وہ ایا ہے اج دنیا تھی جس کی آس لگائے ہستی کی انکھوں میں جس نے سکھ کے خواب بسائے زمانہ جس کا صدا انتظار کرتا تھا خدا بھی جس کے تصور سے پیار کرتا تھا اج صبا سے ہر اک دل میں پیار کے پھول کھلائے وہ ایا ہے حق مولا جعفر الزمان ہر دم ہووی امان العجل العجل العجل