@mr.baloch633: تشریح یہ جملہ اُس معاشرتی رویّے پر طنز ہے جہاں انسان کو اپنی بات رکھنے کی آزادی تو دی جاتی ہے، مگر صرف اُس وقت تک جب تک اُس کی بات دوسروں کی مرضی کے مطابق ہو۔ آپ کسی معاملے پر اختلاف کریں تو لوگ دلیل سننے کے بجائے آپ کے لہجے پر اعتراض کرتے ہیں۔ سچ بولیں تو آپ کی نیت پر سوال اٹھتا ہے، خاموش رہیں تو کہتے ہیں کہ آپ کچھ چھپا رہے ہیں، اور جب حقیقت سامنے رکھ دیں تو مسئلہ حقیقت نہیں رہتا بلکہ لوگوں کی ناراضگی بن جاتا ہے۔ ایسے ماحول میں انسان کو ہر بات پر خود کو بدلنے کے بجائے اپنی نیت صاف، لہجہ مہذب اور مؤقف واضح رکھنا چاہیے۔ ہر شخص کو خوش کرنا ممکن نہیں، کیونکہ کچھ لوگ آپ کے الفاظ سے نہیں بلکہ آپ کے اختلاف سے ناراض ہوتے ہیں۔ مختصر مفہوم: مسئلہ اکثر ہماری بات میں نہیں ہوتا، بلکہ لوگوں کی اُس بات کو قبول کرنے کی صلاحیت میں ہوتا ہے جو اُن کی سوچ کے خلاف ہو۔ آخری بات: ہمیں سب کی پسند بننے کا شوق نہیں، بس اتنا کافی ہے کہ ہماری بات سچی ہو اور ضمیر مطمئن ہو #Fidaa #Baloch #poetrycommunity #urdupoetry #foryoupage