@mr.baloch633: تشریح یہ شعر وقت کی بے رحمی، جدائی اور زندگی کی مجبوریوں کو بیان کرتا ہے۔ انسان اپنی زندگی میں خوشیوں کے لمحے چاہتا ہے، اپنے لوگوں کے ساتھ رہنا چاہتا ہے، مگر وقت ہمیشہ انسان کی خواہش کے مطابق نہیں چلتا۔ "وقت نور کو بے نور کر دیتا ہے" سے مراد یہ ہے کہ وقت کبھی روشن اور خوشحال زندگی کو بھی مشکلات اور اداسی میں بدل دیتا ہے۔ جو لوگ آج ہنس رہے ہوتے ہیں، ضروری نہیں کہ ہمیشہ اُن کے چہروں پر مسکراہٹ رہے؛ حالات کبھی کبھی انسان کو ایسے دکھ دے دیتے ہیں جن کا اُس نے تصور بھی نہیں کیا ہوتا۔ سب سے زیادہ درد اُس وقت ہوتا ہے جب انسان کو اپنوں سے دور ہونا پڑے۔ اکثر جدائی دل کی خواہش نہیں ہوتی، بلکہ حالات، فاصلے، ذمہ داریاں یا زندگی کے فیصلے انسان کو مجبور کر دیتے ہیں۔ انسان چاہتا ہے کہ اپنے عزیزوں کے ساتھ رہے، مگر وقت کبھی اُسے ایسے راستے پر لے جاتا ہے جہاں صرف یادیں ساتھ رہ جاتی ہیں۔ مختصر مفہوم: زندگی ہمیشہ ہماری خواہش کے مطابق نہیں چلتی؛ وقت خوشیوں کو آزمائش میں اور قربت کو فاصلے میں بدل سکتا ہے۔ دل کی بات: اپنوں سے دور ہونے کا دکھ وہی جانتا ہے، جو جانتا ہو کہ فاصلے اپنی مرضی سے نہیں، وقت کی مجبوری سے آئے ہیں۔ #Fidaa #Baloch #poetrycommunity #urdupoetry #foryoupage