@khizarsreflections: ہم تھریٹ نہیں، ہم ویکٹم ہیں پشتونوں کو دہ'شت گرد قرار دینے والے آج بڑی آسانی سے تاریخ بھول جاتے ہیں۔ اصل سبق کس نے دیا تھا؟ سوویت یونین کے خلاف ج'ن'گ میں امریکہ، سعودی عرب اور پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ نے مل کر ایک پوری نسل کو جہاد کے نام پر ہتھیار تھمائے، مدرسے کھولے، کتابچے چھپوائے اور نفرت کی تربیت دی۔ سی آئی اے کے پیسے، سعودی فتویٰ اور مقامی ایجنسیوں کی سرپرستی نے سرحد کے دونوں طرف ایک ایسا نیٹ ورک کھڑا کیا جسے بعد میں کنٹرول کرنا ناممکن ہو گیا۔ جو لوگ کل مجاہد تھے، انہیں ہی کل کے بعد دہ'شت گرد بنا دیا گیا جب ان کی افادیت ختم ہو گئی۔ پختونوں نے سب سے زیادہ لا'ش'یں اٹھائیں، سب سے زیادہ بے گھر ہوئے، سب سے زیادہ آپریشن سہے۔ مگر الزام ہمیشہ انہی کے سر پر ڈال دیا جاتا ہے۔ جو ریاست کل انہی علاقوں کو اسٹریٹجک ڈیپتھ بنا رہی تھی، آج وہی ریاست کہتی ہے کہ مسئلہ پشتون ہیں۔ جو سیاسی رہنما کل انہی جذبات کو استعمال کر کے اقتدار حاصل کرتے تھے، آج وہی کہتے ہیں کہ دہ'شت گردی پڑوسی صوبے سے آتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ دہ'شت گردی کی جڑیں بھی انہی لوگوں کی وجہ سے لگائیں گئی تھیں مگر الزام اس قوم پر ڈالا جا رہا ہے جسے ایندھن بنایا گیا تھا۔ تھریٹ وہ نہیں جو ب'م کا نشانہ بنا۔ تھریٹ وہ ہے جس نے کل جہاد کا سبق پڑھایا اور آج تاریخ بھول کر متاثرین کو مجرم قرار دے رہا ہے۔ . . . . . . . . #khizarsreflections #foryoupage #viralreels #PakPolitics #exploremore