@Sasta Ladka:حضرت موسیٰ علیہ السلام اللہ تعالیٰ کے نبی تھے۔ اُس زمانے میں فرعون بڑا ظالم بادشاہ تھا اور بنی اسرائیل کو بہت تکلیفیں دیتا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو حکم دیا کہ وہ بنی اسرائیل کو لے کر وہاں سے نکل جائیں۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام بنی اسرائیل کے لوگوں کو اپنے ساتھ لے کر روانہ ہو گئے۔ جب فرعون کو خبر ملی کہ بنی اسرائیل چلے گئے ہیں، تو وہ اپنی فوج کے ساتھ ان کے پیچھے چل پڑا۔ آگے سمندر تھا اور پیچھے فرعون کی فوج، اس لیے بنی اسرائیل گھبرا گئے۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو حکم دیا کہ اپنا عصا سمندر پر ماریں۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے ایسا ہی کیا تو اللہ کے حکم سے سمندر پھٹ گیا اور درمیان میں خشک راستہ بن گیا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام اور بنی اسرائیل اس راستے سے سمندر پار کر گئے۔ فرعون اور اس کی فوج بھی ان کے پیچھے اسی راستے میں داخل ہو گئی۔ جب حضرت موسیٰ علیہ السلام اور بنی اسرائیل محفوظ طریقے سے گزر گئے، تو اللہ تعالیٰ کے حکم سے سمندر دوبارہ مل گیا۔ فرعون اور اس کی فوج پانی میں ڈوب گئی۔ یہ واقعہ ہمیں بتاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے نیک بندوں کی مدد کرتا ہے اور ظالموں کا انجام برا ہوتا ہے۔