@usmanahmed4772: نیند اب پہلی جیسی کہاں رہی، جس میں خواب آیا کرتے تھے۔۔۔ اب تو تھکاوٹ سلاتی ہے اور ذمہ داریاں اٹھاتی ہیں۔ کبھی رات ہوتے ہی آنکھیں خوابوں سے بھر جاتی تھیں، مستقبل کے حسین منظر ذہن میں سجا کرتے تھے۔ چھوٹی چھوٹی خواہشیں بھی بڑی خوشی دے جاتی تھیں اور نیند، سکون کا دوسرا نام ہوا کرتی تھی۔ مگر وقت کے ساتھ زندگی بدل گئی۔ اب آنکھیں بند ہوتی ہیں تو خواب نہیں، دن بھر کی تھکن سامنے آتی ہے۔ ذہن میں ادھورے کام، بڑھتے ہوئے اخراجات، گھر کی فکر، اپنوں کی ذمہ داریاں اور آنے والے کل کا خوف گردش کرتا رہتا ہے۔ اب نیند بھی شوق سے نہیں آتی، بس جسم ہار جاتا ہے۔۔۔ اور انسان سو جاتا ہے۔ کتنا عجیب سفر ہے زندگی کا؛ بچپن میں جلدی سونے کی فکر ہوتی تھی، جوانی میں نیند کے لیے وقت نہیں ملتا، اور پھر ایک وقت آتا ہے جب نیند مل بھی جائے تو سکون نہیں ملتا۔ شاید یہی بڑا ہونے کی سب سے خاموش قیمت ہے— کہ انسان مسکرانا سیکھ لیتا ہے، مگر اندر کی تھکن کسی کو دکھائی نہیں دیتی۔ ہم سب کے اندر کہیں نہ کہیں وہ شخص آج بھی زندہ ہے جو بے فکری سے خواب دیکھا کرتا تھا۔۔۔ بس ذمہ داریوں نے اسے اتنا تھکا دیا ہے کہ اب وہ خواب بھی قسطوں میں دیکھتا ہے۔