@quanh_1507: 2 em gái lãm làn múa @Ngc nhi🐰

Tép 🦐
Tép 🦐
Open In TikTok:
Region: VN
Sunday 06 September 2026 12:59:58 GMT
57
7
0
20

Music

Download

Comments

There are no more comments for this video.
To see more videos from user @quanh_1507, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

نفس کیسے پاک ہوتا ہے؟ آج ایک دوست سے بات ہو رہی تھی، بار بار نفس... کہ یہ نفس کو کیسے پاک کروں؟ لوگ باتوں سے نفسوں کو پاک کرتے ہیں، کبھی باتوں سے بھی نفس پاک ہوئے ہیں؟ یہ ساحل رحمان ہے، موبائل دیکھ رہے ہیں۔ جتنا مرضی منع کروں، پھر دیکھ لیں گے۔ بچے ہیں۔ اس طرح آپ مٹی میں کھیلتے تھے۔ وہ کیا اس کو کہتے ہیں؟ بنٹے کہتے ہیں، کہیں کانچے کہتے ہیں۔ کچھ اور نام ہوگا، وہ بھی آپ کھیلتے تھے۔ اخروٹ کے ساتھ آپ کھیلتے تھے۔ بچے تھے، چھوٹے تھے، تب آپ کھیلتے تھے۔ لڑکیاں گڑیا کے ساتھ کھیلتی تھیں۔ اب کھیلتے ہو آپ لوگ؟ نہیں کھیلتے ہو۔ کیوں نہیں کھیلتے؟ بڑے ہو گئے ہو آپ لوگ۔ آپ لوگ کیا ہو گئے ہو؟ بڑے ہو گئے۔ اسی طرح آپ کو باتوں باتوں میں جتنا مرضی کہوں، یہ گناہ نہیں کرنا، وہ گناہ نہیں کرنا، مجبور ہو جائیں گے، آپ کریں گے۔ یہ کب چھوٹتے ہیں؟ کب نفس پاک ہوتا ہے؟ جیسے آپ چھوٹے تھے، تو خود بڑے ہو گئے، تو وہ آپ سے عادتیں ختم ہو گئیں۔ اسی طرح جب کامل مرشد آپ کو خود پر خود روشن کر دیتا ہے، آپ کا نور و انرجی جاگ پڑتا ہے، خود بخود ہی آپ سے گناہ ہوتے ہی نہیں ہیں۔ آپ کو گناہوں سے خود بخود ہی نفرت ہو جاتی ہے۔ آج جو آپ کو باتیں اچھی لگتی ہیں، جب نور و انرجی جاگے گا، وہی باتیں آپ کو بری لگیں گی۔ کہ نور و انرجی جاگ پڑا۔ نور و انرجی نے آپ کو کیا کر دیا؟ جب آپ کا نور و انرجی بڑا ہوا، آپ کو سمجھدار ہوئے۔ اب آپ گناہ کرو گے ہی نہیں۔ آپ کا دل زنا کرنے کو کرے گا ہی نہیں۔ کیوں نہیں کرے گا؟ کیونکہ آپ کو پتا چل گیا اللہ بصیر ہے، اللہ دیکھنے والا ہے۔ کیا پھر آپ کا دل کسی انسان کے سامنے اپنے کپڑے اتارنے کو کرے گا؟ نہیں کرے گا۔ آپ اپنے کپڑے کہاں اتارتے ہو؟ جہاں آپ کو کوئی دیکھے نہ۔ آپ کسی کے سامنے گناہ کرتے ہو؟ نہیں کرتے، تا کہ آپ کو کوئی دیکھے نہ۔ آپ گناہ کرتے ہو جہاں آپ کو کوئی دیکھتا نہیں، وہاں کرتے ہو۔ لیکن جس دن آپ پر یہ حقیقت کھل گئی کہ اللہ تو بصیر ہے، اللہ تو ہمیشہ دیکھنے والا ہے۔ اللہ تو حی و قیوم ہے، زندہ اور قائم رہنے والا ہے۔ جب آپ کو یہ معرفت ہو گئی، جب آپ کو یہ پتا چل گیا، تو بتاؤ مجھے؟ آپ کو اللہ دیکھ رہا ہے، آپ کو پتا چل گیا اللہ مجھے دیکھ رہا ہے، آپ کی یہ معرفت مکمل ہے۔ آپ گناہ کرو گے؟ سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کہ آپ گناہ کرو۔ سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ یہ لوگ کیوں کرتے ہیں؟ لوگ منہ زبانی کہتے ہیں کہ اللہ بصیر ہے۔ اللہ دیکھنے والا ہے۔ اللہ حی و قیوم زبانی زبانی کہتے ہیں۔ ایکسپیرینس نہیں ہے، مشاہدہ نہیں ہے۔ حقیقی معرفت آپ کو مشاہدہ کروا دیتی ہے کہ اللہ ایسے حی و قیوم ہے۔ اللہ ایسے بصیر اور علیم ہے۔ اللہ ایسے جاننے والا ہے۔ اللہ ایسے خبیر ہے، خبر رکھنے والا ہے۔ جب یہ مشاہدہ ہو جاتا ہے، گناہ ہوتا ہی نہیں، سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ کیونکہ مجھے یہ مشاہدہ ہے۔ سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کہ میں گناہ کر سکوں۔ ایسے ظالم لوگ ہیں، ایسے نام نہاد، ظاہری مولوی، ایسے ظالم لوگ ہیں کہ اللہ کے گھر میں ہی زنا کر رہے ہیں۔ اللہ کے گھر میں ہی یہ قومِ لوط کا فعل کر رہے ہیں۔ شرم نہیں آتی۔ کیوں؟ کیونکہ انہوں نے اللہ کو زبانی زبانی مانا ہے، اللہ کی معرفت حاصل نہیں۔ جس کو اللہ کی معرفت حاصل ہوتی ہے، وہ ایسا نہیں کرتا، سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ جس کو اللہ پر یقین ہو کہ اللہ رب ہے۔ اللہ علیم ہے، اللہ دیکھنے والا ہے، اللہ خبیر ہے، اللہ سننے والا ہے، وہ کس طرح کوئی گناہ کر سکتا ہے؟ جس نے دوزخ کا مشاہدہ کر لیا، وہ کیسے دوزخ میں جانے کی تیاری کرے گا؟ سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ اور جس نے جنت کا مشاہدہ کر لیا، وہ کیسے جنت چھوڑ سکتا ہے؟ سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کہ وہ جنت کو چھوڑ دے۔ دنیا میں ایسی کون سی چیز ہے جو جنت کا نعم البدل ہو؟ سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، دنیا کی کوئی بھی ایسی چیز نہیں ہے۔ جو جنت کی کسی ایک نعمت کے برابر بھی ہو۔ جس نے جنت کو دیکھ لیا، جس نے مشاہدہ کر لیا کہ جنت میں ایسے نہریں بہہ رہی ہیں دودھ کی۔ جنت میں ایسے شہد کی نہریں بہہ رہی ہیں۔ جنت میں یہ کھانے ہیں، جنت میں یہ لباس ہیں۔ تو دنیا کی کس چیز کے بدلے میں جنت کو گروی رکھے گا؟ وہ دنیا کی کس چیز کے بدلے میں جنت کو بیچے گا؟ کسی بھی چیز کو نہیں بیچے گا۔ جسے حقیقی معرفت حاصل ہے۔ وہ جانتا ہے کہ یہ چیز ہے۔ روحانی ماسٹر سید ظہیر حسین شاہ قائم مقام سربراہ سلسلہ عالیہ چشتی صابری ظہیری اگر آپ حقیقی مرشد کی تلاش میں ہیں اور روحانی سفر کا آغاز کرنا چاہتے ہیں تو آپ کو ایک دفعہ کتاب عرفانِ خودی عرفانِ خدا (مصنف: سید ظہیر حسین شاہ) ضرور پڑھنی چاہیے۔ ممکن ہے کہ آپ کی تلاش ختم ہو جائے۔ فری پی ڈی ایف کتاب حاصل کرنے کے لیے اپنا واٹس ایپ نمبر کمنٹ کریں۔ تفصیلات بھیج دی جائیں گی۔ اور پوسٹ کو آگے شئیر کریں تا کہ کسی معرفت کے متلاشی تک پہنچ جائے۔ شکریہ
نفس کیسے پاک ہوتا ہے؟ آج ایک دوست سے بات ہو رہی تھی، بار بار نفس... کہ یہ نفس کو کیسے پاک کروں؟ لوگ باتوں سے نفسوں کو پاک کرتے ہیں، کبھی باتوں سے بھی نفس پاک ہوئے ہیں؟ یہ ساحل رحمان ہے، موبائل دیکھ رہے ہیں۔ جتنا مرضی منع کروں، پھر دیکھ لیں گے۔ بچے ہیں۔ اس طرح آپ مٹی میں کھیلتے تھے۔ وہ کیا اس کو کہتے ہیں؟ بنٹے کہتے ہیں، کہیں کانچے کہتے ہیں۔ کچھ اور نام ہوگا، وہ بھی آپ کھیلتے تھے۔ اخروٹ کے ساتھ آپ کھیلتے تھے۔ بچے تھے، چھوٹے تھے، تب آپ کھیلتے تھے۔ لڑکیاں گڑیا کے ساتھ کھیلتی تھیں۔ اب کھیلتے ہو آپ لوگ؟ نہیں کھیلتے ہو۔ کیوں نہیں کھیلتے؟ بڑے ہو گئے ہو آپ لوگ۔ آپ لوگ کیا ہو گئے ہو؟ بڑے ہو گئے۔ اسی طرح آپ کو باتوں باتوں میں جتنا مرضی کہوں، یہ گناہ نہیں کرنا، وہ گناہ نہیں کرنا، مجبور ہو جائیں گے، آپ کریں گے۔ یہ کب چھوٹتے ہیں؟ کب نفس پاک ہوتا ہے؟ جیسے آپ چھوٹے تھے، تو خود بڑے ہو گئے، تو وہ آپ سے عادتیں ختم ہو گئیں۔ اسی طرح جب کامل مرشد آپ کو خود پر خود روشن کر دیتا ہے، آپ کا نور و انرجی جاگ پڑتا ہے، خود بخود ہی آپ سے گناہ ہوتے ہی نہیں ہیں۔ آپ کو گناہوں سے خود بخود ہی نفرت ہو جاتی ہے۔ آج جو آپ کو باتیں اچھی لگتی ہیں، جب نور و انرجی جاگے گا، وہی باتیں آپ کو بری لگیں گی۔ کہ نور و انرجی جاگ پڑا۔ نور و انرجی نے آپ کو کیا کر دیا؟ جب آپ کا نور و انرجی بڑا ہوا، آپ کو سمجھدار ہوئے۔ اب آپ گناہ کرو گے ہی نہیں۔ آپ کا دل زنا کرنے کو کرے گا ہی نہیں۔ کیوں نہیں کرے گا؟ کیونکہ آپ کو پتا چل گیا اللہ بصیر ہے، اللہ دیکھنے والا ہے۔ کیا پھر آپ کا دل کسی انسان کے سامنے اپنے کپڑے اتارنے کو کرے گا؟ نہیں کرے گا۔ آپ اپنے کپڑے کہاں اتارتے ہو؟ جہاں آپ کو کوئی دیکھے نہ۔ آپ کسی کے سامنے گناہ کرتے ہو؟ نہیں کرتے، تا کہ آپ کو کوئی دیکھے نہ۔ آپ گناہ کرتے ہو جہاں آپ کو کوئی دیکھتا نہیں، وہاں کرتے ہو۔ لیکن جس دن آپ پر یہ حقیقت کھل گئی کہ اللہ تو بصیر ہے، اللہ تو ہمیشہ دیکھنے والا ہے۔ اللہ تو حی و قیوم ہے، زندہ اور قائم رہنے والا ہے۔ جب آپ کو یہ معرفت ہو گئی، جب آپ کو یہ پتا چل گیا، تو بتاؤ مجھے؟ آپ کو اللہ دیکھ رہا ہے، آپ کو پتا چل گیا اللہ مجھے دیکھ رہا ہے، آپ کی یہ معرفت مکمل ہے۔ آپ گناہ کرو گے؟ سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کہ آپ گناہ کرو۔ سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ یہ لوگ کیوں کرتے ہیں؟ لوگ منہ زبانی کہتے ہیں کہ اللہ بصیر ہے۔ اللہ دیکھنے والا ہے۔ اللہ حی و قیوم زبانی زبانی کہتے ہیں۔ ایکسپیرینس نہیں ہے، مشاہدہ نہیں ہے۔ حقیقی معرفت آپ کو مشاہدہ کروا دیتی ہے کہ اللہ ایسے حی و قیوم ہے۔ اللہ ایسے بصیر اور علیم ہے۔ اللہ ایسے جاننے والا ہے۔ اللہ ایسے خبیر ہے، خبر رکھنے والا ہے۔ جب یہ مشاہدہ ہو جاتا ہے، گناہ ہوتا ہی نہیں، سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ کیونکہ مجھے یہ مشاہدہ ہے۔ سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کہ میں گناہ کر سکوں۔ ایسے ظالم لوگ ہیں، ایسے نام نہاد، ظاہری مولوی، ایسے ظالم لوگ ہیں کہ اللہ کے گھر میں ہی زنا کر رہے ہیں۔ اللہ کے گھر میں ہی یہ قومِ لوط کا فعل کر رہے ہیں۔ شرم نہیں آتی۔ کیوں؟ کیونکہ انہوں نے اللہ کو زبانی زبانی مانا ہے، اللہ کی معرفت حاصل نہیں۔ جس کو اللہ کی معرفت حاصل ہوتی ہے، وہ ایسا نہیں کرتا، سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ جس کو اللہ پر یقین ہو کہ اللہ رب ہے۔ اللہ علیم ہے، اللہ دیکھنے والا ہے، اللہ خبیر ہے، اللہ سننے والا ہے، وہ کس طرح کوئی گناہ کر سکتا ہے؟ جس نے دوزخ کا مشاہدہ کر لیا، وہ کیسے دوزخ میں جانے کی تیاری کرے گا؟ سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ اور جس نے جنت کا مشاہدہ کر لیا، وہ کیسے جنت چھوڑ سکتا ہے؟ سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کہ وہ جنت کو چھوڑ دے۔ دنیا میں ایسی کون سی چیز ہے جو جنت کا نعم البدل ہو؟ سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، دنیا کی کوئی بھی ایسی چیز نہیں ہے۔ جو جنت کی کسی ایک نعمت کے برابر بھی ہو۔ جس نے جنت کو دیکھ لیا، جس نے مشاہدہ کر لیا کہ جنت میں ایسے نہریں بہہ رہی ہیں دودھ کی۔ جنت میں ایسے شہد کی نہریں بہہ رہی ہیں۔ جنت میں یہ کھانے ہیں، جنت میں یہ لباس ہیں۔ تو دنیا کی کس چیز کے بدلے میں جنت کو گروی رکھے گا؟ وہ دنیا کی کس چیز کے بدلے میں جنت کو بیچے گا؟ کسی بھی چیز کو نہیں بیچے گا۔ جسے حقیقی معرفت حاصل ہے۔ وہ جانتا ہے کہ یہ چیز ہے۔ روحانی ماسٹر سید ظہیر حسین شاہ قائم مقام سربراہ سلسلہ عالیہ چشتی صابری ظہیری اگر آپ حقیقی مرشد کی تلاش میں ہیں اور روحانی سفر کا آغاز کرنا چاہتے ہیں تو آپ کو ایک دفعہ کتاب عرفانِ خودی عرفانِ خدا (مصنف: سید ظہیر حسین شاہ) ضرور پڑھنی چاہیے۔ ممکن ہے کہ آپ کی تلاش ختم ہو جائے۔ فری پی ڈی ایف کتاب حاصل کرنے کے لیے اپنا واٹس ایپ نمبر کمنٹ کریں۔ تفصیلات بھیج دی جائیں گی۔ اور پوسٹ کو آگے شئیر کریں تا کہ کسی معرفت کے متلاشی تک پہنچ جائے۔ شکریہ

About