@mr.baloch633: تشریح یہ جملہ خود اعتمادی، خود انحصاری اور حقیقت پسندانہ سوچ کا اظہار ہے۔ زندگی کے سفر میں ہر شخص کو ساتھ لے کر چلنا ضروری نہیں ہوتا، کیونکہ ہر انسان کی اپنی ترجیحات، مفادات اور راستے ہوتے ہیں۔ کچھ لوگ سفر کے آغاز میں بہت حوصلہ دیتے ہیں، مگر وقت گزرنے کے ساتھ اُن کا ساتھ کم ہو جاتا ہے۔ "اکیلے چلنا" یہاں تنہائی اختیار کرنے کے بجائے اپنے فیصلوں اور مقصد کی ذمہ داری خود لینے کی علامت ہے۔ جب انسان دوسروں کے سہارے کا انتظار نہیں کرتا تو اُس کے قدم زیادہ مضبوط اور راستہ زیادہ واضح ہو جاتا ہے۔ تاہم اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہر ساتھ دینے والا بے وفا ہوتا ہے۔ اصل پیغام یہ ہے کہ اپنی منزل کے لیے کسی کے سہارے پر مکمل انحصار نہ کرو۔ کوئی ساتھ دے تو قدر کرو، مگر اُس کے چلے جانے سے اپنا سفر مت روکو۔ مختصر مفہوم: اپنی منزل کے لیے خود پر بھروسہ رکھو؛ ساتھ مل جائے تو خوشی ہے، مگر ساتھ چھوٹ جائے تو سفر ختم نہیں ہونا چاہیے۔ دل کی بات: ہم نے تنہائی کو کمزوری نہیں بنایا، اسے اپنی رفتار بنا لیا؛ اب کوئی ساتھ چلے یا راستے میں رک جائے، سفر جاری رہے گا۔ #Fidaa #Baloch #poetrycommunity #urdupoetry #foryoupage