@_takhayyul: دم مست قلندر، مست قلندر مست و مست الستی نفس مقدس اہلِ سعادت علم عمل وچ رکھنڑ سیادت چھڈّ کر ورد تے زہد عبادت نت کردے درد پرستی جے چاہیں تو قُرب حقیقی ورثہ اولویتے صدیقی ریت جنیدی رسم شفیقی بٹ ہستی وٹ ہستی سوزِ پریتاں حالِ فریدی مزہب ملت ہس توحیدی میل کچیل شکل جریدی خوش وسدا پرم دی وسطی دم مست قلندر، مست قلندر مست و مست الستی خواجہ غلام فریدؒ ـــــ ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ "نفس مقدس اہلِ سعادت" نفسِ مقدس سے مراد وہ نفس جو برائیوں، حسد، بغض اور دنیاوی لالچ سے پاک ہو چکا ہو۔ اہلِ سعادت سے مراد وہ لوگ جو خوش قسمت ہیں، جنہیں اللہ کی رضا نصیب ہوئی ہو۔ "علم عمل وچ رکھنڑ سیادت" وہ علم حاصل کرنے اور اس پر عمل کرنے میں سرداری(رہنمائی) رکھتے ہیں۔ اپنی زندگیوں کو اس علم کے مطابق ڈھال کر دوسروں کے لئے رہبر بنتے ہیں۔ "چھڈّ کر ورد تے زہد عبادت" ظاہری وظیفوں، تسبیحوں اور رسمی عبادتوں کو چھوڑ کر ۔۔۔ "نت کردے درد پرستی" درد پرستی سے مراد اللہ کی محبت کا درد اور مخلوقِ خدا کے دکھ درد کو محسوس کرنا۔ اپنے دل میں ہر وقت خدا کی یاد اور اس سے ملنے کی تڑپ کو زندہ رکھنا۔ اصل عبادت دل کا جھکنا ہے، صرف سر کا جھکنا نہیں۔ کائنات کی ہر شے میں اللہ کا نور دیکھنا۔ ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ "جے چاہیں تو قُرب حقیقی" اگر تم اللہ تعالیٰ کا حقیقی قرب(نزدیکی) حاصل کرنا چاہتے ہو تو ۔۔۔ "ورثہ اولویتے صدیقی" تمہیں سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی صفتِ صدیقیت اور ان کی روحانی وراثت(خلوص، سچائی اور عشقِ رسول) کو اپنانا ہوگا۔ "ریت جنیدی" اور تصوف کے امام، حضرت جنید بغدادی رحمۃ اللہ علیہ کی ریت یعنی ان کے طریقے(شریعت و طریقت کے ملاپ اور اعتدال) پر چلنا ہوگا۔ "رسم شفیقی" ساتھ ہی حضرت شفیق بلخی رحمۃ اللہ علیہ جیسے اولیاء کی رسم یعنی ان کے اندازِ توکل، زہد اور تقویٰ کو اختیار کرنا ہوگا۔ "بٹ ہستی وٹ ہستی" بٹ ہستی سے مراد اپنی انا، خودی اور تکبر کو مٹا دینا ہے، اور وٹ ہستی سے مراد اپنی ناقص ہستی کو بدل کر وجودِ حق کے رنگ میں رنگ جانا ہے۔ جب تک انسان اپنی میں کو ختم نہیں کرتا، اسے قربِ حقیقی نصیب نہیں ہوتا۔ ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ "سوزِ پریتاں حالِ فریدی" فریدؒ کا حال یہ ہے کہ وہ عشق و محبت کی آگ(سوز) میں ہر وقت تڑپتے اور مگن رہتے ہیں۔ "مذہب و ملت ہس توحیدی" ان کا اصل مذہب اور ملت صرف اور صرف توحید(اللہ کی واحدانیت اور اس سے سچی محبت) ہے۔ یعنی عشقِ حقیقی میں ڈوبنے کے بعد ظاہری تفریق ختم ہو جاتی ہے اور انسان صرف ایک خدا کا ہو کر رہ جاتا ہے۔ کائنات کی ہر چیز میں اپنے رب کے جلوے تلاش کرتے ہیں۔ "میل کچیل شکل جریدی" میل کچیل سے مراد دنیاوی مال و دولت، چمک دمک سے دوری ہے۔ اور جریدی کا مطلب دنیاوی رشتوں اور خواہشات سے آزاد۔ صوفی اپنی ظاہری حالت کو دنیا والوں کی نظر میں معمولی یا خاکسار رکھتا ہے تاکہ وہ لوگوں کی داد و تحسین اور منافقت سے بچ سکے۔ "خوش وسدا پرم دی وسطی" یعنی اندر سے آباد اور خوشحال۔ پرم کا مطلب محبت اور وسطی سے مراد بستی یا دل کا شہر ہے۔ عاشق یا صوفی کی پہچان اس کے ظاہر سے نہیں بلکہ اس کے باطن سے ہوتی ہے۔ وہ ظاہر میں فقیر لیکن باطن میں بادشاہ ہوتا ہے۔