Punjab Mai b Karobar ab bht mushkil hota ja rha hai
on everything Tax, Tax, tax
2026-09-07 21:02:22
2
Muhammad Alam :
good sir love you
2026-09-08 04:33:45
4
Abdul Aziz jadoon :
Nar Sarree e Rora zindabad
2026-09-07 17:33:46
2
Fazal Wali :
بھائ جان یہ نہیں چاہتے کہ کے پی کے میں کاروبار ہو۔ جان بوجھ کر کاروباری لوگوں کو یہاں سے بھگانا چاہتے ہیں۔
2026-09-07 17:04:59
21
Agro Bagro :
very sad
2026-09-08 05:53:34
2
Awais_Khan :
we wakhy pa sharika
2026-09-07 18:58:31
2
khyber one :
جس صوبے کا وزیر اعلی نہیں ہوگا اس صوبے کا یہی حال ہوگا پھر اداروں کی اپنی منمانی ہے کوئی پوچھنے والا نہیں ابھی اس بھائی کی بات یہ اپ نے سن لی وہ بھی پشتو میں سب کو پشتو سمجھ اتی ہے تو اس نے کیا کیا کہا ہے جب ادارہ پستہ ہے تو کہتا ہے یہ تو ہمارا کام ہی نہیں ہے یہ تیرا کام نہیں تو گاڑی کیوں رکوائی ہے بقاعہ اپ لوگوں نے ویڈیو دیکھی ہے
2026-09-07 11:50:58
31
M Ilyas Khan78 :
bs 804 shta kna karobar ta ho asem sok na prede guzara kwe pa 804
2026-09-07 16:06:56
29
MR_JUNAID_AHMAD :
great job
2026-09-07 18:20:33
3
Imad Khan :
Zabardast rora sta Pa rang zwanan pakar de palar dem nar wo…
2026-09-07 14:40:54
10
huhhh??? :
Mung che chala sooba ekhtyar warkarre de agha wai zama kaar 804 rakhlasol di. Nu bas jarra ma kawai yo zal bya vote warkai
2026-09-07 15:58:40
42
Gilli Khan :
اگر F B r کا کام نہیں پھر گاڑیوں روکنے کا بھی اختیار F B R . کے پاس نہیں
2026-09-07 15:47:08
11
Salman Khan :
rabandi kie py ror wifaq wala os safa safa dushmani shuror Kari da mung pokhtano Sara
2026-09-07 17:40:35
5
khanfr44 :
Bhai share ye kai
2026-09-07 16:46:22
7
Homosaphien :
kaash Pakhtunkhwa men b aik awami hakoomat hothi...
2026-09-07 16:07:03
5
Anwar Khan :
kpk taba da aw tapoos wala ye nishta
2026-09-07 12:51:22
6
BILAL Ahmad :
zabardast mamo 🥰
2026-09-07 14:00:36
6
🚩 سردار رضوان 🚩 :
basak 🥹
2026-09-07 15:57:05
5
sahargul440 :
یہ صبح تباہ و برباد ہو گیا ایف بی ار والا کی وجہ سے لوگ دل ہی نہیں کہ ہم کام کریں گے کیسے کریں گے یار دو دو بار ٹیکس ادا کرنا پڑے گا
2026-09-07 10:41:10
5
Commando battery :
یہ تو FBR کی طرف سے عام عوام پر مکمل ظلم ہے۔ 😔
عام لوگ پہلے ہی مہنگائی، بے روزگاری اور زندگی کی سخت مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں، لیکن اس کے بجائے کہ عوام کے لیے سہولتیں پیدا کی جائیں، روزانہ نئے ٹیکسوں اور مالی بوجھ کا اضافہ کیا جا رہا ہے۔
غریب اور متوسط طبقے کے لیے زندگی دن بہ دن مشکل ہوتی جا رہی ہے۔ اگر حکومت عوام سے ٹیکس وصول کرتی ہے تو اس کے بدلے جواب دہی، شفافیت اور عوام کو سہولتیں بھی فراہم کرنی چاہئیں۔ قانون اور ٹیکس کا نظام سب کے لیے یکساں ہونا چاہیے، ایسا نہیں کہ صرف عام شہریوں کو دباؤ میں رکھا جائے۔
عوام کی آواز سنی جانی چاہیے، کیونکہ عوام کے صبر کی بھی ایک حد ہوتی ہے۔