@fizliterature: ہماری پیاری جین ذی "جاہل" اس لیے کہلا رہی ہے کیونکہ اس نے "گھاس کھانے" سے انکار کر دیا ہے۔ لال جھنڈی نظر آنے پر ہمارے بڑوں کا دماغ خاصا متاثر ہوا ہے۔ اتنا کہ انہیں جین زی کوئی ہوائی مخلوق دکھائی دے رہی ہے جس کے سر پر دو سینگ ہیں اور ماتھے پر ایڈییٹ کا ٹیگ لگا ہوا ہے۔ کیا یہ زیادتی نہیں ہے؟ کسی کو اس حد تک زچ کر دینا کہ اختلاف اتنے بڑھ جائیں۔ حالانکہ، بات تو صرف دو طرفہ سمجھوتے اور عزت کی ہے۔ اب جب حقوق کی ادائیگی کے ساتھ فرائض کی ادائیگی کا تقاضہ بھی ہو رہا ہے تو مسائل تو جنم لے رہے ہیں۔ آپ کو جین ذی "پڑھے لکھے جاہل" اس لیے لگ رہے ہیں کیونکہ انہوں نے اپنی تعلیم کو ضائع نہیں ہونے دیا۔ وہ عزتِ نفس کو مقدم رکھ کر لوگوں کو ان کے "ہاضمے کے مطابق ڈوز" دے رہے ہیں۔ اس لیے وہ "باادب بچوں" میں شمار نہیں ہوتے۔ وہ اتنے معصوم نہیں ہیں کہ اپنے حق پر سمجھوتا کر لیں۔ سو جب کوئی برسوں کی روایات کو توڑتا ہوا، اپنے حصے کا نوالہ آپ کے حلق سے کھینچ کر نکالے گا تو وہ آپ کو مہذب کیسے لگ سکتا ہے؟ اب دماغی تکالیف دینے والوں کو اتنی آسانی سے معافی نہیں مل رہی کیونکہ اس جنریشن کو "عزت" اور "کنٹرول" میں فرق سمجھ آ گیا ہے۔ فطری طور پر آزاد انسان، اگر اپنا الگ نظریہ رکھ کر اپنی عزتِ نفس کو اولین ترجیح بنا لے تو میرا نہیں خیال کہ وہ جاہل ہے۔ بہتر یہی ہے کہ وقت کے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے خود سے چھوٹوں کو بھی موقع دیا جائے۔ #fypppppppppppppp #emotional #viewsproblem #goviral #foryoupage