@abah.sulap:

Abah Sulap
Abah Sulap
Open In TikTok:
Region: ID
Wednesday 02 September 2026 22:45:22 GMT
910
49
1
8

Music

Download

Comments

uli6896
ULI :
Hasbunallah wanikmal wakil..... Laa haula quwata illa billah🥰🥰🥰
2026-09-03 03:34:44
0
To see more videos from user @abah.sulap, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

حافظ بدرالدین کون تھا؟ ایک مفصل تاریخی اور دستاویزی تجزیہ تاریخ کے اوراق اور معاصر بین الاقوامی جریدوں کا مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ خطے کی عسکری اور سیاسی کشمکش کے دوران کئی ایسے کردار سامنے آئے جنہوں نے طویل عرصے تک عالمی میڈیا کی توجہ سمیٹے رکھی۔ ان ہی نمایاں اور بحث طلب ناموں میں ایک نام حافظ بدرالدین کا بھی تھا جن کی پیدائش خاندانی نسبت تنظیم اور انجام سے جڑے تمام حقائق دستاویزی ریکارڈ کا حصہ ہیں۔ اس تحریر میں ان تمام تاریخی تفصیلات کا احاطہ کیا گیا ہے تاکہ اس کردار کے ہر پہلو کو واضح کیا جا سکے۔ خاندانی پس منظر اور جلال الدین حقانی سے نسبت حافظ بدرالدین کا تعلق ایک ایسے با اثر خاندانی پس منظر سے تھا جو خطے کی عسکری تاریخ میں ایک مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔ وہ جلال الدین حقانی کے صاحبزادے (بیٹے) تھے۔ جلال الدین حقانی وہی معروف شخصیت تھے جنہوں نے سوویت یونین کے خلاف افغان جنگ کے دوران صف اول کا کردار ادا کیا تھا اور بعد کے برسوں میں ایک طاقتور عسکری ڈھانچے کی بنیاد رکھی تھی۔ اس خاندانی اور نسبی تعلق کی وجہ سے حافظ بدرالدین کو کم عمری ہی میں اس ماحول کے اندر ایک نمایاں مقام حاصل ہو گیا تھا اور وہ اس فکری و عسکری دائرے کا حصہ بن گئے۔ حقانی نیٹ ورک اور دہشت گرد تنظیم سے تعلق کی تفصیل موصوف کا براہ راست اور گہرا تعلق (حقانی نیٹ ورک) سے تھا جو کہ افغان طالبان کی ایک انتہائی خود مختار اور خطرناک شاخ مانی جاتی ہے۔ بین الاقوامی انٹیلی جنس رپورٹس سیکیورٹی اداروں کے اعلانات اور عالمی میڈیا کے مطابق حقانی نیٹ ورک کو دنیا بھر کے کئی ممالک اور اداروں کی طرف سے ایک دہشت گرد تنظیم کے طور پر نامزد کیا گیا ہے۔ اس تنظیم پر افغانستان اور خطے میں سیکیورٹی تنصیبات غیر ملکی افواج سرکاری عمارتوں اور بے گناہ شہریوں پر ہونے والے متعدد ہلاکت خیز حملوں خودکش دھماکوں اور تخریب کاری کی کارروائیوں کی منصوبہ بندی کے سنگین الزامات عائد کیے جاتے رہے ہیں۔ حافظ بدرالدین اس عسکری ڈھانچے کے عام رکن نہیں بلکہ اس کے چوٹی کے اور انتہائی اہم کمانڈروں میں شمار ہوتے تھے۔ وہ میدان جنگ کی حکمت عملی عسکری امور اور آپریشنل پلاننگ میں کلیدی کردار ادا کرتے تھے۔ ان کی سرگرمیوں کی وجہ سے دنیا بھر کی انٹیلی جنس ایجنسیاں اور دفاعی ادارے ان پر کڑی نظر رکھتے تھے اور وہ طویل عرصے تک عالمی سطح پر انتہائی مطلوبہ افراد کی فہرست میں شامل رہے تھے۔ ان کے فیصلوں اور کارروائیوں نے خطے کے امن کو شدید نقصان پہنچایا تھا جس کی وجہ سے بین الاقوامی سطح پر اس کردار کو ہمیشہ سختی سے تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔ ہلاکت کی تاریخ مقام اور ڈرون حملے کی تفصیلات حافظ بدرالدین کی زندگی کا یہ ہنگامہ خیز اور پرتشدد سفر اگست 2012ء کے آخری ایام میں اپنے انجام کو پہنچا۔ تاریخی ریکارڈ تحقیقی رپورٹس اور اس وقت کے ذرائع ابلاغ کی رو سے وہ 24 اگست 2012ء کا دن تھا جب یہ فیصلہ کن واقعہ پیش آیا۔ مقام کے اعتبار سے وہ اس وقت پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان کے علاقے دتہ خیل میں ایک مقام پر موجود تھے۔ بین الاقوامی میڈیا اور سیکیورٹی ذرائع کی تصدیق کے مطابق ایک امریکی فضائی کارروائی (ڈرون حملے) نے اس مقام کو نشانہ بنایا۔ اس طاقتور فضائی حملے کے نتیجے میں حافظ بدرالدین موقع پر ہی ہلاک ہو گئے اور ان کے ساتھ ان کے چند قریبی ساتھی بھی لقمہ اجل بنے۔ ابتدائی طور پر اس حملے اور موت کے حوالے سے مختلف اور متضاد دعوے سامنے آئے تھے تاہم بعد میں خود عسکری ذرائع اور ان کے حلقوں کی طرف سے باضابطہ طور پر اس بات کی تصدیق کر دی گئی کہ وہ اسی ڈرون حملے میں مارے گئے ہیں۔ ان کی ہلاکت کو اس دہشت گرد نیٹ ورک کے لیے ایک بہت بڑا تنظیمی دھچکا قرار دیا گیا تھا، کیونکہ وہ عسکری محاذ پر ایک انتہائی متحرک اور مرکزی حیثیت کے حامل کمانڈر تھے۔ #HafizBadruddin #HaqqaniNetwork #NorthWaziristan #JalaluddinHaqqani #AfghanHistory
حافظ بدرالدین کون تھا؟ ایک مفصل تاریخی اور دستاویزی تجزیہ تاریخ کے اوراق اور معاصر بین الاقوامی جریدوں کا مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ خطے کی عسکری اور سیاسی کشمکش کے دوران کئی ایسے کردار سامنے آئے جنہوں نے طویل عرصے تک عالمی میڈیا کی توجہ سمیٹے رکھی۔ ان ہی نمایاں اور بحث طلب ناموں میں ایک نام حافظ بدرالدین کا بھی تھا جن کی پیدائش خاندانی نسبت تنظیم اور انجام سے جڑے تمام حقائق دستاویزی ریکارڈ کا حصہ ہیں۔ اس تحریر میں ان تمام تاریخی تفصیلات کا احاطہ کیا گیا ہے تاکہ اس کردار کے ہر پہلو کو واضح کیا جا سکے۔ خاندانی پس منظر اور جلال الدین حقانی سے نسبت حافظ بدرالدین کا تعلق ایک ایسے با اثر خاندانی پس منظر سے تھا جو خطے کی عسکری تاریخ میں ایک مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔ وہ جلال الدین حقانی کے صاحبزادے (بیٹے) تھے۔ جلال الدین حقانی وہی معروف شخصیت تھے جنہوں نے سوویت یونین کے خلاف افغان جنگ کے دوران صف اول کا کردار ادا کیا تھا اور بعد کے برسوں میں ایک طاقتور عسکری ڈھانچے کی بنیاد رکھی تھی۔ اس خاندانی اور نسبی تعلق کی وجہ سے حافظ بدرالدین کو کم عمری ہی میں اس ماحول کے اندر ایک نمایاں مقام حاصل ہو گیا تھا اور وہ اس فکری و عسکری دائرے کا حصہ بن گئے۔ حقانی نیٹ ورک اور دہشت گرد تنظیم سے تعلق کی تفصیل موصوف کا براہ راست اور گہرا تعلق (حقانی نیٹ ورک) سے تھا جو کہ افغان طالبان کی ایک انتہائی خود مختار اور خطرناک شاخ مانی جاتی ہے۔ بین الاقوامی انٹیلی جنس رپورٹس سیکیورٹی اداروں کے اعلانات اور عالمی میڈیا کے مطابق حقانی نیٹ ورک کو دنیا بھر کے کئی ممالک اور اداروں کی طرف سے ایک دہشت گرد تنظیم کے طور پر نامزد کیا گیا ہے۔ اس تنظیم پر افغانستان اور خطے میں سیکیورٹی تنصیبات غیر ملکی افواج سرکاری عمارتوں اور بے گناہ شہریوں پر ہونے والے متعدد ہلاکت خیز حملوں خودکش دھماکوں اور تخریب کاری کی کارروائیوں کی منصوبہ بندی کے سنگین الزامات عائد کیے جاتے رہے ہیں۔ حافظ بدرالدین اس عسکری ڈھانچے کے عام رکن نہیں بلکہ اس کے چوٹی کے اور انتہائی اہم کمانڈروں میں شمار ہوتے تھے۔ وہ میدان جنگ کی حکمت عملی عسکری امور اور آپریشنل پلاننگ میں کلیدی کردار ادا کرتے تھے۔ ان کی سرگرمیوں کی وجہ سے دنیا بھر کی انٹیلی جنس ایجنسیاں اور دفاعی ادارے ان پر کڑی نظر رکھتے تھے اور وہ طویل عرصے تک عالمی سطح پر انتہائی مطلوبہ افراد کی فہرست میں شامل رہے تھے۔ ان کے فیصلوں اور کارروائیوں نے خطے کے امن کو شدید نقصان پہنچایا تھا جس کی وجہ سے بین الاقوامی سطح پر اس کردار کو ہمیشہ سختی سے تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔ ہلاکت کی تاریخ مقام اور ڈرون حملے کی تفصیلات حافظ بدرالدین کی زندگی کا یہ ہنگامہ خیز اور پرتشدد سفر اگست 2012ء کے آخری ایام میں اپنے انجام کو پہنچا۔ تاریخی ریکارڈ تحقیقی رپورٹس اور اس وقت کے ذرائع ابلاغ کی رو سے وہ 24 اگست 2012ء کا دن تھا جب یہ فیصلہ کن واقعہ پیش آیا۔ مقام کے اعتبار سے وہ اس وقت پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان کے علاقے دتہ خیل میں ایک مقام پر موجود تھے۔ بین الاقوامی میڈیا اور سیکیورٹی ذرائع کی تصدیق کے مطابق ایک امریکی فضائی کارروائی (ڈرون حملے) نے اس مقام کو نشانہ بنایا۔ اس طاقتور فضائی حملے کے نتیجے میں حافظ بدرالدین موقع پر ہی ہلاک ہو گئے اور ان کے ساتھ ان کے چند قریبی ساتھی بھی لقمہ اجل بنے۔ ابتدائی طور پر اس حملے اور موت کے حوالے سے مختلف اور متضاد دعوے سامنے آئے تھے تاہم بعد میں خود عسکری ذرائع اور ان کے حلقوں کی طرف سے باضابطہ طور پر اس بات کی تصدیق کر دی گئی کہ وہ اسی ڈرون حملے میں مارے گئے ہیں۔ ان کی ہلاکت کو اس دہشت گرد نیٹ ورک کے لیے ایک بہت بڑا تنظیمی دھچکا قرار دیا گیا تھا، کیونکہ وہ عسکری محاذ پر ایک انتہائی متحرک اور مرکزی حیثیت کے حامل کمانڈر تھے۔ #HafizBadruddin #HaqqaniNetwork #NorthWaziristan #JalaluddinHaqqani #AfghanHistory

About