والے کے دل میں اتر جائے۔ #مستنصر_حسین_تارڑ #اردو_ادب #UrduQuotes #MustansarHussainTarar