Language
English
عربي
Tiếng Việt
русский
français
español
日本語
한글
Deutsch
हिन्दी
简体中文
繁體中文
API
Home
How To Use
Language
English
عربي
Tiếng Việt
русский
français
español
日本語
한글
Deutsch
हिन्दी
简体中文
繁體中文
Home
Detail
@risaananda6: #fypシ #rayolasadvibes🥀 #puncaktarukobukittinggi
ecaa
Open In TikTok:
Region: ID
Thursday 03 September 2026 14:56:34 GMT
11071
368
0
9
Music
Download
No Watermark .mp4 (
2.39MB
)
No Watermark(HD) .mp4 (
2.33MB
)
Watermark .mp4 (
5.41MB
)
Music .mp3
Comments
There are no more comments for this video.
To see more videos from user @risaananda6, please go to the Tikwm homepage.
Other Videos
Коли привів дівчину на діагностику ходової @Oleg_Jan #гумор #жарти #тренд
História de Bananilso Part 2 #frutas #brasil #frutasfalantes #engraçado
#BaltistanHighway #RoadToSkardu #SkarduVibes #NorthernPakistan #sagarphotography📸
ملال کہتا ہے: شراب پیو گے تو دوزخ میں جاؤ گے، پھر جب جنت کا ذکر آتا ہے تو کہا جاتا ہے کہ وہاں شراب بھی ہوگی اور حوریں بھی۔ مگر شاید اصل سوال یہ ہے کہ ہم نے شراب کی حقیقت کو سمجھا ہی کب ہے، اور حور کی حقیقت کو جانا ہی کب ہے؟ قرآن خود دنیا کی شراب اور آخرت کی شراب کے درمیان فرق بیان کرتا ہے۔ دنیا کی شراب کے بارے میں فرمایا: ﴿إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالْأَنصَابُ وَالْأَزْلَامُ رِجْسٌ مِنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ فَاجْتَنِبُوهُ﴾ (المائدہ 5:90) یعنی دنیا کی خمر ایسی چیز ہے جس سے اجتناب کا حکم دیا گیا، کیونکہ اس کے ساتھ نشہ، عقل کا زوال اور بہت سے مفاسد وابستہ ہیں۔ لیکن جنت کے بارے میں قرآن کہتا ہے: ﴿لَا فِيهَا غَوْلٌ وَلَا هُمْ عَنْهَا يُنْزَفُونَ﴾ (الصافات 37:47) یعنی وہاں ایسی شراب ہوگی جس میں دنیا کی شراب جیسا نقصان اور نشہ نہیں ہوگا۔ اسی لیے اہل معرفت کہتے ہیں کہ ایک ہی لفظ کو دیکھ کر دونوں حقیقتوں کو ایک سمجھ لینا کم فہمی ہے۔ دنیا کی شراب انسان کو اپنے آپ سے غافل کرتی ہے، جبکہ جنت کی نعمت انسان کو کسی تکلیف، نقصان یا ملامت میں مبتلا نہیں کرے گی۔ دنیا کی شراب عقل چھینتی ہے، جنت کی نعمت میں نہ گناہ ہے نہ فساد۔ پھر حور کا ذکر آتا ہے۔ قرآن فرماتا ہے: ﴿وَحُورٌ عِينٌ﴾ (الواقعہ 56:22) لیکن جنت کی حقیقت کو دنیا کے پیمانوں سے ناپنا بھی درست نہیں۔ قرآن خود اصول بیان کرتا ہے: ﴿فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَا أُخْفِيَ لَهُم مِّن قُرَّةِ أَعْيُنٍ﴾ (السجدہ 32:17) یعنی کسی نفس کو معلوم نہیں کہ ان کے لیے آنکھوں کی ٹھنڈک کی کیا کیا نعمتیں چھپا کر رکھی گئی ہیں۔ اور حدیث قدسی میں آتا ہے: «أَعْدَدْتُ لِعِبَادِيَ الصَّالِحِينَ مَا لَا عَيْنٌ رَأَتْ، وَلَا أُذُنٌ سَمِعَتْ، وَلَا خَطَرَ عَلَى قَلْبِ بَشَرٍ» یعنی اللہ نے اپنے صالح بندوں کے لیے وہ کچھ تیار کر رکھا ہے جسے نہ کسی آنکھ نے دیکھا، نہ کسی کان نے سنا، نہ کسی انسان کے دل میں اس کا پورا تصور آیا۔ یہاں صوفیانہ نکتہ پیدا ہوتا ہے: جو شخص جنت کی شراب کو دنیا کی بوتل میں تلاش کرے اور حور کو دنیا کی خواہش کے آئینے میں دیکھے، وہ الفاظ پڑھ رہا ہے، حقیقت نہیں سمجھ رہا۔ صوفی کے نزدیک اصل شراب وہ سرمستی بھی ہے جس میں بندہ اپنی خودی سے نکل کر محبوب حقیقی کی معرفت میں ڈوب جائے۔ لیکن یہ بھی یاد رہنا چاہیے کہ صوفیانہ تعبیر، قرآن و سنت کے ظاہری معنی کو منسوخ نہیں کرتی۔ شریعت اپنی جگہ حق ہے اور معرفت اسی کی روشنی میں معنی پاتی ہے۔ اسی لیے کسی شخص کا یہ کہنا کہ "شراب پینے سے دوزخ ہے، مگر جنت میں شراب ہے، لہٰذا تضاد ہے" دراصل دنیا اور آخرت کی نعمتوں کے فرق کو نظر انداز کرنا ہے۔ دوزخ سے بچنے کے لیے دنیا کی حرام شراب چھوڑنی ہے، اور جنت کی نعمت کو دنیا کی حرام چیز کے برابر نہیں سمجھنا۔ مسئلہ شراب کے لفظ کا نہیں، حقیقت کا ہے۔ اور مسئلہ حور کے تصور کا نہیں، انسان کی اپنی نگاہ کا ہے۔ جس نگاہ نے ہر چیز کو خواہش کے آئینے میں دیکھا، اسے جنت بھی خواہشوں کا بازار نظر آئے گی۔ اور جس دل نے معرفت کا ذائقہ چکھا، وہ جان لے گا کہ جنت کی سب سے بڑی نعمت نہ شراب ہے، نہ حور، بلکہ اللہ کی رضا اور قرب ہے۔ قرآن کہتا ہے: ﴿وَرِضْوَانٌ مِّنَ اللَّهِ أَكْبَرُ﴾ (التوبہ 9:72) "اور اللہ کی رضا سب سے بڑی چیز ہے۔" پس بحث لفظوں پر نہیں ہونی چاہیے۔ شراب کا نام سن کر دنیا کی شراب ذہن میں لانا اور حور کا نام سن کر دنیا کی عورت کا تصور کرنا، دونوں صورتوں میں آدمی اپنی محدود دنیا کو آخرت پر قیاس کر رہا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ آخرت کی نعمتیں ایسی ہیں جن کی پوری حقیقت انسانی عقل ابھی محیط نہیں ہو سکتی۔ الفاظ ہماری سمجھ کے لیے ہیں، حقیقت ہماری موجودہ سمجھ سے کہیں وسیع ہے۔ #sufism #sufilines #unfreezemyaccount #goviral #creatorsearchinsight @🇬🇧𝕄𝕒𝕙𝕚 𝕤𝕙𝕒𝕙 Bukhari
Bánh Gấu Nhân Kem Sữa SBT
About
Robot
API
Legal
Privacy Policy