@mr.baloch633: تشریح یہ جملہ خودداری، آزادی اور اپنی پہچان پر قائم رہنے کا اظہار ہے۔ یہاں "بادشاہ" سے مراد وہ شخص ہے جو اپنی سوچ، فیصلوں اور اصولوں میں مضبوط ہو اور اپنی اہمیت ثابت کرنے کے لیے کسی ہجوم یا چاپلوسی کا محتاج نہ ہو۔ "دربار" اُن لوگوں کی علامت ہے جو طاقت یا فائدے کے لیے کسی کے گرد جمع رہتے ہیں۔ مطلب یہ کہ حقیقی وقار کے لیے ہر وقت لوگوں کا ہجوم ضروری نہیں۔ کبھی تنہائی بھی انسان کو زیادہ مضبوط، آزاد اور باوقار بنا دیتی ہے۔ اصل بادشاہ وہ نہیں جس کے اردگرد بہت سے لوگ ہوں، بلکہ وہ ہے جو اکیلا کھڑا ہو کر بھی اپنے اصولوں سے نہ ہٹے۔ مختصر مفہوم: اپنی قدر جاننے والے انسان کو ہجوم کی ضرورت نہیں ہوتی؛ اُس کی پہچان اُس کے کردار اور اصول ہوتے ہیں۔ دل کی بات: ہمیں دربار سجانے کا شوق نہیں، اپنی دنیا میں بادشاہ رہنا کافی ہے۔ #Fidaa #Baloch #poetrycommunity #urdupoetry #foryoupage