مریم نواز صاحبہ کہتی ہیں کہ مجھے پڑوسی ملک سے اتنا خطرہ نہیں جتنا پڑوسی صوبے خیبر پختونخوا سے ہے بس ایک سوال ہے اگر خیبر پختونخوا سے اتنا ہی خطرہ ہے تو پھر خیبر پختونخوا کے وسائل سے پنجاب کو خطرہ کیوں نہیں؟ خیبر پختونخوا کی گیس چاہیے اس سے چلنے والی صنعتیں چاہیے، اس کے دریاؤں سے پیدا ہونے والی بجلی چاہیے اس کے جنگلات اور معدنی وسائل چاہیے اس کے ماربل گرینائٹ چونا پتھر جپسم اور دیگر معدنیات چاہیےان سب سے تو کوئی خطرہ نہیں؟ خیبر پختونخوا پاکستان کے بڑے ہائیڈرو پاور پوٹینشل کا حامل صوبہ ہے اور معدنی وسائل سے بھی مالا مال ہے خاص طور پر خیبر پختونخوا کا ماربل اور دیگر معدنی پتھر پنجاب سمیت پورے ملک کی تعمیراتی صنعت میں استعمال ہوتے ہیں جس سے وہاں کاروبار اور روزگار پیدا ہوتا ہے یعنی جس صوبے سے گیس بجلی اور خام مال ملے وہ صوبہ خطرہ ہے لیکن اس کے وسائل سے فائدہ اٹھانا خطرہ نہیں؟ اصل بات یہ ہے کہ خیبر پختونخوا پاکستان کا دشمن نہیں بلکہ پاکستان کا حصہ ہے پنجاب اور خیبر پختونخوا ایک دوسرے کے دشمن نہیں بلکہ ایک دوسرے کی معیشت سے جڑے ہوئے ہیں اگر واقعی خیبر پختونخوا سے خطرہ ہے تو پھر اس کے وسائل سے فائدہ اٹھانا بھی بند کر دیں اور اگر اس کے وسائل سے فائدہ اٹھانا ضروری ہے تو پھر خیبر پختونخوا کے عوام کو بھی برابر کا پاکستانی سمجھیں ان کے وسائل حقوق اور عزت کی بات کریں صوبوں کے درمیان نفرت پیدا کرنا سیاست ہو سکتی ہے لیکن پاکستان اس سے مضبوط نہیں ہوتا۔