@deep.lines309: مکمل ذلیل ہو کر چھوڑا ہے ہر رشتہ میں نے، کیونکہ میں نے کبھی کسی تعلق کو پہلی تکلیف پر ختم نہیں کیا۔ ہر بار خود کو سمجھایا کہ شاید میں زیادہ سوچ رہی ہوں، شاید سامنے والا سمجھ جائے گا، شاید وقت کے ساتھ لہجہ بدل جائے گا، شاید اگلی بار میری قدر محسوس کی جائے گی۔ میں نے ہر بار تھوڑا سا اور برداشت کیا، تھوڑا سا اور خود کو خاموش کیا، اور ہر بار یہی امید رکھی کہ شاید اس رشتے کا انجام پہلے جیسا نہیں ہوگا۔ مگر عجیب بات ہے، ہر رشتہ میرے اندر سے کچھ نہ کچھ لے گیا۔ کسی نے میرا اعتماد کم کیا، کسی نے میری بے فکری، کسی نے میری نرمی، اور کسی نے لوگوں پر یقین کرنے کی عادت۔ میں باہر سے وہی رہی، مگر اندر کہیں بہت کچھ بدلتا گیا۔ اب میں کسی سے نفرت نہیں کرتی، بس خود کو وہاں دوبارہ نہیں رکھتی جہاں بار بار اپنی عزت کا ثبوت دینا پڑے۔ کیونکہ بہت رشتے نبھا لینے کے بعد یہ سمجھ آیا ہے کہ محبت اپنی جگہ، مگر خود کی عزت اور سکون بھی کوئی معمولی چیز نہیں۔ اب جو شخص مجھے سمجھنے کے بجائے مسلسل توڑتا رہے، اسے چھوڑ دینا میرے لیے بے وفائی نہیں، خود سے وفاداری ہے۔