@harrangtvofficial: |part 01|یہ تکشاشِلا ہے، جسے آج ٹیکسلا کہتے ہیں۔ یہ شہر 6ویں صدی قبل مسیح میں آباد تھا۔ تکشاشِلا کا مطلب ہے "تراشیدہ پتھروں کا شہر"۔ یہاں پتھروں کو تراش کر فن بنایا جاتا تھا۔ 518 قبل مسیح میں بادشاہ داریوش اول نے یہاں حکومت کی۔ فارسی تہذیب کے آثار آج بھی یہاں موجود ہیں۔ 326 قبل مسیح میں سکندرِ اعظم اس شہر میں داخل ہوا۔ اسے جنگ نہیں، پھولوں کے ہاروں نے خوش آمدید کہا۔ چندرگپت موریہ نے یہ شہر فتح کیا اور اسے پھر سے آباد کیا۔ یہاں سے موریہ سلطنت کی بنیاد پڑی۔ اشوک اعظم نے یہاں بدھ مت کے عظیم اسٹوپے تعمیر کروائے۔ یہ اسٹوپہ بدھ مت کا مقدس مرکز تھا۔ گندھارا آرٹ یہاں پروان چڑھا جس میں یونانی اور بدھ فن ملا۔ یہ مجسمے دنیا بھر میں مشہور ہوئے۔ دنیا کی پہلی یونیورسٹیوں میں سے ایک یہاں تھی۔ طلباء 16 سال کی عمر میں داخلہ لیتے تھے۔ چانکیہ جیسا عظیم مفکر یہاں پڑھتا تھا۔ اس نے یہیں "ارتھ شاستر" کی کتاب لکھی۔ #شہر #taixla old #oldisgold #ہر_رنگ_ٹی_وی #harrangtv