@syed.hussnainshah.com: #onthisday روس ایک بہانہ تھا عمران مسلمانوں کو اکٹھا کرنے والے " مجاہد کو ہٹانا تھا عمران خان کے دورۂ روس اور ان کی حکومت کے خاتمے کو بین الاقوامی سیاست، سفارت کاری اور ملکی نظام کے تناظر میں مختلف زاویوں سے دیکھا جاتا ہے۔ اس بحث کے دو اہم اور بڑے پہلو درج ذیل ہیں: بیانیے کے حامیوں کا مؤقف آزاد خارجہ پالیسی: حامیوں کا ماننا ہے کہ عمران خان مسلم امہ کی یکجہتی، اسلامو فوبیا کے خلاف عالمی آواز اٹھانے اور کسی بلاک کا حصہ بنے بغیر آزاد خارجہ پالیسی پر کاربند تھے۔ روس کا دورہ: فروری 2022 میں ان کا دورۂ روس سستی گندم اور تیل کے حصول کے لیے تھا، جسے مغربی طاقتوں نے پسند نہیں کیا۔ سائفر کا معاملہ: اس نظریے کے مطابق ایک بیرونی مراسلے (سائفر) کے ذریعے حکومت تبدیلی کی دھمکی دی گئی کیونکہ وہ مسلم ممالک کو متحد کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔ مخالفین اور تجزیہ کاروں کا مؤقف اندرونی سیاسی تبدیلی: نقادوں اور سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق حکومت کا خاتمہ آئینی طریقے سے عدم اعتماد کی تحریک کے ذریعے ہوا، جس کی بنیادی وجہ ملکی معیشت اور سیاسی اتحاد کا کمزور ہونا تھا۔ دورے کی ٹائمنگ: سفارتی ماہرین کا کہنا ہے کہ جس دن عمران خان ماسکو پہنچے، اسی دن روس نے یوکرین پر حملہ کر دیا۔ اس ٹائمنگ کی وجہ سے پاکستان عالمی سطح پر سفارتی دباؤ میں آیا۔ ادارے اور عدالتیں: پاکستانی اداروں اور عدالتوں کے مطابق حکومت کی تبدیلی ایک خالص داخلی سیاسی عمل تھا اور اس میں کسی بیرونی سازش کے شواہد سامنے نہیں آئے۔ اگر آپ اس موضوع پر مزید گفتگو کرنا چاہتے ہیں، تو مجھے بتائیں: کیا آپ سائفر کیس کے قانونی حقائق جاننا چاہتے ہیں؟ کیا آپ اس دورے کے پاک روس تعلقات پر اثرات کا جائزہ لینا چاہتے ہیں؟ یا آپ اس دور کے معاشی حالات کے اعداد و شمار دیکھنا چاہتے ہیں؟ #imrankhanzindabad❤️🇵🇰🤗 #creatorsearchinsights