@user124.456.2: کس یقین سے کہا تھا تم نے کبھی ساتھ نہیں چھوڑوں گا اور ہم نے بھی آنکھیں بند کر کے مان لیا تھا لگا تھا یہ وعدے پتھر پر لکھی لکیر ہیں مٹیں گے نہیں وقت گزرا... راستے بدل گئے... لوگ بدل گئے پر وہ ایک جملہ آج بھی دل کے کسی کونے میں رکھا ہے جب دنیا بہت شور کرتی ہے نا تو ہم آنکھیں بند کرتے ہیں اور وہی قصہ خود کو سناتے ہیں پھر بے اختیار ہونٹوں پر مسکراہٹ آ جاتی ہے اور آنکھوں میں نمی کیونکہ جھوٹا ہی سہی، تھا تو اپنا وعدہ نا لوگ کہتے ہیں بھول جاؤ پر بھلا وہ کیسے بھولیں جو زخم دے کر بھی دوا لگتا ہو 💬