@gujarkhannews24: 6 ستمبر 1965 رات گہری ہو چکی تھی۔ لاہور سو رہا تھا… مگر لاہور کے جنوب مشرق میں، برکی کی طرف، ایک ایسی رات شروع ہو چکی تھی جس کی صبح پاکستان کی تاریخ کا حصہ بننے والی تھی۔ چند گھنٹے پہلے تک یہاں عام زندگی تھی۔ کھیت تھے، راستے تھے، خاموش بستیاں تھیں۔ پھر اچانک سرحد کے پار سے توپوں کی آواز گونجی۔ اور خاموشی ٹوٹ گئی۔ بھارتی فوج نے رات کے پچھلے پہر مختلف راستوں سے بین الاقوامی سرحد عبور کرکے لاہور کی طرف پیش قدمی شروع کر دی تھی۔ برکی ان اہم راستوں میں سے ایک تھا جہاں سے حملہ آور دستے BRB نہر تک پہنچنے اور لاہور کے دفاع کو دباؤ میں لانے کی کوشش کر رہے تھے۔ رات کے اندھیرے میں فوجی گاڑیاں آگے بڑھ رہی تھیں۔ دور کہیں انجنوں کی آواز سنائی دیتی۔ پھر اچانک… ایک دھماکہ۔ اس کے بعد دوسرا۔ اور پھر توپوں کی مسلسل گھن گرج۔ برکی کا محاذ جاگ چکا تھا۔ دفاع کرنے والے فوجیوں کے لیے یہ عام جنگ نہیں تھی۔ ان کے پیچھے لاہور تھا۔ اور ان کے سامنے ایک ایسی فوج تھی جو عددی اور جنگی وسائل میں بڑی طاقت رکھتی تھی۔ اصل ہدف صرف برکی نہیں تھا۔ BRB نہر اس پورے دفاعی نظام کی ایک انتہائی اہم رکاوٹ تھی۔ لاہور کی طرف بڑھنے والی بھارتی پیش قدمی کو اس نہر کے دفاع نے ایک بڑی مشکل میں تبدیل کر دیا۔ رات گزرتی رہی۔ گولہ باری جاری رہی۔ مورچوں میں بیٹھے سپاہی ہر لمحے اگلے حملے کا انتظار کر رہے تھے۔ مگر اس رات شاید کسی کو اندازہ نہیں تھا کہ آنے والے دنوں میں یہی زمین ایک ایسے افسر کا نام ہمیشہ کے لیے یاد رکھے گی جسے بعد میں پاکستان کا سب سے بڑا عسکری اعزاز ملنا تھا۔ میجر راجہ عزیز بھٹی۔ وہ برکی کے علاقے میں ایک کمپنی کمانڈ کر رہے تھے۔ جب شدید حملے شروع ہوئے تو انہوں نے اپنی اگلی پوزیشن کے جوانوں کے ساتھ رہنے کا فیصلہ کیا۔ یہ فیصلہ آسان نہیں تھا۔ کیونکہ سامنے توپیں تھیں۔ ٹینک تھے۔ مسلسل فائرنگ تھی۔ اور پیچھے لاہور تھا۔ اگلے دنوں میں برکی کا محاذ جہنم کا منظر بن گیا۔ بھارتی فوج نے برکی کی طرف پیش قدمی جاری رکھی جبکہ پاکستانی فوج نے BRB نہر کے دفاع کو مضبوط کیا۔ میجر عزیز بھٹی مسلسل اپنے جوانوں کے ساتھ موجود رہے۔ پاکستانی عسکری تاریخ کے مطابق انہوں نے پانچ دن اور پانچ راتیں دشمن کی شدید فائرنگ، توپ خانے اور ٹینکوں کے سامنے دفاع منظم کیا۔ لیکن 6 ستمبر کی وہ پہلی رات… وہ صرف آغاز تھا۔ اصل قیامت ابھی باقی تھی۔ رات کے سناٹے میں کبھی توپ کا گولہ آسمان چیرتا اور زمین پر آ گرتا۔ کبھی مشین گنوں کی آواز اندھیرے کو چاک کر دیتی۔ اور کبھی چند لمحوں کے لیے مکمل خاموشی چھا جاتی۔ ایسی خاموشی جس کے بعد ہر سپاہی جانتا تھا… اگلا حملہ پہلے سے زیادہ شدید ہوگا۔ 7 ستمبر کے بعد برکی کے گرد لڑائی مزید تیز ہوگئی۔ پیدل فوج کے ساتھ ٹینک اور توپ خانہ بھی میدان میں آ گئے۔ اب برکی صرف ایک مقام نہیں رہا تھا۔ یہ لاہور کے دفاع کی ایک اہم جنگ بن چکا تھا۔ اور پھر وہ دن بھی آیا جب دشمن کی فائرنگ کے درمیان میجر عزیز بھٹی نے نہر کے دفاع کو منظم کرتے ہوئے اپنے جوانوں کو مسلسل مقابلہ کرنے کی ہدایت کی۔ وہ کئی دن تک اسی آگ میں کھڑے رہے۔ آخرکار ایک دشمن ٹینک کا گولہ ان کے قریب آ کر لگا اور وہ شہید ہوگئے۔ پاکستان نے انہیں بعد از شہادت نشانِ حیدر سے نوازا۔ برکی کی لڑائی چند گھنٹوں کی جنگ نہیں تھی۔ 6 ستمبر کی رات صرف پہلا باب تھا۔ اس کے بعد کئی دن تک توپیں گرجتی رہیں، ٹینک آگے بڑھتے رہے، مورچے بدلتے رہے اور نہر کے کنارے خون بہتا رہا۔ بالآخر 11 ستمبر تک برکی بھارتی فوج کے قبضے میں چلا گیا، لیکن لاہور کی طرف فوری پیش قدمی اس انداز میں نہ ہو سکی جس کی امید حملہ آور قوتوں نے ابتدا میں کی تھی۔ اور شاید یہی وجہ ہے کہ 6 ستمبر کی رات برکی کو یاد کرتے ہوئے صرف ایک سوال ذہن میں آتا ہے۔ اس رات برکی میں کیا ہوا تھا؟ جواب بہت سادہ ہے۔ ایک خاموش سرحدی علاقہ اچانک جنگ کا میدان بن گیا تھا۔ کچھ سپاہی اپنے مورچوں میں تھے۔ سامنے دشمن تھا۔ پیچھے لاہور۔ اور درمیان میں BRB نہر۔ رات گزر گئی… لیکن برکی کی زمین پر شروع ہونے والی وہ جنگ کئی دن تک ختم نہ ہوئی۔ اور تاریخ نے ان مورچوں میں کھڑے ایک نام کو ہمیشہ کے لیے محفوظ کر لیا… میجر راجہ عزیز بھٹی شہید۔ 6 ستمبر کی وہ رات ختم ہو گئی تھی۔ مگر برکی کی کہانی ابھی شروع ہوئی تھی۔