@qa.quote.hub: کارل مارکس سے منسوب اس مثال میں ایک گہری اور تلخ معاشرتی حقیقت چھپی ہوئی ہے۔ جو چیز مسلسل کام کرتی ہے، وہ وقت کے ساتھ گھستی بھی ہے اور اس پر کام کا اثر یا دھول بھی نظر آتی ہے۔ لیکن دنیا اکثر کام کرنے والے کی محنت، تھکن اور اس کی قربانی کو دیکھنے کے بجائے صرف اس کی ظاہری حالت پر تنقید کرتی ہے۔ دوسری طرف، جو بالکل بیکار اور سست پڑا رہتا ہے، وہ باہر سے ہمیشہ چمکتا ہوا اور مکمل دکھائی دیتا ہے کیونکہ اس نے کبھی کوئی ذمہ داری اٹھائی ہی نہیں ہوتی۔ لوگ اس ظاہری صفائی اور کامل دکھائی دینے والی حالت کو دیکھ کر اس کی تعریفیں کرتے ہیں۔ یہ انسان کی فطرت ہے کہ وہ نتائج اور ظاہری صورت کو دیکھ کر فیصلہ کرتا ہے، نہ کہ اس محنت اور جدوجہد کو جو پسِ منظر میں ہو رہی ہوتی ہے۔ ذمہ داری اٹھانے والے کو ہمیشہ گندگی، غلطیوں اور تنقید کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جبکہ کچھ نہ کرنے والے بغیر کسی محنت کے تعریف سمیٹ لیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جو لوگ عملی طور پر کام کرتے ہیں اور بوجھ اٹھاتے ہیں، انہیں دنیا کی باتوں کی پروا کیے بغیر اپنا کام جاری رکھنا پڑتا ہے، کیونکہ ان کی اصل قیمت ان کا کام ہے، ظاہری چمک دھمک نہیں۔ #quotes #urdu #100k #deep #learnontiktok