@itx_kashan.007: Mini Vlog Soon valley 🥰 #foryou #foryoupage #minivlog #waterfall #soonvalley

👑 کاشان مندیال 👑
👑 کاشان مندیال 👑
Open In TikTok:
Region: PK
Saturday 05 September 2026 09:31:54 GMT
4046
330
55
53

Music

Download

Comments

ali_farhan0718
Ali Farhan :
Masha Allah beautiful place good video shots
2026-09-06 04:55:28
0
wasay_____awan
♡𝑾𝑨س𝑨𝒀 𝑨𝑾𝑨ن♡ :
Kashan Vloger 🫡
2026-09-05 09:43:26
0
usama_cheena
Usama Cheena✨🥀 :
Enjoy buddyyyy🤲🏻❤️🦋🕰️🥀😘
2026-09-05 09:42:16
0
itx.ahsan055
✨احسن✨ :
Khair hove🫡
2026-09-05 09:37:12
0
chotytiktokr.2
ابرار حسین سوڈھی جے والی :
Welcome
2026-09-05 12:02:01
0
malikasadchand210
🔱aعwan🖤باغی ⚜️ :
Bhira zadgi hovi 🤲
2026-09-05 15:38:16
0
shahbazkhan..512
شہباز بلوچ⚡💖 :
Geo vloger Sahb🖤
2026-09-05 14:09:37
0
ali_farhan0718
Ali Farhan :
Bhai kab Jana Howa hai
2026-09-06 04:54:56
0
sikandarking0581
🍁سکندر مہوٹہAS🍁 :
🥰🥰🥰
2026-09-06 03:29:04
0
aqibtiwana
عاقب ٹوانہ 🥷🏻💫 :
❤️❤️❤️
2026-09-06 03:02:13
0
shahzadj35
سید جون شاہ 🚩 :
😏😏😏
2026-09-06 01:35:22
0
_zain_alli_54_
꧁𝒁𝒂𝒊𝒏 𝑼𝒍 𝒂𝒃𝒊𝒅𝒆𝒆𝒏꧂ :
👍👍👍
2026-09-05 20:28:54
0
maher.ali819
mahar Ali :
❤️❤️❤️
2026-09-05 20:17:25
0
ssg.syed
꧁༺SSG☆Syed☬☆꧂ :
🥰🥰🥰
2026-09-05 18:01:26
0
kaleem.awan05
Maلik Kaleem Awan :
🥰🥰🥰
2026-09-05 17:07:08
0
malikshehryartiwana
شہری ٹوانہ :
🥰🥰🥰
2026-09-05 16:06:06
0
itsahtisham03
AHTISHAM ⚜️ :
🥰🥰
2026-09-05 15:48:02
0
itsahtisham03
AHTISHAM ⚜️ :
🥰🥰🥰
2026-09-05 15:47:14
0
malik_zeeshan5848
Malik Zeeshan :
❤️❤️❤️❤️
2026-09-05 15:41:05
0
imranj507
عمران مانی🚩👑 :
☺️☺️☺️
2026-09-05 15:21:25
0
ashankhanpathan2
سناؤ خان 🤼✨🔥 :
😂😂😂
2026-09-05 15:04:22
0
ashankhanpathan2
سناؤ خان 🤼✨🔥 :
❤️❤️❤️
2026-09-05 15:04:20
0
nadeem.7787
nadeem 77 :
🥰🥰🥰
2026-09-05 14:10:56
0
faisalilahi52
Faisal khan 283 :
❤️❤️❤️
2026-09-05 12:39:19
0
khalil.dhatt
خلیل دھت اسٹیشن والا 🔥🔥 :
🥰🥰🥰
2026-09-05 09:36:43
0
To see more videos from user @itx_kashan.007, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

دہلی و سرینگر سے اہم خبر ممتاز کشمیری رہنما یاسین ملک کا 25 صفحات پر مشتمل تازہ بیانِ حلفی-  مقدمے، انصاف کے عمل اور 36 برس بعد سرلا بھٹ قتل کیس میں ملوث کیے جانے پر متعدد اہم سوالات —  والدہ، بہنوں ، اہلیہ اور 13 سالہ بیٹی کے نام انتہائی جذباتی پیغامات تہاڑ جیل میں قید محمد یاسین ملک صاحب کی جانب سے عدالت کے لیے تیار کیا گیا 25 صفحات پر مشتمل تازہ بیانِ حلفی میرے سامنے آیا ہے۔ یہ یہ تاریخی دستاویز محض ایک قانونی دفاع نہیں بلکہ اپنی زندگی، مقدمے، ماضی کے واقعات اور خاندان کے بارے میں ایک غیر معمولی ذاتی بیان بھی ہے۔ دستاویز میں یاسین ملک سرلا بھٹ کے قتل سے متعلق استغاثہ کے موجودہ مؤقف کو چیلنج کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ان کا نام اس مقدمے میں کئی دہائیوں تک شامل نہیں تھا اور موجودہ نظریہ انہیں ایک ایسے مقدمے میں ملوث کرنے کے لیے پیش کیا گیا ہے جس میں، ان کے مطابق، ان کا نام 36 برس سے زیادہ عرصے تک موجود  ہی نہیں تھا۔ وہ یہ مؤقف بھی اختیار کرتے ہیں کہ انصاف کسی بے گناہ شخص کو حقیقی مجرم کا متبادل بنا کر قائم نہیں کیا جا سکتا۔  اس مقدمے کے قانونی اور تاریخی نکات کی تفصیل میں الگ تحریر میں پیش کروں گا۔ لیکن اس بیان کے آخری صفحات پڑھتے ہوئے قانونی بحث اچانک ایک انتہائی ذاتی اور انسانی المیے میں بدل جاتی ہے۔ یہ بیان مجھے آج سحری کے وقت ملا۔ جب میں اور میری اہلیہ نے یاسین ملک کے اپنی والدہ، اہلیہ اور 13 سالہ بیٹی کے نام لکھے الفاظ پڑھے تو ہماری آنکھیں آبدیدہ ہوگئیں۔ یاسین ملک تصور میں ہمارے سامنے کھڑے تھے۔ یاسین ملک  نے اپنی اہلیہ اور بیٹی کے نام جو لکھا وہ میں انگریزی میں ان کے بیان سے نقل کر رہا ہوں۔ وہ لکھتے ہیں: “Through this affidavit, I also wish to address my wife and my daughter. For the last eight years, I have not been able to hear your voices or communicate with you, as I was not permitted phone calls or video conferencing with you.”  یعنی ان کے اپنے بیان کے مطابق آٹھ برس سے انہیں اپنی اہلیہ اور بیٹی کی آواز سننے یا فون اور ویڈیو رابطے کی اجازت نہیں مل سکی۔ اپنی اہلیہ  مشعال ملک کے  نام اور بارے میں وہ اپنے بیان میں  لکھتے ہیں: “I do not want you to spend the rest of your life carrying the burden of my circumstances or living as a widow. I therefore request you to find the courage to begin a new chapter of your life with dignity and hope.”  اور پھر وہ ایک نہایت دردناک اور اپنی زندگی کا مشکل فیصلہ لکھتے  ہیں: “Before I will be hanged, I have taken the decision to separate you from the bond of our Nikah.”  یہ الفاظ کسی سیاسی نعرے کی زبان نہیں، بلکہ ایک ایسے شوہر کے الفاظ ہیں جو اپنی ممکنہ طویل قید یا موت کے تناظر میں اپنی اہلیہ کے مستقبل کے بارے میں سوچ رہا ہے۔ میں یہ الفاظ پڑہتے ہوے کانپ گیا۔۔۔۔ اپنی 13 سالہ بیٹی رضیہ سلطانہ کے نام جو لکھا  میرے نزدیک وہ پوری دستاویز کے سب سے دردناک حصوں میں شامل ہے۔ بہت درد ناک “To my beloved thirteen-year-old daughter, Raziya Sultana, I wish to say that I have not heard your voice for the last eight years.” اور پھر وہ مزید لکھتے ہیں ؛  “Today, while I remain confined within my cell, I carry your memories with me every moment. In my death cell, there is only myself and your photograph.”  یاسین ملک رضیہ کے لئیے مزید لکھتے ہیں: “Through your picture, I feel your presence with me twenty-four hours a day. I can only pray for your happiness, your safety and your bright future.”  ان چند سطروں میں ایک باپ کی آٹھ سالہ جدائی، جیل کی تنہائی اور بیٹی کی ایک تصویر میں زندہ رہنے والی پوری دنیا سمٹ آتی ہے۔ اپنی بیٹی سے وہ اپنی والدہ کے لیے  حکم کی بجاے یہ درخواست لکھتے  ہیں: “I request you, my beloved daughter, to kindly call your grandmother every day for at least five minutes, so that she may feel your love, affection and support during these difficult times.”  ایک باپ اپنی بیٹی سے اپنے لیے کچھ نہیں مانگ رہا۔ وہ اس سے کہہ رہا ہے کہ اپنی دادی کو روزانہ صرف پانچ منٹ فون کر لیا کرو تاکہ ایک بوڑھی ماں کو اپنی پوتی کی محبت اور سہارا محسوس ہوتا رہے۔ اب کوئ پتھر دل ہو گا جس کا یہ الفاظ پڑہتے ہوے سینہ نہ پھٹے ۔  بیانِ حلفی کا اختتام — یاسین ملک کے اپنے الفاظ اختتامی حصے میں یاسین ملک لکھتے ہیں: “No human institution can erase what actually happened. No passage of time can transform falsehood into truth. No repetition of an allegation can make it a fact.”  اور پھر: “I therefore leave this affidavit not as a plea for sympathy, nor as an appeal f
دہلی و سرینگر سے اہم خبر ممتاز کشمیری رہنما یاسین ملک کا 25 صفحات پر مشتمل تازہ بیانِ حلفی- مقدمے، انصاف کے عمل اور 36 برس بعد سرلا بھٹ قتل کیس میں ملوث کیے جانے پر متعدد اہم سوالات — والدہ، بہنوں ، اہلیہ اور 13 سالہ بیٹی کے نام انتہائی جذباتی پیغامات تہاڑ جیل میں قید محمد یاسین ملک صاحب کی جانب سے عدالت کے لیے تیار کیا گیا 25 صفحات پر مشتمل تازہ بیانِ حلفی میرے سامنے آیا ہے۔ یہ یہ تاریخی دستاویز محض ایک قانونی دفاع نہیں بلکہ اپنی زندگی، مقدمے، ماضی کے واقعات اور خاندان کے بارے میں ایک غیر معمولی ذاتی بیان بھی ہے۔ دستاویز میں یاسین ملک سرلا بھٹ کے قتل سے متعلق استغاثہ کے موجودہ مؤقف کو چیلنج کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ان کا نام اس مقدمے میں کئی دہائیوں تک شامل نہیں تھا اور موجودہ نظریہ انہیں ایک ایسے مقدمے میں ملوث کرنے کے لیے پیش کیا گیا ہے جس میں، ان کے مطابق، ان کا نام 36 برس سے زیادہ عرصے تک موجود ہی نہیں تھا۔ وہ یہ مؤقف بھی اختیار کرتے ہیں کہ انصاف کسی بے گناہ شخص کو حقیقی مجرم کا متبادل بنا کر قائم نہیں کیا جا سکتا۔ اس مقدمے کے قانونی اور تاریخی نکات کی تفصیل میں الگ تحریر میں پیش کروں گا۔ لیکن اس بیان کے آخری صفحات پڑھتے ہوئے قانونی بحث اچانک ایک انتہائی ذاتی اور انسانی المیے میں بدل جاتی ہے۔ یہ بیان مجھے آج سحری کے وقت ملا۔ جب میں اور میری اہلیہ نے یاسین ملک کے اپنی والدہ، اہلیہ اور 13 سالہ بیٹی کے نام لکھے الفاظ پڑھے تو ہماری آنکھیں آبدیدہ ہوگئیں۔ یاسین ملک تصور میں ہمارے سامنے کھڑے تھے۔ یاسین ملک نے اپنی اہلیہ اور بیٹی کے نام جو لکھا وہ میں انگریزی میں ان کے بیان سے نقل کر رہا ہوں۔ وہ لکھتے ہیں: “Through this affidavit, I also wish to address my wife and my daughter. For the last eight years, I have not been able to hear your voices or communicate with you, as I was not permitted phone calls or video conferencing with you.” یعنی ان کے اپنے بیان کے مطابق آٹھ برس سے انہیں اپنی اہلیہ اور بیٹی کی آواز سننے یا فون اور ویڈیو رابطے کی اجازت نہیں مل سکی۔ اپنی اہلیہ مشعال ملک کے نام اور بارے میں وہ اپنے بیان میں لکھتے ہیں: “I do not want you to spend the rest of your life carrying the burden of my circumstances or living as a widow. I therefore request you to find the courage to begin a new chapter of your life with dignity and hope.” اور پھر وہ ایک نہایت دردناک اور اپنی زندگی کا مشکل فیصلہ لکھتے ہیں: “Before I will be hanged, I have taken the decision to separate you from the bond of our Nikah.” یہ الفاظ کسی سیاسی نعرے کی زبان نہیں، بلکہ ایک ایسے شوہر کے الفاظ ہیں جو اپنی ممکنہ طویل قید یا موت کے تناظر میں اپنی اہلیہ کے مستقبل کے بارے میں سوچ رہا ہے۔ میں یہ الفاظ پڑہتے ہوے کانپ گیا۔۔۔۔ اپنی 13 سالہ بیٹی رضیہ سلطانہ کے نام جو لکھا میرے نزدیک وہ پوری دستاویز کے سب سے دردناک حصوں میں شامل ہے۔ بہت درد ناک “To my beloved thirteen-year-old daughter, Raziya Sultana, I wish to say that I have not heard your voice for the last eight years.” اور پھر وہ مزید لکھتے ہیں ؛ “Today, while I remain confined within my cell, I carry your memories with me every moment. In my death cell, there is only myself and your photograph.” یاسین ملک رضیہ کے لئیے مزید لکھتے ہیں: “Through your picture, I feel your presence with me twenty-four hours a day. I can only pray for your happiness, your safety and your bright future.” ان چند سطروں میں ایک باپ کی آٹھ سالہ جدائی، جیل کی تنہائی اور بیٹی کی ایک تصویر میں زندہ رہنے والی پوری دنیا سمٹ آتی ہے۔ اپنی بیٹی سے وہ اپنی والدہ کے لیے حکم کی بجاے یہ درخواست لکھتے ہیں: “I request you, my beloved daughter, to kindly call your grandmother every day for at least five minutes, so that she may feel your love, affection and support during these difficult times.” ایک باپ اپنی بیٹی سے اپنے لیے کچھ نہیں مانگ رہا۔ وہ اس سے کہہ رہا ہے کہ اپنی دادی کو روزانہ صرف پانچ منٹ فون کر لیا کرو تاکہ ایک بوڑھی ماں کو اپنی پوتی کی محبت اور سہارا محسوس ہوتا رہے۔ اب کوئ پتھر دل ہو گا جس کا یہ الفاظ پڑہتے ہوے سینہ نہ پھٹے ۔ بیانِ حلفی کا اختتام — یاسین ملک کے اپنے الفاظ اختتامی حصے میں یاسین ملک لکھتے ہیں: “No human institution can erase what actually happened. No passage of time can transform falsehood into truth. No repetition of an allegation can make it a fact.” اور پھر: “I therefore leave this affidavit not as a plea for sympathy, nor as an appeal f

About