@dungmit129: Người tiếc nuối sau cùng, luôn là người đã từng không biết trân trọng.

Mít Một Mình • Mê Chill 🍀
Mít Một Mình • Mê Chill 🍀
Open In TikTok:
Region: VN
Thursday 03 September 2026 04:32:53 GMT
19273
582
28
46

Music

Download

Comments

minh_thu95
Hoàng Minh Thu :
A di đà phật! Lạy cho em ra đg gặp dc ông có đức gặp bà có nhân. Phù che trợ giúp cho e. Em nói có bg nghe, đe có người sợ. … a di da phạt!!!
2026-09-03 04:44:00
3
user2490315751401
Tranhatrang :
Đứa nào có tất cả những điều trên là đứa đấy khổ số khổ😂
2026-09-03 13:04:50
1
mytrantamduc99
My Trần - HR Tâm Đức :
Em xin cap ạ
2026-09-03 06:47:05
0
tbthanhthao
Tiệm bánh Thanh Thảo :
Trong cuộc đời này: kể cả tình thân, tình bạn hay là tình yêu cảm thấy mình không được trân trọng thì rời đi ❤️🍀
2026-09-03 15:52:19
1
hoa.nguyn8844
😆😆Four..D😆😆 :
đang đọc cái cap chưa để ý tên gia chủ, đang bảo ai viết mà hay thế 😂😂
2026-09-03 10:20:08
1
mainguyenyeucon92
mai mộng mơ :
luôn tự nhủ ngẩng lên ko bằng ai. cúi xuống ko ai bằng mình... luôn cố gắng để tự hoàn thiện mìh chứ ko sống vì kẻ khác
2026-09-03 09:17:10
0
q00_005
🍓🍓 :
Nta không trân trọng em😌
2026-09-03 15:29:16
0
beueverywhere_hihi
Beueverywhere :
Ê t có hết lun, mà sao t chưa có ny 🤣
2026-09-04 02:30:20
0
minh_thu95
Hoàng Minh Thu :
xin các ngài cho e gặp ng thương kẻ nhớ , ng yêu ng chiều, mở miệng ra có bông có hoa.
2026-09-03 04:48:32
1
lethuyphuong16
Lê Phương U30 :
Có tất cả những điều đó mới là khổ đấy.Khổ đủ thứ,đặc biệt khổ tâm.Tử tế - cố gắng rồi để dc gì.Nhận dc gì.Toàn rác rưỡi.
2026-09-04 05:49:44
0
nguyenthuyhp1516
nguyenthuyhp1991 :
😅😅😅
2026-09-03 05:09:15
0
gomyt91
Gỗ mýt :
🥰🥰🥰
2026-09-03 14:44:23
0
To see more videos from user @dungmit129, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

caption مکمل ذلیل ہو کر چھوڑا ہے ہر رشتہ میں نے، ہر بار خود کو یہ کہہ کر سمجھایا کہ شاید اگلی بار کوئی مجھے سمجھ لے گا، شاید اگلی بار کوئی میری خاموشی کے پیچھے چھپی چیخ سن لے گا، شاید کوئی میرے بدلتے لہجے میں چھپا ہوا درد محسوس کر لے گا، شاید کوئی میرے بے وجہ اداس ہونے کی وجہ پوچھنے کے بجائے مجھے تھام لے گا۔ میں ہر رشتے میں اپنی پوری سچائی لے کر گئی، جہاں محبت دی وہاں دل کھول کر دی، جہاں اعتبار کیا وہاں آنکھیں بند کر کے کیا، جہاں کسی کو اپنا مانا وہاں پھر اس کے عیب، اس کی غلطیاں، اس کی بے رخی سب نظر انداز کر دی، کیونکہ مجھے رشتے توڑنے نہیں، نبھانے آتے تھے۔ مگر ہر بار انجام ایک جیسا رہا، میں تھوڑی اور ٹوٹی، تھوڑی اور خاموش ہوئی، تھوڑی اور خود سے دور ہوتی گئی۔ کسی نے مجھے میری ضرورت کے وقت اکیلا چھوڑ دیا، کسی نے میری محبت کو میری کمزوری سمجھ لیا، کسی نے میری خاموشی کو میری رضامندی سمجھا اور کسی نے میری برداشت کو اتنا آزمایا کہ ایک دن میرے اندر کچھ باقی ہی نہ رہا۔ سب سے زیادہ تکلیف اس بات کی نہیں کہ لوگ بدل گئے، تکلیف اس بات کی ہے کہ میں ہر بار ان کے بدلنے کے بعد بھی خود کو قصوروار سمجھتی رہی۔ میں سوچتی رہی شاید مجھ میں ہی کمی تھی، شاید میں زیادہ محبت کرتی تھی، شاید میری توقعات زیادہ تھیں، شاید میں ہی ہر رشتے کو ضرورت سے زیادہ اہمیت دے دیتی ہوں۔ پھر آہستہ آہستہ سمجھ آیا کہ مسئلہ میری محبت نہیں تھی، مسئلہ یہ تھا کہ میں محبت وہاں لے کر جاتی رہی جہاں اس کی قدر کرنے والا کوئی تھا ہی نہیں۔ میں نے لوگوں کو اپنی زندگی میں جگہ نہیں دی، میں نے انہیں اپنے دل کا وہ حصہ دیا جہاں ہر کسی کو داخل ہونے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے تھی۔ اور انہوں نے اسی حصے کو سب سے زیادہ زخمی کیا۔ میں ہر بار بکھر کر بھی واپس جڑی، ہر بار آنکھوں میں آنسو لے کر بھی مسکرائی، ہر بار خود کو سمجھایا کہ سب لوگ ایک جیسے نہیں ہوتے، مگر ہر نیا رشتہ میرے اس یقین کو تھوڑا اور کمزور کرتا گیا۔ اب کسی کے چھوڑ جانے کا خوف نہیں رہا، کیونکہ میں نے اتنی بار خود کو لوگوں کے جانے کے بعد سنبھالا ہے کہ اب جدائی بھی نئی نہیں لگتی۔ بس افسوس یہ ہے کہ میں نے جن لوگوں کے لیے خود کو اتنا بدل لیا، جن کے لیے اپنی خوشیاں چھوڑیں، جن کی خاطر اپنی عزت تک خاموشی میں دفن کی، آخر میں انہی کے سامنے مجھے اپنی محبت بھی بھیک جیسی لگنے لگی۔ میں نے کبھی کسی سے دنیا نہیں مانگی تھی، مجھے تو بس اتنا چاہیے تھا کہ کوئی میرے ساتھ سچائی سے کھڑا رہے، میرے برے وقت میں میرا ہاتھ نہ چھوڑے، میری غلطیوں پر مجھے سمجھائے مگر میری تذلیل نہ کرے، میری محبت کو معمولی نہ سمجھے، اور جب میں تھک جاؤں تو مجھے یہ احساس دے کہ میں اکیلی نہیں ہوں۔ مگر شاید میری قسمت میں ہر بار ایسے لوگ آئے جن کے لیے میرا ہونا آسان تھا اور میری قدر کرنا مشکل۔ اس لیے اب میں کسی سے لڑتی نہیں، کسی کو مناتی نہیں، کسی کے پیچھے نہیں بھاگتی، کسی سے یہ سوال بھی نہیں کرتی کہ تم نے ایسا کیوں کیا۔ جسے جانا ہے چلا جائے، جسے بدلنا ہے بدل جائے، جسے میری قدر نہیں وہ مجھے کھو دے۔ کیونکہ میں نے بہت دیر سے یہ سیکھا ہے کہ ہر رشتہ بچانا ضروری نہیں ہوتا، کچھ رشتوں سے خود کو بچانا ضروری ہوتا ہے۔ اب میں اپنے اندر کے اس شخص کو دوبارہ ڈھونڈ رہی ہوں جو کبھی بہت ہنستا تھا، بہت یقین کرتا تھا، چھوٹی چھوٹی باتوں پر خوش ہو جاتا تھا اور لوگوں کو دل سے اپنا سمجھتا تھا۔ شاید وہ کہیں میرے اندر اب بھی زندہ ہے، بس بہت تھک گیا ہے۔ اور اب میں اسے دوبارہ کسی کے ہاتھوں ذلیل نہیں ہونے دوں گی۔ اب اگر کوئی میری زندگی میں آئے گا تو اسے میری محبت ہی نہیں، میری عزت بھی سنبھالنی ہوگی، کیونکہ میں نے محبت کے نام پر خود کو بہت کھو دیا ہے۔ اب کسی کو پانے سے زیادہ ضروری مجھے خود کو دوبارہ پانا ہے۔ ✍️
caption مکمل ذلیل ہو کر چھوڑا ہے ہر رشتہ میں نے، ہر بار خود کو یہ کہہ کر سمجھایا کہ شاید اگلی بار کوئی مجھے سمجھ لے گا، شاید اگلی بار کوئی میری خاموشی کے پیچھے چھپی چیخ سن لے گا، شاید کوئی میرے بدلتے لہجے میں چھپا ہوا درد محسوس کر لے گا، شاید کوئی میرے بے وجہ اداس ہونے کی وجہ پوچھنے کے بجائے مجھے تھام لے گا۔ میں ہر رشتے میں اپنی پوری سچائی لے کر گئی، جہاں محبت دی وہاں دل کھول کر دی، جہاں اعتبار کیا وہاں آنکھیں بند کر کے کیا، جہاں کسی کو اپنا مانا وہاں پھر اس کے عیب، اس کی غلطیاں، اس کی بے رخی سب نظر انداز کر دی، کیونکہ مجھے رشتے توڑنے نہیں، نبھانے آتے تھے۔ مگر ہر بار انجام ایک جیسا رہا، میں تھوڑی اور ٹوٹی، تھوڑی اور خاموش ہوئی، تھوڑی اور خود سے دور ہوتی گئی۔ کسی نے مجھے میری ضرورت کے وقت اکیلا چھوڑ دیا، کسی نے میری محبت کو میری کمزوری سمجھ لیا، کسی نے میری خاموشی کو میری رضامندی سمجھا اور کسی نے میری برداشت کو اتنا آزمایا کہ ایک دن میرے اندر کچھ باقی ہی نہ رہا۔ سب سے زیادہ تکلیف اس بات کی نہیں کہ لوگ بدل گئے، تکلیف اس بات کی ہے کہ میں ہر بار ان کے بدلنے کے بعد بھی خود کو قصوروار سمجھتی رہی۔ میں سوچتی رہی شاید مجھ میں ہی کمی تھی، شاید میں زیادہ محبت کرتی تھی، شاید میری توقعات زیادہ تھیں، شاید میں ہی ہر رشتے کو ضرورت سے زیادہ اہمیت دے دیتی ہوں۔ پھر آہستہ آہستہ سمجھ آیا کہ مسئلہ میری محبت نہیں تھی، مسئلہ یہ تھا کہ میں محبت وہاں لے کر جاتی رہی جہاں اس کی قدر کرنے والا کوئی تھا ہی نہیں۔ میں نے لوگوں کو اپنی زندگی میں جگہ نہیں دی، میں نے انہیں اپنے دل کا وہ حصہ دیا جہاں ہر کسی کو داخل ہونے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے تھی۔ اور انہوں نے اسی حصے کو سب سے زیادہ زخمی کیا۔ میں ہر بار بکھر کر بھی واپس جڑی، ہر بار آنکھوں میں آنسو لے کر بھی مسکرائی، ہر بار خود کو سمجھایا کہ سب لوگ ایک جیسے نہیں ہوتے، مگر ہر نیا رشتہ میرے اس یقین کو تھوڑا اور کمزور کرتا گیا۔ اب کسی کے چھوڑ جانے کا خوف نہیں رہا، کیونکہ میں نے اتنی بار خود کو لوگوں کے جانے کے بعد سنبھالا ہے کہ اب جدائی بھی نئی نہیں لگتی۔ بس افسوس یہ ہے کہ میں نے جن لوگوں کے لیے خود کو اتنا بدل لیا، جن کے لیے اپنی خوشیاں چھوڑیں، جن کی خاطر اپنی عزت تک خاموشی میں دفن کی، آخر میں انہی کے سامنے مجھے اپنی محبت بھی بھیک جیسی لگنے لگی۔ میں نے کبھی کسی سے دنیا نہیں مانگی تھی، مجھے تو بس اتنا چاہیے تھا کہ کوئی میرے ساتھ سچائی سے کھڑا رہے، میرے برے وقت میں میرا ہاتھ نہ چھوڑے، میری غلطیوں پر مجھے سمجھائے مگر میری تذلیل نہ کرے، میری محبت کو معمولی نہ سمجھے، اور جب میں تھک جاؤں تو مجھے یہ احساس دے کہ میں اکیلی نہیں ہوں۔ مگر شاید میری قسمت میں ہر بار ایسے لوگ آئے جن کے لیے میرا ہونا آسان تھا اور میری قدر کرنا مشکل۔ اس لیے اب میں کسی سے لڑتی نہیں، کسی کو مناتی نہیں، کسی کے پیچھے نہیں بھاگتی، کسی سے یہ سوال بھی نہیں کرتی کہ تم نے ایسا کیوں کیا۔ جسے جانا ہے چلا جائے، جسے بدلنا ہے بدل جائے، جسے میری قدر نہیں وہ مجھے کھو دے۔ کیونکہ میں نے بہت دیر سے یہ سیکھا ہے کہ ہر رشتہ بچانا ضروری نہیں ہوتا، کچھ رشتوں سے خود کو بچانا ضروری ہوتا ہے۔ اب میں اپنے اندر کے اس شخص کو دوبارہ ڈھونڈ رہی ہوں جو کبھی بہت ہنستا تھا، بہت یقین کرتا تھا، چھوٹی چھوٹی باتوں پر خوش ہو جاتا تھا اور لوگوں کو دل سے اپنا سمجھتا تھا۔ شاید وہ کہیں میرے اندر اب بھی زندہ ہے، بس بہت تھک گیا ہے۔ اور اب میں اسے دوبارہ کسی کے ہاتھوں ذلیل نہیں ہونے دوں گی۔ اب اگر کوئی میری زندگی میں آئے گا تو اسے میری محبت ہی نہیں، میری عزت بھی سنبھالنی ہوگی، کیونکہ میں نے محبت کے نام پر خود کو بہت کھو دیا ہے۔ اب کسی کو پانے سے زیادہ ضروری مجھے خود کو دوبارہ پانا ہے۔ ✍️

About