@itxsiddiq3: "لوگ دھوکہ نہیں دیتے، لوگ بکتے ہیں اور آپ سے خریدے نہیں جاتے۔" اس کا مفہوم یہ ہے کہ بعض اوقات ہم سمجھتے ہیں کہ کسی نے ہمیں دھوکہ دیا، لیکن حقیقت میں وہ شخص اپنے فائدے، لالچ، مفاد، طاقت، دولت یا کسی اور چیز کے بدلے اپنا رویہ بدل لیتا ہے۔ یعنی وہ اپنے اصول یا تعلق کو کسی اور فائدے کے لیے "بیچ" دیتا ہے۔ اور "آپ سے خریدے نہیں جاتے" سے مراد یہ ہے کہ آپ کے پاس شاید وہ چیز نہیں تھی جس کے لیے وہ شخص اپنا تعلق، وفاداری یا توجہ تبدیل کر دیتا۔ اس لیے وہ کسی اور طرف چلا گیا۔ البتہ یہ جملہ ایک تلخ اور استعاراتی اندازِ بیان ہے۔ حقیقت میں ہر انسان "بکنے والا" نہیں ہوتا۔ بہت سے لوگ اصول، محبت، عزت اور وفاداری کو کسی فائدے پر ترجیح دیتے ہیں۔ سادہ الفاظ میں: کبھی کبھی جسے ہم دھوکہ سمجھتے ہیں، وہ دراصل کسی شخص کا اپنے مفاد کو تعلق پر ترجیح دینا ہوتا ہے