Language
English
عربي
Tiếng Việt
русский
français
español
日本語
한글
Deutsch
हिन्दी
简体中文
繁體中文
API
Home
How To Use
Language
English
عربي
Tiếng Việt
русский
français
español
日本語
한글
Deutsch
हिन्दी
简体中文
繁體中文
Home
Detail
@achadinhos_shopnsr: Tênis feminino #tenis #tenisfeminino #LIVEIncentiveProgram #SideHustleLIVE #PaidPartnership
Achadinhos shop
Open In TikTok:
Region: BR
Friday 04 September 2026 01:15:25 GMT
109
1
0
0
Music
Download
No Watermark .mp4 (
1.1MB
)
No Watermark(HD) .mp4 (
1.1MB
)
Watermark .mp4 (
1.14MB
)
Music .mp3
Comments
There are no more comments for this video.
To see more videos from user @achadinhos_shopnsr, please go to the Tikwm homepage.
Other Videos
#مالييييييييييييييي_خلق_احط_هشتقات_😔 #مالييييييييييييييي_خلق_احط_هشتقات_😔
No. 2 Santet Tiada Tanding‼️😱#paketsantet #filmpaketsantet #dikiriminpaketsantet #filmhoror #horormovies #yasaminjasem #fikinaki #fadlyfaisal #xyzbca #fyp #kurirpaket #paket
apa yang kità ada eehhh kat #dapur #masjidtamantampoiindah dimalam Khamis #yassin dan #tahlil #sampaiterusngap
Kursi lipat portable sandaran seekday enak buat nyantai sembari ngopi di teras rumah👌🏻 #kursilipatportable #kursilipatoutdoor #kursicamping #kursisandaran #kursisantai
سیاسی نظام (شوریٰ اور جوابدہی)امیر کا انتخاب: خلیفہ کوئی بادشاہ یا ڈکٹیٹر نہیں ہوتا تھا، بلکہ اس کا انتخاب عوامی رضامندی اور مشاورت سے ہوتا تھا۔مجلسِ شوریٰ: حکومت کے تمام بڑے فیصلے شوریٰ (مشاورتی کونسل) کے ذریعے کیے جاتے تھے، جس میں علما اور دانشور شامل ہوتے تھے۔کھلی جوابدہی: عام شہری کو بھی خلیفہ سے سوال کرنے کا پورا حق تھا۔ حضرت عمر فاروقؓ سے ایک عام شہری کا کرتے کے کپڑے کے بارے میں بھرے مجمعے میں سوال کرنا اس کی بہترین مثال ہے۔2۔ عدالتی نظام (آزاد عدلیہ)عدالت کی آزادی: عدلیہ کو انتظامیہ سے بالکل الگ رکھا گیا تھا۔ خلیفہ بھی قاضی (جج) کے فیصلے کا پابند تھا۔قانون کے سامنے برابری: خلیفہ کو کوئی قانونی استثنیٰ حاصل نہیں تھا۔ حضرت علیؓ کا ایک غیر مسلم کے خلاف کیس میں عام شہری کی طرح قاضی کی عدالت میں پیش ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔اہلیت کی بنیاد پر تقرری: ججوں کا انتخاب صرف ان کے علم، دیانت اور اعلیٰ کردار کو دیکھ کر کیا جاتا تھا۔3۔ معاشی نظام (فلاحی ریاست)بیت المال (سرکاری خزانہ): یہ ریاست کا مرکزی بینک تھا جہاں زکوۃ، عشر اور جزیہ وغیرہ جمع ہوتے تھے۔ یہ رقم عوام کی فلاح پر خرچ ہوتی تھی۔سوشل سیکیورٹی (وظائف): خلافتِ راشدہ دنیا کی پہلی باقاعدہ فلاحی ریاست تھی جہاں یتیموں، بیواؤں، معذوروں اور بزرگوں (خواہ وہ مسلم ہوں یا غیر مسلم) کے لیے ماہانہ وظائف مقرر تھے۔احتکار (ذخیرہ اندوزی) کا خاتمہ: دولت کو چند ہاتھوں میں جمع ہونے سے روکا جاتا تھا اور مارکیٹ میں ناجائز منافع خوری پر سخت نظر رکھی جاتی تھی۔4۔ انتظامی نظام (صوبائی گورنرز)صوبائی تقسیم: وسیع سلطنت کو صوبوں میں تقسیم کیا گیا تھا اور وہاں گورنرز (امیر) مقرر کیے جاتے تھے۔اثاثوں کی پڑتال: گورنرز کی تقرری سے پہلے اور عہدہ چھوڑنے کے بعد ان کے اثاثوں کا سخت محاسبہ ہوتا تھا تاکہ کرپشن کا کوئی امکان نہ رہے۔ #foryoupage #foryou #unfreezemyacount🙏 #undreezmyaccount #viralvideo @TikTok
About
Robot
API
Legal
Privacy Policy