Language
English
عربي
Tiếng Việt
русский
français
español
日本語
한글
Deutsch
हिन्दी
简体中文
繁體中文
API
Home
How To Use
Language
English
عربي
Tiếng Việt
русский
français
español
日本語
한글
Deutsch
हिन्दी
简体中文
繁體中文
Home
Detail
@chavaiah: Nag papapractice pa talaga ng Brazilian eh 😆 #bini #biniph #foryou #fyp #binijhoanna
🐰TouGHnuT🐰
Open In TikTok:
Region: PH
Monday 07 September 2026 08:16:59 GMT
12983
2604
7
25
Music
Download
No Watermark .mp4 (
0.58MB
)
No Watermark(HD) .mp4 (
0.89MB
)
Watermark .mp4 (
1.12MB
)
Music .mp3
Comments
Jay Jay :
Jholet 👀🫣
2026-09-07 12:02:14
0
kulaong.0 :
nag live cla sa bini cosmetics
2026-09-07 10:04:51
0
harleycanque :
😂😂😂😂 Jho mahal kita
2026-09-07 09:46:28
0
nicknickramoss :
😂😂😂
2026-09-07 13:59:44
1
KAYLIE COLE 8 :
🥰🥰🥰
2026-09-07 08:25:39
0
mikeemaru580🌈 :
🥰🥰🥰
2026-09-07 09:48:54
0
To see more videos from user @chavaiah, please go to the Tikwm homepage.
Other Videos
زجاج سيكوريت ١٢ ملي شفاف #زجاج #زجاج_سيكوريت #زجاج_سفاف #شاور
يعني ان شاء الله
Seven hours later, the trap was finally set P1 #cops #copsoftiktok #fyp #bodycam #copspolice
کراچی ملیر سٹی اور کھوکرا پار کے مختلف علاقوں میں گٹکا ماوا اور چھالیہ کی مبینہ خرید و فروخت اور سپلائی کا معاملہ ایک بار پھر توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔ مقامی ذرائع کی جانب سے دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ کھوکھراپار، ماڈل کالونی، سعودآباد اور الفلاح سمیت بعض علاقوں میں ممنوعہ اشیا کی مبینہ ترسیل کا سلسلہ دوبارہ منظم انداز میں جاری ہے۔ ذرائع کے مطابق فرحان عرف جادوگر نامی شخص مبینہ طور پر اس سپلائی نیٹ ورک میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ اطلاعات کے مطابق مذکورہ شخص گزشتہ کئی سال سے مختلف علاقوں میں گٹکا ماوا، چھالیہ اور دیگر اشیا کی مبینہ سپلائی سے وابستہ بتایا جاتا ہے۔ مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ مبینہ طور پر تیار شدہ ماوا، پیسی ہوئی پتی، مختلف اقسام کی چھالیہ اور دیگر اشیا آن لائن رابطوں کے ذریعے مختلف مقامات تک پہنچائی جا رہی ہیں۔ بعض ذرائع نے کسٹم اشیا اور ایرانی سگریٹ کی مبینہ سپلائی کا بھی دعویٰ کیا ہے۔ ذرائع کے مطابق کھوکھراپار کی محمدی مارکیٹ میں ایک دکان کے عقب میں موجود متعدد مقامات کو مبینہ طور پر چھالیہ ذخیرہ کرنے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ دعویٰ کیا گیا ہے کہ یہاں سے سامان مختلف علاقوں میں منتقل کیے جانے کی اطلاعات ہیں۔ مزید ذرائع کے مطابق غریب آباد اور اطراف کے علاقوں میں بھی بعض افراد کو مبینہ طور پر گٹکا ماوا تیار کرنے کے لیے خام مال اور چھالیہ فراہم کی جاتی ہے۔ اس سلسلے میں اسماعیل عرف مامو اور نادیہ نامی افراد کا بھی ذکر سامنے آیا ہے ذرائع کا کہنا ہے کہ گٹکا ماوا اور چھالیہ کی پابندیوں کے باوجود مبینہ سپلائی چین کا دوبارہ فعال ہونا قانون نافذ کرنے والے اداروں کی نگرانی اور کارروائیوں پر سوالات اٹھا رہا ہے۔ مقامی شہریوں کا مطالبہ ہے کہ متعلقہ ادارے مبینہ نیٹ ورک، ذخیرہ کرنے والے مقامات اور سپلائی کے ذرائع کی مکمل تحقیقات کریں اور اگر الزامات درست ثابت ہوں تو ملوث عناصر کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے۔
A film by @princegyapong_ 🇬🇭🌴🛖
About
Robot
API
Legal
Privacy Policy