@qalawi.meley: #ሙኩሕወዲቢተው🇺🇸🇺🇸 #ጸማም_ተዋጋኢ💚🦁 #ዓዲዃላ💚🤟 #ብርገድንሓመዱ💙ኤር💙👑🦁 #ሰራየ💚ዓደይ💚ዓዲ💚ጀጋኑ🦁

ጎሚዳ_ጎኒ_ውጻዓት🇬🇧🔋
ጎሚዳ_ጎኒ_ውጻዓት🇬🇧🔋
Open In TikTok:
Region: LY
Thursday 03 September 2026 16:49:08 GMT
61
10
3
1

Music

Download

Comments

user4357492199767
user4357492199767 :
2026-09-03 16:52:25
0
tomaswedihagos
@.ቶሚ .🌿.🩵 :
😭😭😭😭
2026-09-03 17:27:50
0
To see more videos from user @qalawi.meley, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

حاجی بابو بشیر احمد صاحب سرکاری ملازمت کے سلسلے میں فیصل آباد میں مقیم تھے۔ 1942ء میں ان کے گھر ایک بچے کی ولادت ہوئی، جس کا نام احسان الحق تجویز کیا گیا۔ یہی بچہ آگے چل کر حضرت مولانا احسان الحق رائے ونڈ والے رحمۃ اللہ علیہ کے نام سے معروف ہوا۔ آپ نے مڈل تک کی عصری تعلیم فیصل آباد میں حاصل کی۔ 1947ء سے 1954ء تک کراچی میں مقیم رہے۔ حاجی بابو بشیر احمد صاحب اور حضرت حاجی عبد الوہاب رحمۃ اللہ علیہ کے درمیان گہرے تعلقات تھے۔ اسی تعلق کی وجہ سے حاجی عبد الوہاب رحمۃ اللہ علیہ کو مولانا احسان الحق کی دینی تعلیم کی فکر رہتی تھی۔ دینی تعلیم کے لیے حاجی صاحب رحمۃ اللہ علیہ، مولانا احسان الحق کو فقیر والی میں حضرت مولانا مفتی فاروق احمد صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی خدمت میں لے گئے۔ آپ نے فارسی کی ابتدائی کتابوں سے لے کر مشکوٰۃ شریف تک کا نصاب صرف تین سال میں حضرت مفتی فاروق احمد رحمۃ اللہ علیہ سے انفرادی طور پر مکمل کیا۔ اس کے بعد دورۂ حدیث کے لیے مظاہر العلوم سہارنپور، جسے ثانی دارالعلوم دیوبند بھی کہا جاتا ہے، تشریف لے گئے۔ سہارنپور میں آپ نے حضرت مولانا محمد زکریا کاندھلوی رحمۃ اللہ علیہ سے بخاری شریف، حضرت مولانا اسعد اللہ رحمۃ اللہ علیہ سے ابوداؤد شریف اور حضرت مولانا امیر محمد رحمۃ اللہ علیہ سے ترمذی شریف پڑھی۔ حضرت مولانا محمد زکریا کاندھلوی رحمۃ اللہ علیہ کے خدام کی ترتیب مکمل ہو چکی تھی، مگر مولانا احسان الحق رحمۃ اللہ علیہ کو حضرت کاندھلوی رحمۃ اللہ علیہ کی خدمت کا بے حد شوق تھا۔ چنانچہ تہجد کے وقت آپ سیڑھیوں کے قریب کھڑے ہو جاتے اور جب حضرت مولانا محمد زکریا رحمۃ اللہ علیہ تہجد کے لیے تشریف لاتے تو آپ انہیں سہارا دے کر اوپر کی منزل تک لے جاتے۔ یہ خدمت آپ کے شوقِ محبت اور عقیدت کی ایک خوب صورت تصویر تھی۔ حضرت مولانا احسان الحق رحمۃ اللہ علیہ نے 1960ء میں دورۂ حدیث مکمل کیا اور اگلے سال 1961ء میں پاکستان واپس تشریف لائے۔ مدرسہ عربیہ رائے ونڈ میں تدریس کی خدمات انجام دینے لگے اور زندگی کے آخری ایام تک اسی ادارے سے وابستہ رہے۔ ہزاروں لوگوں نے آپ سے اصلاحی تعلق قائم کیا، جن کی زندگیوں میں دعوت و تبلیغ کی فکر اور دینی تربیت نمایاں نظر آتی ہے۔ حضرت مولانا احسان الحق رحمۃ اللہ علیہ نے حضرت مولانا محمد یوسف کاندھلوی رحمۃ اللہ علیہ کی مشہور کتاب حیات الصحابہ کا اردو ترجمہ بھی کیا۔ آپ نے یہ عظیم علمی کام 21 نومبر 1990ء کو شروع کیا اور 29 مارچ 1995ء کو مکمل کیا۔ زندگی کے آخری حصے میں طویل علالت کے باعث چلنے پھرنے اور گفتگو کرنے میں دشواری پیش آتی تھی، مگر اس کے باوجود آپ کے علمی افادات اور گفتگو روحانی تاثیر سے خالی نہیں ہوتی تھی۔ علم و عمل کا یہ روشن ستارہ 2 ستمبر بروز بدھ 2026ء، بمطابق 20 ربیع الاول 1448ھ کو غروب ہوگیا۔ حضرت کا آج 3 ستمبر بروز جمعرات نمازِ جنازہ ہے اور آج کی شب جمعہ آپ کی قبر کی پہلی شب ہے۔ اللہ تعالیٰ حضرت مولانا احسان الحق رحمۃ اللہ علیہ کے درجات بلند فرمائے، ان کی دینی و علمی خدمات کو شرفِ قبول عطا فرمائے اور ان کے متعلقین، شاگردوں اور عقیدت مندوں کو صبرِ جمیل عطا فرمائے۔ آمین
حاجی بابو بشیر احمد صاحب سرکاری ملازمت کے سلسلے میں فیصل آباد میں مقیم تھے۔ 1942ء میں ان کے گھر ایک بچے کی ولادت ہوئی، جس کا نام احسان الحق تجویز کیا گیا۔ یہی بچہ آگے چل کر حضرت مولانا احسان الحق رائے ونڈ والے رحمۃ اللہ علیہ کے نام سے معروف ہوا۔ آپ نے مڈل تک کی عصری تعلیم فیصل آباد میں حاصل کی۔ 1947ء سے 1954ء تک کراچی میں مقیم رہے۔ حاجی بابو بشیر احمد صاحب اور حضرت حاجی عبد الوہاب رحمۃ اللہ علیہ کے درمیان گہرے تعلقات تھے۔ اسی تعلق کی وجہ سے حاجی عبد الوہاب رحمۃ اللہ علیہ کو مولانا احسان الحق کی دینی تعلیم کی فکر رہتی تھی۔ دینی تعلیم کے لیے حاجی صاحب رحمۃ اللہ علیہ، مولانا احسان الحق کو فقیر والی میں حضرت مولانا مفتی فاروق احمد صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی خدمت میں لے گئے۔ آپ نے فارسی کی ابتدائی کتابوں سے لے کر مشکوٰۃ شریف تک کا نصاب صرف تین سال میں حضرت مفتی فاروق احمد رحمۃ اللہ علیہ سے انفرادی طور پر مکمل کیا۔ اس کے بعد دورۂ حدیث کے لیے مظاہر العلوم سہارنپور، جسے ثانی دارالعلوم دیوبند بھی کہا جاتا ہے، تشریف لے گئے۔ سہارنپور میں آپ نے حضرت مولانا محمد زکریا کاندھلوی رحمۃ اللہ علیہ سے بخاری شریف، حضرت مولانا اسعد اللہ رحمۃ اللہ علیہ سے ابوداؤد شریف اور حضرت مولانا امیر محمد رحمۃ اللہ علیہ سے ترمذی شریف پڑھی۔ حضرت مولانا محمد زکریا کاندھلوی رحمۃ اللہ علیہ کے خدام کی ترتیب مکمل ہو چکی تھی، مگر مولانا احسان الحق رحمۃ اللہ علیہ کو حضرت کاندھلوی رحمۃ اللہ علیہ کی خدمت کا بے حد شوق تھا۔ چنانچہ تہجد کے وقت آپ سیڑھیوں کے قریب کھڑے ہو جاتے اور جب حضرت مولانا محمد زکریا رحمۃ اللہ علیہ تہجد کے لیے تشریف لاتے تو آپ انہیں سہارا دے کر اوپر کی منزل تک لے جاتے۔ یہ خدمت آپ کے شوقِ محبت اور عقیدت کی ایک خوب صورت تصویر تھی۔ حضرت مولانا احسان الحق رحمۃ اللہ علیہ نے 1960ء میں دورۂ حدیث مکمل کیا اور اگلے سال 1961ء میں پاکستان واپس تشریف لائے۔ مدرسہ عربیہ رائے ونڈ میں تدریس کی خدمات انجام دینے لگے اور زندگی کے آخری ایام تک اسی ادارے سے وابستہ رہے۔ ہزاروں لوگوں نے آپ سے اصلاحی تعلق قائم کیا، جن کی زندگیوں میں دعوت و تبلیغ کی فکر اور دینی تربیت نمایاں نظر آتی ہے۔ حضرت مولانا احسان الحق رحمۃ اللہ علیہ نے حضرت مولانا محمد یوسف کاندھلوی رحمۃ اللہ علیہ کی مشہور کتاب حیات الصحابہ کا اردو ترجمہ بھی کیا۔ آپ نے یہ عظیم علمی کام 21 نومبر 1990ء کو شروع کیا اور 29 مارچ 1995ء کو مکمل کیا۔ زندگی کے آخری حصے میں طویل علالت کے باعث چلنے پھرنے اور گفتگو کرنے میں دشواری پیش آتی تھی، مگر اس کے باوجود آپ کے علمی افادات اور گفتگو روحانی تاثیر سے خالی نہیں ہوتی تھی۔ علم و عمل کا یہ روشن ستارہ 2 ستمبر بروز بدھ 2026ء، بمطابق 20 ربیع الاول 1448ھ کو غروب ہوگیا۔ حضرت کا آج 3 ستمبر بروز جمعرات نمازِ جنازہ ہے اور آج کی شب جمعہ آپ کی قبر کی پہلی شب ہے۔ اللہ تعالیٰ حضرت مولانا احسان الحق رحمۃ اللہ علیہ کے درجات بلند فرمائے، ان کی دینی و علمی خدمات کو شرفِ قبول عطا فرمائے اور ان کے متعلقین، شاگردوں اور عقیدت مندوں کو صبرِ جمیل عطا فرمائے۔ آمین

About