@silsilatvpk: راولپنڈی (رپورٹ :-سلسلہ ٹی وی) انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی میں نرس پر مبینہ تشدد، نرسنگ اسٹاف کا احتجاج، مقدمہ درج راولپنڈی انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی کی ایمرجنسی میں مریضہ کے لواحقین کی جانب سے اسٹاف نرس پر مبینہ تشدد، بدسلوکی اور کپڑے پھاڑنے کی کوشش کے واقعے کے خلاف نرسنگ اسٹاف نے احتجاجاً کام چھوڑ دیا۔ اسٹاف نرس ستارہ سلیم کے مطابق وہ ایمرجنسی میں مریضوں کی دیکھ بھال میں مصروف تھیں کہ مریضہ زمین بی بی کے ساتھ موجود تین بیٹیوں کو ایمرجنسی سے باہر جانے کا کہا گیا، جس پر مبینہ طور پر تلخ کلامی شروع ہوگئی۔ نرس کا الزام ہے کہ خواتین اسے کھینچ کر مردانہ وارڈ کی جانب لے گئیں، جہاں دو نامعلوم مرد بھی ان کے ساتھ شامل ہوگئے اور مبینہ طور پر تشدد کیا۔ خواتین نے مبینہ طور پر نرس کے کپڑے پھاڑنے اور اتارنے کی کوشش بھی کی جبکہ اسے نوکری سے نکلوانے کی دھمکیاں دی گئیں۔ واقعے کے بعد نرسنگ اسٹاف نے احتجاج کرتے ہوئے کام چھوڑ دیا اور مطالبہ کیا کہ ملوث افراد کے خلاف کارروائی اور اسپتال کے عملے کو تحفظ فراہم کیا جائے۔ احتجاج کے باعث ایمرجنسی سمیت دیگر وارڈز میں مریضوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ دوسری جانب تھانہ وارث خان پولیس نے نرس ستارہ سلیم کی مدعیت میں مریضہ کی بیٹیوں اور دیگر افراد کے خلاف مقدمہ درج کرلیا۔ مقدمے میں تعزیراتِ پاکستان کی دفعات 354، 506، 186 اور 34 شامل کی گئی ہیں۔ پولیس کے مطابق ملزمان کی گرفتاری کے لیے کارروائی جاری ہے۔ احتجاج کے دوران وارث خان سرکل ایس پی عابد خان اور ایس ایچ او راجا تصدق ہسپتال پہنچے اور نرسنگ اسٹاف سے مذاکرات کیے۔ پولیس کی جانب سے قانونی کارروائی اور ملزمان کی گرفتاری کی یقین دہانی کے بعد نرسز نے احتجاج ختم کردیا۔ واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے اسپتال انتظامیہ نے تین رکنی انکوائری کمیٹی بھی قائم کردی ہے، جو سی سی ٹی وی فوٹیج اور متعلقہ اسٹاف کے بیانات کی روشنی میں واقعے کی تحقیقات کرے گی۔ پولیس اور اسپتال انتظامیہ کی جانب سے واقعے کی مزید تحقیقات جاری ہیں #rawalpindi #nurse #incident #wariskhan #police