@permanent_lock7: یری سانسوں کی آخری قسم... تم اور صرف تم اسپتال کے سفید اور سرد کمرے کی کھڑکی سے باہر بارش مسلسل برس رہی تھی، جیسے آسمان بھی کسی کی جدائی میں نڈھال ہو کر رو رہا ہو۔ دل کی مشین کی مدہم 'بیپ... بیپ...' کی آواز اس خاموشی کو چیر رہی تھی جو خالد کے بستر کے اردگرد پھیلی ہوئی تھی۔ خالد کی سانسیں اب بہت چھوٹی اور تھکی ہوئی تھیں، اور اس کی آنکھیں بس ایک ہی تصویر کو ڈھونڈ رہی تھیں—وہ تصویر جو اس کے دل میں بسی ہوئی تھی، فاطمہ کی۔ زندگی نے خالد کو اس موڑ پر لا کھڑا کیا تھا جہاں جسم کا ایک ایک عضو جواب دے رہا تھا۔ اس کے دوست، رشتہ دار سب خاموش سر جھکائے کھڑے تھے، کیونکہ وہ جانتے تھے کہ اب واپسی کا کوئی راستہ نہیں۔ مگر خالد کے چہرے پر ایک عجب سا سکون تھا، وہ سکون جو صرف سچی محبت کرنے والوں کو مرتے وقت ملتا ہے۔ اس کے ہاتھ میں فاطمہ کا دیا ہوا وہ پرانا رومال تھا جس پر اب بھی اس کے مہکتے عطر کی خوشبو باقی تھی۔ فاطمہ کچھ دیر پہلے ہی ہسپتال پہنچی تھی، اس کی آنکھیں رونے کی وجہ سے بالکل سرخ ہو چکی تھیں اور جسم کانپ رہا تھا۔ وہ آگے بڑھی اور اپنا کانپتا ہوا ہاتھ خالد کے کمزور ہاتھوں پر رکھ دیا۔ خالد نے اپنی مدہم اور بو جھل پلکیں اٹھائیں، اور فاطمہ کو دیکھتے ہوئے اس کے لبوں پر ایک ہلکی سی تکلیف دہ مسکراہٹ ابھری۔ اس نے اپنی آخری طاقت جمع کی اور فاطمہ کے ہاتھ کو ہلکا سا دبا کر ایک ایک لفظ مشکل سے ادا کیا: "فاطمہ... میری جان! وقت قریب آ گیا ہے کہ میرا یہ جسم مٹی میں مل جائے۔ سب کچھ مٹ جائے گا... میری یہ سانسیں، میرا یہ وجود، میرا نام، سب کچھ اس دنیا سے مٹ جائے گا... لیکن تم! تم میرے وجود سے کبھی نہیں مٹو گی! میری روح کے اندر تمہاری محبت اس طرح پیوست ہے کہ موت بھی اسے اکھاڑ نہیں سکتی۔ مجھے اپنی آتی جاتی سانسوں کی قسم... مجھے تم سے اس حد تک پیار ہے کہ میری روح نکل جانے کے بعد بھی میرا ہر ذرہ تمہارا ہی نام پکارتا رہے گا..." یہ بولتے بولتے خالد کی آواز گلے میں ہی گھٹ گئی۔ اس کی پلکیں بھاری ہو کر ایک بار جھکیں تو پھر کبھی نہیں اٹھیں۔ وہ مشین جس کی آواز زندگی کا پتہ دے رہی تھی، اب ایک لمبی، گھن گرج والی سَیں میں بدل گئی۔ فاطمہ کی چیخ اس ہسپتال کی تنہائی میں گونج اٹھی۔ اس نے خالد کے بے جان سینے پر سر رکھ دیا اور پھوٹ پھوٹ کر روتے ہوئے بولی، "خالد! تم مجھے ایسے چھوڑ کر نہیں جا سکتے..." مگر اب وہاں سوائے ایک گہری خاموشی کے کچھ نہ تھا۔ دنیا کے لیے خالد کا جسم مٹ چکا تھا، لیکن وہ سچی محبت، وہ درد، اور وہ وعدہ امر ہو چکا تھا جسے وقت کا کوئی طوفان اور کوئی موت کبھی مٹا نہیں سکتی تھی۔ #foryou #growmyaccount #foryoupage #permanent_lock🔐 #شہزادی_شہزادہ👸