@ruhdaan: #creatorsearchinsights #islamiccontent #quranstories

روحدان Ruhdan
روحدان Ruhdan
Open In TikTok:
Region: GB
Saturday 05 September 2026 09:53:00 GMT
249885
12588
243
485

Music

Download

Comments

sohrab9122
Sohrab912 :
جنت کا دنبہ: وہ دنبہ حضرت جبرائیل علیہ السلام جنت سے لائے تھے اور ذبح ہونے کے بعد آسمانی آگ نے اسے جلا دیا تھا، جس کا مطلب یہ تھا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی یہ عظیم قربانی اللہ کی بارگاہ میں قبول ہو چکی ہے۔
2026-09-05 18:05:26
23
adamkhanadil
★Adamkhanafghan:✔🇦🇫🇦🇫🇦🇫 :
د اسلامي روایتونو او د تفسير او حديث د کتابونو له مخې، کله چې حضرت ابراهيم (عليه السلام) د خپل زوی حضرت اسماعيل (عليه السلام) پر ځای هغه وړين پسه (ګډ) قرباني کړ، د دغه کډ غوښه بېرته د جنت نه راغلې وه او الله تعالی په خپله عظيم قدرت سره غېب کړه یا پرښتې اخیستې ده، او بېرته جنت ته وړل شوې ده. په معتبرو تفاسیرو او د صحابوو (رضي الله عنهم) او تابعينو په اقوالو کې د دې په اړه څو روایته راغلي دي: لومړی قول (اصلي او مشهور نظر): علامه ابن کثير او د تفاسيرو نورو سترو عالمانو کې راغلي چې د دغې قربانۍ غوښه نه حضرت ابراهيم (ع) خوړلې او نه حضرت اسماعيل (ع). هغه قرباني د الله تعالی په لار کې د قربانۍ لومړنی او خالص منل شوی نښه وه، نو ځکه الله تعالی هغه غوښه له دنیا څخه پورته کړه او جنت ته یې بېرته يووړه. دوهم قول: د ځينو جليل القدره تابعينو لکه ابن عباس (رض) نه روایت دی چې د هغې دورې (د ابراهيم عليه السلام د وخت) په ايمان لرونکو کې بيا دود دا و چې کومه قرباني به د الله تعالٰى په دربار کې قبوله شوه، نو له اسمانه به يوه پاکه اورنۍ شېبه/لمبه (د الله تعالى يوه رڼا) راغله او هغه قرباني به يې په مکمله توګه جلا کړه (واخیسته)، چې دا د هغې د قبولېدو نخښه وه. نو خلاصه دا ده چې د دې راغلي ګډ (پسه) غوښه چا نه ده خوړلې؛ بلکې دا د الله تعالی له لوري یوه معجزه او امتحان و، چې د حلالېدو نه وروسته یې غوښه الله تعالی پورته کړه.
2026-09-06 06:17:08
2
fida11587
Fida :
مفسرین کہتے ہے ! اس کا گوشت ابراھیم علیہ سلام اور اس کے اہل خانہ نے کھائ اور میسکینو کو کیھلایا کیونکہ یہ قربانی کا دنبہ تھا
2026-09-06 04:06:39
4
muhmood330
Muhmood {{{$}} :
ارمان چی مرگ نہ وے 😭
2026-09-05 19:13:14
9
zu1066
zk :
اسلامی روایات اور مفسرین کی تفصیلات کے مطابق، حضرت ابراہیم علیہ السلام نے حضرت اسماعیل علیہ السلام کے فدیے کے طور پر جس مینڈھے (یا دنبے) کی قربانی دی تھی، اس کے گوشت سے متعلق تین اہم آراء ملتی ہیں: * فرشتوں اور اہل زمین نے مل کر کھایا: روایت ہے کہ اس مبارک مینڈھے کے گوشت کو حضرت ابراہیم علیہ السلام، حضرت اسماعیل علیہ السلام، حضرت سارہ علیہا السلام اور ان کے ساتھ موجود لوگوں نے کھایا۔ چونکہ یہ اللہ کی طرف سے بھیجی گئی ایک خاص قربانی تھی، اس لیے اسے مبارک سمجھ کر باقاعدہ پکا کر تناؤل کیا گیا۔ * آسمانی آگ کا نازل ہونا: بعض قدیم تفاسیر اور سابقہ امتوں کے طریقے کے مطابق یہ بیان کیا جاتا ہے کہ اس دور میں مقبول قربانی پر آسمان سے ایک آگ نازل ہوتی تھی جو اسے جلاتی یا قبول کر کے غائب کر دیتی تھی۔ اس رائے کے تحت گوشت انسانوں نے نہیں کھایا بلکہ آسمانی آگ اسے قبول کر کے لے گئی۔ * پرندوں اور درندوں کی خوراک بنا: ایک قول یہ بھی ملتا ہے کہ قربانی کے بعد اس کا گوشت وہاں کے مقامی پرندوں اور جانوروں نے کھایا۔ ان تمام آراء میں سے پہلی رائے (کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام اور ان کے اہل خانہ نے اس بابرکت گوشت کو پکایا اور کھایا) کو بیشتر مفسرین اور علما نے زیادہ ترجیح دی ہے، کیونکہ اسلام میں قربانی کے گوشت کو خود کھانا اور دوسروں کو کھلانا ایک سنتِ ابراہیمی کے طور پر قائم ہوا۔ (نوٹ: قرآن کریم میں اس واقعے کی وضاحت میں "وَفَدَيْنَاهُبِذِبْحٍ عَظِيمٍ" [اور ہم نے ایک بڑا ذبیحہ اس کے فدیے میں دے دیا] کا ذکر تو آتا ہے، لیکن گوشت کے استعمال کی صریح تفصیل قرآن میں نہیں، بلکہ یہ تفصیلات اسلامی تاریخ اور تفاسیر کی روایات سے حاصل ہوتی ہیں)
2026-09-05 20:10:37
5
suleman_khan_02
Khan G :
2026-09-05 19:20:53
15
subhan83113
سبحان۔ مسافر یم :
حضرت ابراہیم علیہ السلام والی قربانی کا گوشت؟ اللہ تعالیٰ نے جنت سے جو مینڈھا بھیجا تھا، اس کی قربانی کے بعد اس کا گوشت حضرت ابراہیم علیہ السلام اور ان کے گھر والوں نے کھایا اور غریبوں میں بھی تقسیم کیا۔ اور اسی سے ہمارے لیے قربانی کا طریقہ بنا۔ اسلام میں قربانی کے گوشت کے *3 حصے* کرنے کا حکم ہے: *1. ایک حصہ* اپنے گھر والوں کے لیے *2. ایک حصہ* رشتہ داروں اور دوستوں کے لیے *3. ایک حصہ* غریبوں اور مسکینوں کے لیے
2026-09-05 18:40:50
12
55waqas55
✿ Wᴀǫᴀs Aʜᴍᴀᴅ ✿ :
یہ تو میں نے بھی ابھی سوچھا کہ وہ بھیڑ کس نے کھایا💞🥰😳
2026-09-05 10:37:17
7
user86914591m
⚔️ ✦Abu O S A M A ✦ ⚔️ :
سورۃ الصافات، آیت 107: وَفَدَيْنَاهُبِذِبْحٍ عَظِيمٍ ترجمہ: "اور ہم نے اسے ایک عظیم قربانی کے ذریعے فدیہ دے دیا۔" یعنی اللہ تعالیٰ نے حضرت اسماعیلؑ کے بدلے ایک عظیم قربانی عطا فرمائی۔
2026-09-05 20:53:40
1
ak47...p.k
R Ajnabi :
حضرت ابراہیمؑ نے حضرت اسماعیلؑ کی جگہ جو مینڈھا قربان کیا تھا، اس کے گوشت کے بارے میں قرآن یا کسی صحیح حدیث میں یہ نہیں ملتا کہ کس انسان نے اسے کھایا۔ البتہ بعض تفسیری روایات میں ذکر ہے کہ اس مینڈھے کا باقی گوشت درندوں اور پرندوں نے کھایا۔ � Banuri +1 ایک دوسری روایت میں یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ سابقہ امتوں میں قربانی قبول ہونے کی علامت آسمانی آگ کا آکر قربانی کو جلا دینا تھا۔ � Banuri لہٰذا قطعی جواب: یہ معلوم نہیں کہ حضرت ابراہیمؑ یا حضرت اسماعیلؑ نے اس کا گوشت کھایا تھا۔ زیادہ سے زیادہ تفسیری قول یہ ہے کہ درندوں اور پرندوں نے ک
2026-09-05 22:23:22
2
fakhrialam081
" 🌸 FAKHRI _ALAM 🦋 " :
یہ چراٹ ہمارے گاؤں میں ہے اپ میں سے کسی نے چراٹ دیکھا ہے
2026-09-05 18:22:55
1
aftabalishah72
aftab ali shah :
اسلامی روایات اور تفاسیر (جیسے ابن کثیر اور دیگر معتبر کتبِ تفسیر) کی روشنی میں، حضرت ابراہیم علیہ السلام نے جب حضرت اسماعیل علیہ السلام کی جگہ جنت سے آئے ہوئے دنبے (مینڈھے) کو ذبح کیا، تو اس دنبے کے گوشت کا کیا ہوا اور اسے کس نے کھایا، اس کے بارے میں دو بنیادی آراء اور روایات ملتی ہیں: * عام روایت (گوشت پکایا اور کھایا گیا): اکثریت روایات کے مطابق، اس دنبے کو باقاعدہ ذبح کیا گیا اور اس کا گوشت حضرت ابراہیم علیہ السلام، حضرت اسماعیل علیہ السلام اور ان کے گھر والوں نے خود بھی تناول فرمایا اور دیگر لوگوں (غریبوں و فقراء) میں بھی تقسیم کیا گیا۔ کیونکہ یہ قربانی زمین پر انسانوں کے لیے ایک سنت اور کھانا بن کر آئی تھی، لہٰذا اس کا استعمال عام قربانی کے گوشت کی طرح ہی ہوا۔ * قدیم اقوام کی قربانی کی روایت (آسمانی آگ): کچھ مفسرین بنی اسرائیل یا قدیم انبیاء کے دور کے احکام کا حوالہ دیتے ہوئے بیان کرتے ہیں کہ اس دور میں قبول ہونے والی قربانیوں پر آسمان سے ایک پاکیزہ آگ نازل ہوتی تھی جو اس قربانی کو جلا کر ختم کر دیتی تھی، جو اس کے قبول ہونے کی علامت ہوتی تھی۔ تاہم، اکثریت مفسرین کی رائے یہی ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی یہ قربانی امتِ مسلمہ کے لیے قیامت تک کی سنت بنی، اس لیے اس کا گوشت استعمال کیا گیا۔ خلاصہ یہ ہے کہ دنبہ واپس جنت میں نہیں گیا، بلکہ اسے ذبح کر کے اس کا گوشت حضرت ابراہیم علیہ السلام اور ان کے ساتھ موجود لوگوں نے کھایا اور تقسیم کیا۔
2026-09-06 07:05:49
1
sheikh0.7
🎭ٵ̍بـن نـ؏ـٻـم🎭 :
دہ جانان خندا نہ زار🥰😳
2026-09-06 04:22:01
1
saidrahim072
keeta :
دا مولانا بجلی گھر نہ دے
2026-09-06 07:31:49
0
elam.khan30
Elam Khan :
2026-09-06 02:57:41
0
shafahad059
shafahad :
جنت کا جانور: وہ دنبہ جنت سے لایا گیا تھا۔ اسلامی عقیدے کے مطابق جنت کی اشیاء پر دنیا کی آگ اثر نہیں کرتی، اس لیے اس گوشت کو پکایا نہیں جا سکتا تھا۔ پرندوں اور درندوں نے کھایا تھا
2026-09-06 05:32:32
0
711wazir
⛓️🅼🆄🅽🅸🆁✌️🆆🅰🆉🅸🆁⛓️ :
وہ گوشت مرغو نے کھایا اور اس کا سینگ خانہ کعبہ(مسجد خرام )کے اوپر رکھا تھا ۔ خانہ کعبہ تقریباً 10 شہید ہوئے اور پھر بناۓ اس میں گوم ہو گیا یہ واقع تفصیلی جلالین علم کا ایک کتاب ہے اس میں بہت وضاحت کے ساتھ آیا ہے
2026-09-06 01:45:43
2
noonejfr
لاروئ :
د غوښو د خوړلو باره کی نه په قران کی څه شته او نه په صحیحو احادیثو کي که څوک وایی فلانیانو وخوعړه بالکل به اسرائیلیات وي
2026-09-05 19:29:46
3
smart_malang
🇦🇪 T O X I C 🇵🇰 :
karghanoo khuwrali v
2026-09-05 19:51:56
1
user934139956
Naben :
بایبل دے کھنی پڑیگی
2026-09-06 04:12:22
0
To see more videos from user @ruhdaan, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos


About