@akhtargul301: چارسدہ میں میٹر ریڈر کی بے حسی 80 سالہ بابا نور حسن کی موت پر ختم ہوا۔ آج ایک 80 سالہ ضعیف اور غریب ریٹائرڈ چوکیدار نور حسن چارسدہ میں واقع پیسکو کے سنسان دفتر میں کرسی پر ٹڑپتا رہا اور عملہ انسانیت کو بھلا کر دفتر چھوڑ کر بھاگ گئے۔ محکمہ تعلیم کے اس سابق ملازم کے گھر جب پچاس ہزار روپے کا بل اور جرمانہ بھیجا گیا تو ان کے پاس دو وقت کی روٹی کے پیسے بھی نہیں تھے۔ ان کے بھائیوں نے ترس کھا کر ان کے گھر پر ایک چھوٹا سولر پینل لگایا تھا تاکہ بجلی کا بل ان کے کمزور کندھوں پر بوجھ نہ بنے مگر پیسکو اہلکاروں نے بغیر کسی جواز کے پچاس ہزار کا بل تھوپ دیا۔ ورثاء کا الزام ہے کہ میٹر ریڈر فیاض ان سے جرمانہ ختم کرنے کے بدلے رشوت کا مطالبہ کر رہا تھا جس کی ادائیگی بابا کی استطاعت سے باہر تھی۔ بدھ کی صبح بابا نور حسنجب اپنا بل کم کرانے پیسکو دفتر پہنچے تو وہاں مذکورہ میٹر ریڈر سے تکرار ہوئی اور اس دوران ایس ڈی او کے دفتر میں ہی انہیں دل کا دورہ پڑا۔ افسوسناک بات یہ ہے کہ پیسکو عملہ بابا کی مدد کرنے کے بجائے دفتر چھوڑ کر نکل گیا اور وہ 15 منٹ تک وہیں فرش پر تڑپتے رہے۔ جب لوگ اندر پہنچے تو بابا نور حسن کی روح پرواز کر چکی تھی۔ واقعے کے بعد ورثاء نے شدید احتجاج کرتے ہوئے پولیس کو میٹر ریڈر کے خلاف کارروائی کی درخواست دے دی ہے جس پر کاروائی کا آغاز کیا گیا ہے۔ حکومت اور اعلیٰ حکام کو چاہیے کہ وہ پیسکو کے آڈٹ اور بلنگ کے فرسودہ نظام کی مکمل اصلاح کریں تاکہ آئندہ کسی اور غریب کا بوڑھا باپ اس بے حسی کی بھیٹ نہ چڑھے۔ مصباح الدین اتمانی