@achikitabenn: یا سعد بن ابی وقاص کے شل ہاتھوں میں تو بجلی دوڑ گئی ہوگی جب رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا ہوگا کہ: "اے سعد! تیر چلا، میرے ماں باپ تجھ پر قربان۔" صحیح بخاری: ۴۰۵۵ اور صحیح مسلم: ۲۴۱۴ حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کا تعلق قریش کے قبیلہ بنو زہرہ سے تھا، جو نبی کریم ﷺ کا ننھیالی خاندان تھا، اس لیے وہ رشتے میں آپ ﷺ کے ماموں زاد بھائی تھے۔ نزول وحی کے ساتویں روز حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی ترغیب پر اسلام لائے، اور اس وقت ان کی عمر صرف انیس برس تھی۔ وہ ابتدائی چند مسلمانوں میں شمار ہوتے ہیں۔ 3 ہجری میں پیش آنے والے غزوہ اُحد میں مسلمانوں کو ابتدائی کامیابی کے بعد اچانک تیر اندازوں کی غلطی کی وجہ سے سخت آزمائش کا سامنا کرنا پڑا۔ دشمن نے دوبارہ حملہ کر کے مسلمانوں کی صفوں کو منتشر کر دیا اور بعض روایات کے مطابق نبی کریم ﷺ خود شدید خطرے میں گھر گئے۔ اس نازک موقع پر جب اکثر صحابہ منتشر ہو چکے تھے، حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ ان چند جانثار صحابہ میں شامل تھے جو ثابت قدم رہے۔ اس وقت جب مسلمان پریشانی میں بکھر گئے تو تھوڑی دیر تک تنہا انہوں نے اور حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ نے نبی کریم ﷺ کی حفاظت کا فرض انجام دیا۔ حضرت سعدؓ نبی ﷺ کی پشت پر کھڑے ہو کر تیر اندازی کے ذریعے دشمنوں کو قریب آنے سے روکتے رہے۔ اسی جنگ میں حضرت سعد بن ابی وقاص کے اپنے حقیقی بھائی عتبہ بن ابی وقاص نے، جو کفار کی صف میں تھا، موقع پا کر نبی کریم ﷺ پر پتھر پھینکا جس سے آپ ﷺ کا دانتِ مبارک شہید اور لبِ مبارک زخمی ہوا۔ یہ منظر حضرت سعدؓ کے لیے انتہائی تکلیف دہ رہا ہوگا کہ ایک طرف اپنا بھائی اور دوسری طرف اپنا نبی۔ اسی دوران نبی کریم ﷺ نے اپنے ترکش سے تیر نکال نکال کر خود اپنے دستِ مبارک سے حضرت سعدؓ کو دیے اور فرمایا: "تیر چلاؤ، میرے ماں باپ تم پر قربان ہوں۔" یہ الفاظ ایسے تھے جو نبی ﷺ نے پوری زندگی میں کسی اور صحابی کے لیے استعمال نہیں فرمائے۔ خود حضرت علی رضی اللہ عنہ گواہی دیتے ہیں کہ انہوں نے یہ جملہ رسول اللہ ﷺ کی زبان مبارک سے صرف حضرت سعدؓ کے لیے سنا۔ ایک اور روایت کے مطابق جب ترکش کے تیر ختم ہو گئے اور ایک مشرک اپنی زبان درازی سے مسلمانوں کو تنگ کر رہا تھا، تو نبی ﷺ نے حضرت سعدؓ کو اسے نشانہ بنانے کا حکم دیا۔ اس وقت پاس صرف ایک بغیر پھل کا تیر تھا، پھر بھی حضرت سعدؓ نے ایسی مہارت سے نشانہ لگایا کہ وہ مشرک بدحواس ہو کر بھاگ کھڑا ہوا۔ نبی کریم ﷺ نے حضرت سعدؓ کی بہترین تیر اندازی دیکھ کر ان کے لیے خاص دعا بھی فرمائی: "اے اللہ! سعد کا نشانہ درست کر دے۔" یہی وجہ ہے کہ حضرت سعدؓ تاریخِ اسلام کے مشہور ترین تیر اندازوں میں شمار ہوتے ہیں، اور ان کی یہ دعا قبول ہونے کی برکت سے وہ زندگی بھر بے مثال نشانہ باز رہے۔ یہی حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ آگے چل کر عشرہ مبشرہ (وہ دس خوش نصیب صحابہ جنہیں دنیا میں ہی جنت کی خوشخبری دی گئی) میں شامل ہوئے۔ نبی کریم ﷺ نے ان کے بارے میں فرمایا کہ سعد بن ابی وقاص جنت میں ہیں۔ بعد ازاں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت میں انہوں نے فارس کے خلاف جنگِ قادسیہ میں مسلمانوں کی سپہ سالاری کی اور ایران کی عظیم فتح ان کے ہاتھوں نصیب ہوئی، اسی لیے وہ "فاتحِ ایران" اور "فاتحِ قادسیہ" کے لقب سے مشہور ہوئے۔ صحیح بخاری، کتاب المغازی، حدیث 4055، 3725 صحیح مسلم، حدیث 2411، 2412 جامع ترمذی، کتاب المناقب، حدیث 3753 #spirituality #prophetmuhammad ﷺ #islamichistory #explorepage #inkandimagination @Ink & Imagination