@mswriters143: یہ وہ لمحہ ہے کےجب جہاں انسان کا درد اپنی آخری حد کو چھو لیتا ہے۔ یہ حد سے زیادہ خوش اخلاقی کسی اچھائی یا صلے کی تمنا نہیں، بلکہ اس بات کا اعتراف ہے، کہ اب ہمارے اندر کسی کے رویے پر تڑپنے، روٹھنے یا شکوہ کرنے کی سکت ہی نہیں رہی۔ ہم مسکرا کر ہر کڑوا گھونٹ پی جاتے ہیں، کیونکہ دل اب مزید ٹوٹنے کے خوف سے ہی آزاد ہو چکا ہے۔ ۔سچی بات تو یہ ہے کہ جب اندر کا انسان مرتا ہے، تو کوئی دھواں نہیں اٹھتا، کوئی چیخ سنائی نہیں دیتی، اور نہ ہی کوئی ماتم ہوتا ہے۔ بس ایک چلتی پھرتی لاش ہوتی ہے جسے دنیا "بے حد سلجھا ہوا اور خوش اخلاق" انسان سمجھنے لگتی ہے۔ شکوے اور ناراضگیاں تو وہاں ہوتی ہیں، جہاں کوئی رشتہ، کوئی امید باقی ہو۔ جہاں احساس کے سارے پودے ہی جل چکے ہوں، وہاں صرف ایک گہری، ہولناک خاموشی اور ہر بات پر سر تسلیمِ خم کر دینا ہی بچتا ہے۔ یہ مسکراہٹ دراصل ہماری اپنی روح کا کفن ہے، جسے اوڑھ کر ہم روز جیتے ہیں اور روز مرتے ہیں۔ اب نہ کسی کی بے وفائی کا ملال ہے، نہ کسی کی نفرت کا گلہ، اور نہ ہی کسی کے لوٹ آنے کی آس۔ ہم دنیا کی سب سے بھیانک تنہائی کے اس مقام پر کھڑے ہیں جہاں اب کوئی درد، درد ہی نہیں لگت