@lu_.morningstar: #tiktok #pierrot #thefreakcircus #animation #fyp

𖤐ᮬ᷼︵ 𝗟𝖴꯭𝗖𝖨𝗙꯭𝗘𝗥 ︵ᮬ᷼𖤐
𖤐ᮬ᷼︵ 𝗟𝖴꯭𝗖𝖨𝗙꯭𝗘𝗥 ︵ᮬ᷼𖤐
Open In TikTok:
Region: MX
Thursday 03 September 2026 05:44:32 GMT
10138
1519
22
110

Music

Download

Comments

jarecherry_sweet
.⋆⸸𝒥𝒶𝓇ℯ🫀 ּ ֶָ֢ .𑣿 :
ESTA HERMOSISIMOOO
2026-09-03 07:30:18
8
valeriamamani343
♡~ilay~♡ :
peak
2026-09-24 16:17:21
0
chocopi_rojo
Chocopi rojo 💜 :
De todos modos no lo queria descargar 💔
2026-09-09 20:00:35
3
natabear0045
Goobi :
UM WTF YO THIS IS SO GOOD AND UNDERRATED
2026-09-05 12:21:57
2
titi_chan.dos
›/★\_/†\_artemis_/†\_/★\‹ :
I LOVE HIM
2026-09-08 17:16:05
3
airachi192
✦₊꒰ა Airachi໒꒱ ‧₊࿔ :
THIS IS AMAZING WHAT?
2026-09-04 02:57:28
1
sayuhiri_thereal
𓍯𓂃𖾕𖾝𖽙𖾟 :
holy underrated????
2026-09-12 14:35:10
2
thebattledogs0
the battle cats unofficial :
2026-09-21 04:26:11
1
harleyandpierrotlover
🦋~𝓜𝓮𝓵𝓲𝓼𝓼𝓪~🦋 :
2026-09-10 11:37:45
3
milagros._.453
✧ ˚₊· 𝑀𝒾𝓁𝒶𝑔𝓇𝑜𝓈 ·₊ :
simplemente hermoso la animación, ójala se haga viral
2026-09-11 23:24:19
2
safi13678
☆Safi☆ :
2026-09-18 06:23:18
1
milana_30425090
🌸🌺лаванда🌺🌸 :
2026-09-11 20:43:48
2
naymartinez561
NayBet :
❤️❤️❤️
2026-09-04 17:44:33
1
daf._.0306
daf._.★ :
ahhhh está hermosoo por qué no es viral!!?
2026-09-05 14:01:36
2
akemikamizaki266
🦋 Little butterfly 🦋 :
2026-09-10 10:43:02
1
.assho
୧ ‧𝐦𝐞𝐥𝐨𝐝𝐲 ✰ ୭ ˚.ᵎ:✧ :
Amoo
2026-09-06 06:59:14
1
petra.de.la.rosa4
Petra De la Rosa :
2026-09-13 08:23:53
1
isabella_woods2
̻𑂱𑂱ﱢꙶ𐬹𝓘𝓼𝓪𝓫𝓮𝓵𐬹̻ﱢꙶ :
2026-09-03 06:15:56
2
To see more videos from user @lu_.morningstar, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

سورۃ الفجر: رزق کی بارش یا انسان کے کردار کا آئینہ؟ فیکٹ فائنڈنگ تھیسس سوشل میڈیا پر ایک جملہ بڑی عقیدت کے ساتھ گردش کرتا ہے: “جس گھر میں سورۃ الفجر کی تلاوت ہو وہاں رزق بارش کی طرح آتا ہے۔” جملہ خوبصورت ہے، دل کو بھاتا ہے، اور قرآن سے محبت رکھنے والے ہر شخص کو اپنی طرف متوجہ کرتا ہے۔ مگر یہاں ایک بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے: کیا یہ بات واقعی قرآن و سنت سے ثابت ہے؟ یہاں جذبات نہیں، تحقیق کی ضرورت ہے۔ سورۃ الفجر میں اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا کہ جو شخص یا گھر اس سورت کی تلاوت کرے گا، اس کے گھر میں لازماً مال و دولت بارش کی طرح برسنے لگے گی۔ ایسی مخصوص فضیلت کو قرآن یا صحیح حدیث کی طرف منسوب کرنے کے لیے معتبر شرعی دلیل درکار ہوتی ہے۔ لیکن اس کا مطلب یہ بھی نہیں کہ سورۃ الفجر کا رزق سے کوئی تعلق نہیں۔ بلکہ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ سورۃ الفجر انسان کے رزق کے بارے میں ایک بہت گہرا فکری مغالطہ توڑتی ہے۔ اصل سوال: رزق زیادہ ہے یا اللہ کی رضا؟ سورت کے ابتدائی حصے میں فجر، دس راتوں، شفع و وتر اور رات کے گزرنے کی قسموں کے بعد انسان کو تاریخ کی ان قوموں کی طرف متوجہ کیا جاتا ہے جنہیں طاقت، تہذیب، اقتدار اور وسائل حاصل تھے۔ عاد، ارم، ثمود اور فرعون۔ یہ سب اس بات کی یاد دہانی ہیں کہ: طاقت ہمیشہ نجات نہیں دیتی، دولت ہمیشہ عزت نہیں دیتی، اور وسائل ہمیشہ کامیابی کی ضمانت نہیں ہوتے۔ عاد کے پاس طاقت تھی۔ ثمود کے پاس فنِ تعمیر اور چٹانیں تراشنے کی قدرت تھی۔ فرعون کے پاس اقتدار تھا۔ مگر جب طاقت انسان کے اندر سے بندگی نکال کر تکبر پیدا کر دے تو وہی نعمت امتحان بن جاتی ہے۔ یہی سورۃ الفجر کا پہلا بڑا جھٹکا ہے: مسئلہ یہ نہیں کہ تمہارے پاس کتنا ہے؛ مسئلہ یہ ہے کہ جو کچھ تمہارے پاس ہے، اس کے ساتھ تمہارا رویہ کیا ہے۔ سب سے بڑا فریب: دولت = اللہ کی خوشنودی سورت کے آخری حصے میں انسان کی ایک خطرناک نفسیاتی کیفیت سامنے آتی ہے۔ جب اللہ اسے نعمت دیتا ہے اور اس پر کشادگی کرتا ہے تو وہ کہتا ہے: رَبِّي أَكْرَمَنِ “میرے رب نے مجھے عزت دی۔” اور جب اس کا رزق محدود کیا جاتا ہے تو وہ کہتا ہے: رَبِّي أَهَانَنِ “میرے رب نے مجھے ذلیل کر دیا۔” یہاں قرآن انسان کی سوچ کی اصلاح کرتا ہے۔ یعنی: زیادہ مال مل جانا لازماً عزت کی علامت نہیں، اور رزق میں کمی لازماً اللہ کی ناراضی کی علامت نہیں۔ یہ نقطہ سوشل میڈیا کے پورے دعوے کو ایک نئے زاویے سے دیکھنے پر مجبور کرتا ہے۔ اگر ہم یہ سمجھنے لگیں کہ زیادہ رزق = اللہ کی خصوصی رضا، تو ہم سورۃ الفجر کے اصل پیغام کے بالکل الٹ سمت میں جا سکتے ہیں۔ پھر سورۃ الفجر ہمیں کیا سکھاتی ہے؟ اگلی آیات میں قرآن ایک انتہائی اہم حقیقت بیان کرتا ہے: كَلَّا یعنی معاملہ ایسا نہیں جیسا تم سمجھ رہے ہو۔ پھر انسان کے معاشرتی رویے کی حقیقت کھولی جاتی ہے: وہ یتیم کی عزت نہیں کرتا، مسکین کو کھانا کھلانے کی ترغیب نہیں دیتا، اور مال کی محبت میں اسے سمیٹتا چلا جاتا ہے۔ یہاں قرآن نے رزق کو صرف گھر میں آنے والے پیسوں کے طور پر نہیں دیکھا۔ قرآن نے رزق کے ساتھ انسانی ذمہ داری جوڑ دی۔ چونکا دینے والی حقیقت: مال گھر میں آتا ہے، مگر انسان کہاں جاتا ہے؟ یہاں سورۃ الفجر کا پیغام آج کے انسان کے لیے انتہائی طاقتور بن جاتا ہے۔ ہم رزق کو اکثر صرف تنخواہ، کاروبار، جائیداد، بینک بیلنس، گاڑی، مکان اور آسائشوں سے ناپتے ہیں۔ قرآن کا پیمانہ مختلف ہے۔ اگر دولت بڑھ رہی ہے مگر رحم کم ہو رہا ہے، اگر مکان بڑا ہو رہا ہے مگر دل چھوٹا ہو رہا ہے، اگر بینک بیلنس بڑھ رہا ہے مگر یتیم، مسکین اور محتاج نظروں سے اوجھل ہو رہے ہیں، اگر کاروبار کامیاب ہے مگر انسان اپنے رب سے دور ہو رہا ہے، تو سوال یہ نہیں کہ رزق کتنا بڑھا؟ سوال یہ ہے: اس رزق نے انسان کو بنایا کیا؟ سوشل میڈیا کے ایک جملے سے قرآن کے پورے پیغام تک “سورۃ الفجر پڑھو، رزق بارش کی طرح آئے گا” یہ جملہ اگر محض ترغیب اور نیک امید کے طور پر کہا جائے تو الگ بات ہے، لیکن اگر اسے قرآن یا صحیح حدیث کی ثابت شدہ ضمانت کے طور پر پیش کیا جائے تو احتیاط لازم ہے۔ قرآن کی تلاوت یقیناً عبادت ہے۔ قرآن دلوں کے لیے ہدایت ہے۔ قرآن انسان کے اخلاق، فکر اور عمل کو بدلتا ہے۔ لیکن کسی مخصوص سورت کے بارے میں یہ کہنا کہ: “اس کی تلاوت سے لازماً اتنا مالی رزق آئے گا” اس کے لیے واضح اور معتبر دلیل چاہیے۔ دین میں محبت کافی نہیں؛ محبت کے ساتھ نسبت بھی درست ہونی چاہیے۔ رزق کا ایک اور مطلب بھی ہے کبھی رزق رقم نہیں ہوتا۔ رزق صحت بھی ہے۔ رزق سکون بھی ہے۔ رزق نیک اولاد بھی ہے۔ رزق اچھا شریکِ حیات بھی ہے۔ رزق صالح دوست بھی ہے۔ رزق علم بھی ہے۔ رزق وقت بھی ہے۔ رزق قناعت بھی ہے۔ رزق کسی گناہ سے بچ جانے کا موق
سورۃ الفجر: رزق کی بارش یا انسان کے کردار کا آئینہ؟ فیکٹ فائنڈنگ تھیسس سوشل میڈیا پر ایک جملہ بڑی عقیدت کے ساتھ گردش کرتا ہے: “جس گھر میں سورۃ الفجر کی تلاوت ہو وہاں رزق بارش کی طرح آتا ہے۔” جملہ خوبصورت ہے، دل کو بھاتا ہے، اور قرآن سے محبت رکھنے والے ہر شخص کو اپنی طرف متوجہ کرتا ہے۔ مگر یہاں ایک بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے: کیا یہ بات واقعی قرآن و سنت سے ثابت ہے؟ یہاں جذبات نہیں، تحقیق کی ضرورت ہے۔ سورۃ الفجر میں اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا کہ جو شخص یا گھر اس سورت کی تلاوت کرے گا، اس کے گھر میں لازماً مال و دولت بارش کی طرح برسنے لگے گی۔ ایسی مخصوص فضیلت کو قرآن یا صحیح حدیث کی طرف منسوب کرنے کے لیے معتبر شرعی دلیل درکار ہوتی ہے۔ لیکن اس کا مطلب یہ بھی نہیں کہ سورۃ الفجر کا رزق سے کوئی تعلق نہیں۔ بلکہ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ سورۃ الفجر انسان کے رزق کے بارے میں ایک بہت گہرا فکری مغالطہ توڑتی ہے۔ اصل سوال: رزق زیادہ ہے یا اللہ کی رضا؟ سورت کے ابتدائی حصے میں فجر، دس راتوں، شفع و وتر اور رات کے گزرنے کی قسموں کے بعد انسان کو تاریخ کی ان قوموں کی طرف متوجہ کیا جاتا ہے جنہیں طاقت، تہذیب، اقتدار اور وسائل حاصل تھے۔ عاد، ارم، ثمود اور فرعون۔ یہ سب اس بات کی یاد دہانی ہیں کہ: طاقت ہمیشہ نجات نہیں دیتی، دولت ہمیشہ عزت نہیں دیتی، اور وسائل ہمیشہ کامیابی کی ضمانت نہیں ہوتے۔ عاد کے پاس طاقت تھی۔ ثمود کے پاس فنِ تعمیر اور چٹانیں تراشنے کی قدرت تھی۔ فرعون کے پاس اقتدار تھا۔ مگر جب طاقت انسان کے اندر سے بندگی نکال کر تکبر پیدا کر دے تو وہی نعمت امتحان بن جاتی ہے۔ یہی سورۃ الفجر کا پہلا بڑا جھٹکا ہے: مسئلہ یہ نہیں کہ تمہارے پاس کتنا ہے؛ مسئلہ یہ ہے کہ جو کچھ تمہارے پاس ہے، اس کے ساتھ تمہارا رویہ کیا ہے۔ سب سے بڑا فریب: دولت = اللہ کی خوشنودی سورت کے آخری حصے میں انسان کی ایک خطرناک نفسیاتی کیفیت سامنے آتی ہے۔ جب اللہ اسے نعمت دیتا ہے اور اس پر کشادگی کرتا ہے تو وہ کہتا ہے: رَبِّي أَكْرَمَنِ “میرے رب نے مجھے عزت دی۔” اور جب اس کا رزق محدود کیا جاتا ہے تو وہ کہتا ہے: رَبِّي أَهَانَنِ “میرے رب نے مجھے ذلیل کر دیا۔” یہاں قرآن انسان کی سوچ کی اصلاح کرتا ہے۔ یعنی: زیادہ مال مل جانا لازماً عزت کی علامت نہیں، اور رزق میں کمی لازماً اللہ کی ناراضی کی علامت نہیں۔ یہ نقطہ سوشل میڈیا کے پورے دعوے کو ایک نئے زاویے سے دیکھنے پر مجبور کرتا ہے۔ اگر ہم یہ سمجھنے لگیں کہ زیادہ رزق = اللہ کی خصوصی رضا، تو ہم سورۃ الفجر کے اصل پیغام کے بالکل الٹ سمت میں جا سکتے ہیں۔ پھر سورۃ الفجر ہمیں کیا سکھاتی ہے؟ اگلی آیات میں قرآن ایک انتہائی اہم حقیقت بیان کرتا ہے: كَلَّا یعنی معاملہ ایسا نہیں جیسا تم سمجھ رہے ہو۔ پھر انسان کے معاشرتی رویے کی حقیقت کھولی جاتی ہے: وہ یتیم کی عزت نہیں کرتا، مسکین کو کھانا کھلانے کی ترغیب نہیں دیتا، اور مال کی محبت میں اسے سمیٹتا چلا جاتا ہے۔ یہاں قرآن نے رزق کو صرف گھر میں آنے والے پیسوں کے طور پر نہیں دیکھا۔ قرآن نے رزق کے ساتھ انسانی ذمہ داری جوڑ دی۔ چونکا دینے والی حقیقت: مال گھر میں آتا ہے، مگر انسان کہاں جاتا ہے؟ یہاں سورۃ الفجر کا پیغام آج کے انسان کے لیے انتہائی طاقتور بن جاتا ہے۔ ہم رزق کو اکثر صرف تنخواہ، کاروبار، جائیداد، بینک بیلنس، گاڑی، مکان اور آسائشوں سے ناپتے ہیں۔ قرآن کا پیمانہ مختلف ہے۔ اگر دولت بڑھ رہی ہے مگر رحم کم ہو رہا ہے، اگر مکان بڑا ہو رہا ہے مگر دل چھوٹا ہو رہا ہے، اگر بینک بیلنس بڑھ رہا ہے مگر یتیم، مسکین اور محتاج نظروں سے اوجھل ہو رہے ہیں، اگر کاروبار کامیاب ہے مگر انسان اپنے رب سے دور ہو رہا ہے، تو سوال یہ نہیں کہ رزق کتنا بڑھا؟ سوال یہ ہے: اس رزق نے انسان کو بنایا کیا؟ سوشل میڈیا کے ایک جملے سے قرآن کے پورے پیغام تک “سورۃ الفجر پڑھو، رزق بارش کی طرح آئے گا” یہ جملہ اگر محض ترغیب اور نیک امید کے طور پر کہا جائے تو الگ بات ہے، لیکن اگر اسے قرآن یا صحیح حدیث کی ثابت شدہ ضمانت کے طور پر پیش کیا جائے تو احتیاط لازم ہے۔ قرآن کی تلاوت یقیناً عبادت ہے۔ قرآن دلوں کے لیے ہدایت ہے۔ قرآن انسان کے اخلاق، فکر اور عمل کو بدلتا ہے۔ لیکن کسی مخصوص سورت کے بارے میں یہ کہنا کہ: “اس کی تلاوت سے لازماً اتنا مالی رزق آئے گا” اس کے لیے واضح اور معتبر دلیل چاہیے۔ دین میں محبت کافی نہیں؛ محبت کے ساتھ نسبت بھی درست ہونی چاہیے۔ رزق کا ایک اور مطلب بھی ہے کبھی رزق رقم نہیں ہوتا۔ رزق صحت بھی ہے۔ رزق سکون بھی ہے۔ رزق نیک اولاد بھی ہے۔ رزق اچھا شریکِ حیات بھی ہے۔ رزق صالح دوست بھی ہے۔ رزق علم بھی ہے۔ رزق وقت بھی ہے۔ رزق قناعت بھی ہے۔ رزق کسی گناہ سے بچ جانے کا موق

About