@iislahh: the bodysuit is giving >>> #bodysuit #bodysuitstyle #clothesforwomen #OOTD

Isla
Isla
Open In TikTok:
Region: PH
Friday 04 September 2026 23:57:03 GMT
3301
79
1
12

Music

Download

Comments

jadejade.ephan
JadeJade Ephan :
🥵🥵🥵
2026-09-05 20:45:40
0
To see more videos from user @iislahh, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

عروج کے پیچھے بھی ایک حکمت ہے یہ بات انسان کو زندگی کے ایک بہت گہرے اصول کی طرف متوجہ کرتی ہے کہ اللہ تعالیٰ جس انسان کو عروج دینا چاہتا ہے، اسے پہلے بہت سی آزمائشوں، رکاوٹوں اور مشکلات سے گزارتا ہے۔ بظاہر انسان کو لگتا ہے کہ حالات اس کے خلاف جا رہے ہیں، راستے بند ہو رہے ہیں، محنت کے باوجود کامیابی نہیں مل رہی اور شاید اس کی دعائیں قبول نہیں ہو رہیں، لیکن حقیقت میں ہر مشکل کا مطلب ناکامی نہیں ہوتا۔ بعض اوقات اللہ تعالیٰ انسان کو اس مقام کے لیے تیار کر رہا ہوتا ہے جس کا وہ ابھی تصور بھی نہیں کر سکتا۔ جس طرح ایک سیڑھی پر چڑھنے کے لیے ہر قدم پچھلے قدم سے اوپر ہوتا ہے، اسی طرح زندگی میں بلندی بھی ایک ہی چھلانگ سے نہیں ملتی بلکہ انسان چھوٹے چھوٹے مرحلوں، ناکامیوں، تجربات اور صبر کے ذریعے آگے بڑھتا ہے۔ تصویر میں ایک شخص بلند چوٹی کی طرف چڑھ رہا ہے جبکہ دوسرا راستے کی مشکلات دیکھ کر پیچھے ہٹتا دکھائی دیتا ہے۔ یہی منظر ہماری زندگی کی حقیقت بیان کرتا ہے کہ ایک ہی مشکل کسی کے لیے رکاوٹ بن سکتی ہے اور کسی دوسرے کے لیے کامیابی کی سیڑھی۔ فرق صرف سوچ، صبر اور اللہ پر بھروسے کا ہوتا ہے۔ کبھی انسان کسی موقع کے چھن جانے پر بہت افسوس کرتا ہے، لیکن کچھ عرصے بعد اسے احساس ہوتا ہے کہ اگر وہ موقع مل جاتا تو شاید وہ اس راستے تک نہ پہنچ پاتا جہاں آج کھڑا ہے۔ اسی طرح بعض رشتے، بعض ناکامیاں، بعض تاخیر اور بعض بند دروازے انسان کو اُس راستے سے ہٹا دیتے ہیں جو اس کے حق میں بہتر نہیں ہوتا۔ اس لیے ہر تاخیر کو محرومی سمجھنا درست نہیں۔ قرآن کا مفہوم بھی ہمیں یہی امید دیتا ہے کہ انسان بعض اوقات کسی چیز کو ناپسند کرتا ہے حالانکہ اس میں اس کے لیے بھلائی ہو سکتی ہے۔ زندگی میں جب انسان مسلسل محنت کرتا ہے، صبر کرتا ہے، اپنی غلطیوں سے سیکھتا ہے اور اللہ پر اعتماد برقرار رکھتا ہے تو مشکلات آہستہ آہستہ اس کی شخصیت کو مضبوط بناتی ہیں۔ عروج صرف منزل کا نام نہیں بلکہ اس سفر کا نام بھی ہے جو انسان کو منزل کے قابل بناتا ہے۔ جس شخص نے مشکلات نہیں دیکھیں، وہ اکثر کامیابی کی قدر نہیں سمجھتا، جبکہ جس نے محرومی، انتظار اور محنت کا زمانہ دیکھا ہو، وہ کامیابی ملنے کے بعد زیادہ شکر گزار ہوتا ہے۔ اس لیے اگر آج راستہ مشکل ہے تو ضروری نہیں کہ آپ غلط راستے پر ہیں؛ ممکن ہے آپ کو مضبوط بنایا جا رہا ہو۔ البتہ اس کا مطلب یہ بھی نہیں کہ ہر مشکل کو بغیر سوچے برداشت کرتے رہیں؛ انسان کو دعا کے ساتھ عقل، محنت، مشورہ اور درست فیصلہ بھی اختیار کرنا چاہیے۔ اصل سبق یہی ہے کہ اللہ سے امید نہ چھوڑیں، اپنی کوشش نہ چھوڑیں اور وقتی حالات کو اپنی پوری زندگی کا فیصلہ نہ سمجھیں۔ آج کی ٹھوکر کل کا تجربہ بن سکتی ہے، آج کی ناکامی کل کی کامیابی کا سبب بن سکتی ہے، اور آج کا بند دروازہ کسی بہتر راستے کی طرف لے جا سکتا ہے۔ #unfreezemyaccount #foryoupage #foryou #fypシ゚viral__ #fyp
عروج کے پیچھے بھی ایک حکمت ہے یہ بات انسان کو زندگی کے ایک بہت گہرے اصول کی طرف متوجہ کرتی ہے کہ اللہ تعالیٰ جس انسان کو عروج دینا چاہتا ہے، اسے پہلے بہت سی آزمائشوں، رکاوٹوں اور مشکلات سے گزارتا ہے۔ بظاہر انسان کو لگتا ہے کہ حالات اس کے خلاف جا رہے ہیں، راستے بند ہو رہے ہیں، محنت کے باوجود کامیابی نہیں مل رہی اور شاید اس کی دعائیں قبول نہیں ہو رہیں، لیکن حقیقت میں ہر مشکل کا مطلب ناکامی نہیں ہوتا۔ بعض اوقات اللہ تعالیٰ انسان کو اس مقام کے لیے تیار کر رہا ہوتا ہے جس کا وہ ابھی تصور بھی نہیں کر سکتا۔ جس طرح ایک سیڑھی پر چڑھنے کے لیے ہر قدم پچھلے قدم سے اوپر ہوتا ہے، اسی طرح زندگی میں بلندی بھی ایک ہی چھلانگ سے نہیں ملتی بلکہ انسان چھوٹے چھوٹے مرحلوں، ناکامیوں، تجربات اور صبر کے ذریعے آگے بڑھتا ہے۔ تصویر میں ایک شخص بلند چوٹی کی طرف چڑھ رہا ہے جبکہ دوسرا راستے کی مشکلات دیکھ کر پیچھے ہٹتا دکھائی دیتا ہے۔ یہی منظر ہماری زندگی کی حقیقت بیان کرتا ہے کہ ایک ہی مشکل کسی کے لیے رکاوٹ بن سکتی ہے اور کسی دوسرے کے لیے کامیابی کی سیڑھی۔ فرق صرف سوچ، صبر اور اللہ پر بھروسے کا ہوتا ہے۔ کبھی انسان کسی موقع کے چھن جانے پر بہت افسوس کرتا ہے، لیکن کچھ عرصے بعد اسے احساس ہوتا ہے کہ اگر وہ موقع مل جاتا تو شاید وہ اس راستے تک نہ پہنچ پاتا جہاں آج کھڑا ہے۔ اسی طرح بعض رشتے، بعض ناکامیاں، بعض تاخیر اور بعض بند دروازے انسان کو اُس راستے سے ہٹا دیتے ہیں جو اس کے حق میں بہتر نہیں ہوتا۔ اس لیے ہر تاخیر کو محرومی سمجھنا درست نہیں۔ قرآن کا مفہوم بھی ہمیں یہی امید دیتا ہے کہ انسان بعض اوقات کسی چیز کو ناپسند کرتا ہے حالانکہ اس میں اس کے لیے بھلائی ہو سکتی ہے۔ زندگی میں جب انسان مسلسل محنت کرتا ہے، صبر کرتا ہے، اپنی غلطیوں سے سیکھتا ہے اور اللہ پر اعتماد برقرار رکھتا ہے تو مشکلات آہستہ آہستہ اس کی شخصیت کو مضبوط بناتی ہیں۔ عروج صرف منزل کا نام نہیں بلکہ اس سفر کا نام بھی ہے جو انسان کو منزل کے قابل بناتا ہے۔ جس شخص نے مشکلات نہیں دیکھیں، وہ اکثر کامیابی کی قدر نہیں سمجھتا، جبکہ جس نے محرومی، انتظار اور محنت کا زمانہ دیکھا ہو، وہ کامیابی ملنے کے بعد زیادہ شکر گزار ہوتا ہے۔ اس لیے اگر آج راستہ مشکل ہے تو ضروری نہیں کہ آپ غلط راستے پر ہیں؛ ممکن ہے آپ کو مضبوط بنایا جا رہا ہو۔ البتہ اس کا مطلب یہ بھی نہیں کہ ہر مشکل کو بغیر سوچے برداشت کرتے رہیں؛ انسان کو دعا کے ساتھ عقل، محنت، مشورہ اور درست فیصلہ بھی اختیار کرنا چاہیے۔ اصل سبق یہی ہے کہ اللہ سے امید نہ چھوڑیں، اپنی کوشش نہ چھوڑیں اور وقتی حالات کو اپنی پوری زندگی کا فیصلہ نہ سمجھیں۔ آج کی ٹھوکر کل کا تجربہ بن سکتی ہے، آج کی ناکامی کل کی کامیابی کا سبب بن سکتی ہے، اور آج کا بند دروازہ کسی بہتر راستے کی طرف لے جا سکتا ہے۔ #unfreezemyaccount #foryoupage #foryou #fypシ゚viral__ #fyp
من الداخل. بدلًا من التركيز على ما ينقصك، ابدأ بتقدير ما تملكه الآن. • تمرين بسيط: دوّن كل يوم ثلاثة أشياء بسيطة جعلتك تبتسم (كوب قهوة، رسالة من صديق، أو حتى لحظة هدوء). هذا يدرب عقلك على رصد الإيجابيات وسط الضجيج. • توقف عن المقارنة: تذكر أن وسائل التواصل الاجتماعي تعرض
من الداخل. بدلًا من التركيز على ما ينقصك، ابدأ بتقدير ما تملكه الآن. • تمرين بسيط: دوّن كل يوم ثلاثة أشياء بسيطة جعلتك تبتسم (كوب قهوة، رسالة من صديق، أو حتى لحظة هدوء). هذا يدرب عقلك على رصد الإيجابيات وسط الضجيج. • توقف عن المقارنة: تذكر أن وسائل التواصل الاجتماعي تعرض "أفضل اللقطات" فقط، فلا تقارن كواليس حياتك المتعبة بعروض الآخرين المثالية. 2. إدارة العقل والمشاعر أفكارك هي التي تلون عالمك؛ إذا كانت سوداوية، سيصبح العالم باهتًا. • عش اللحظة: القلق هو عيش في المستقبل الذي لم يأتِ بعد، والندم هو عيش في الماضي الذي انتهى. ركز على "الآن". • تقبل المشاعر: الحياة ليست سعادة دائمة. من الطبيعي أن تحزن أو تغضب، تقبل هذه المشاعر وأعطِ نفسك حقها في التعبير ثم امضِ قدمًا. 3. الاستثمار في العلاقات الإنسان كائن اجتماعي بطبعه، وجود دائرة داعمة هو سر الصمود النفسي. • النوعية لا الكمية: صديق واحد حقيقي يفهم صمتك خير من مئة صديق للمجاملات. • العطاء: مساعدة الآخرين تعزز هرمونات السعادة (الإندورفين). اصنع يومًا جميلًا لشخص آخر، وستجد أن يومك أصبح أجمل تلقائيًا.

About