@sukhanedil01: کچھ نقصان ایسے ہوتے ہیں جن کے بعد صرف معذرت کافی نہیں ہوتی۔ جیسے شاخ سے ٹوٹا ہوا پتا ہوا کے معافی مانگنے سے دوبارہ نہیں جڑتا، ویسے ہی غصے میں کہے گئے الفاظ واپس نہیں لیے جا سکتے۔ کسی کا دل توڑ کر بعد میں معافی مانگ لینا آسان ہے، مگر اُس دل سے وہ تکلیف مٹا دینا آسان نہیں جو اُن الفاظ نے دی ہو۔ کسی کو اُس کی شکل، رنگ، غربت، کمزوری یا کسی محرومی کا طعنہ دے کر بعد میں یہ کہہ دینا کہ "میں تو غصے میں تھا" اُس کے دل سے وہ لمحہ نہیں مٹاتا۔ لفظ بولنے والے کے لیے شاید چند لمحوں کی بات ہوتے ہیں، مگر سننے والا انہیں کبھی کبھی برسوں اپنے اندر لیے پھرتا ہے۔ معافی مانگنا ضروری ہے، مگر اس سے پہلے اپنے الفاظ کا خیال رکھنا اُس سے بھی زیادہ ضروری ہے۔ کیونکہ ہر زخم معافی سے نہیں بھرتا، کچھ زخم صرف اس لیے خاموش رہ جاتے ہیں کہ اُنہیں بیان کرنے والا تھک چکا ہوتا ہے۔ اس لیے کسی کے دل کو توڑنے سے پہلے سوچ لیا کریں، کیونکہ ٹوٹی ہوئی چیز کو جوڑ بھی دیا جائے تو اس پر پڑی دراڑ ہمیشہ یاد دلاتی رہتی ہے کہ اسے کبھی توڑا گیا تھا۔ #fyp #aesthetic #viralvideo